google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
پاکستانتازہ ترین

جماعت اسلامی کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنے کی پیشکش

گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگنی چاہیے، سیاسی مسائل مذاکرات سے حل کیے جائیں: حافظ نعیم الرحمن

لاہور (بیورو چیف) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی مخالفت کی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کو پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے چھ ادوار ہوچکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف کو خود اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پرامن احتجاج پاکستان تحریک انصاف کا حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا اسد قیصر سے رابطہ ہوا ہے اور جماعت اسلامی پرامن جمہوری و سیاسی احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق معاملات ہیں تو حکومت کو پاکستان تحریک انصاف سے بات کرنی چاہیے۔

پٹرولیم لیوی پر حکومت کو تنقید

حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے تناسب سے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی مارکیٹ، پٹرولیم لیوی، ریفائنریوں کے معاملات اور پٹرول پر عائد ٹیکسز کا باہمی تعلق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہے اور عوام پر اضافی بوجھ ڈال کر اس ناکامی کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان کے مطابق پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے اور حیدرآباد میں جلسے کے بعد دھرنا بھی جاری ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان واپس آچکے ہیں، اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی لانگ مارچ شروع کرے گی۔ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کرچکی ہے۔

سود کی شرح پر بھی تنقید

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی سود سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ 2027ء میں سود ختم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ پالیسی ریٹ 11 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف جماعت اسلامی سے بات کریں یا نہ کریں، جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے پٹرول پر فی لیٹر 135 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے، جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان لیوی میں کمی اور عوامی ریلیف کے معاملے پر مذاکرات بھی ہوچکے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button