
اگلے چند روز میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی اہم بیٹھک ہونے جا رہی ہے، جس میں ون ڈے کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ آئی سی سی کا خیال ہے کہ اس طرزِ کرکٹ کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ جب سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ظہور ہوا ہے، تب سے ہی ون ڈے کرکٹ پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے تھے۔
آئی سی سی نے جو سب سے بڑا اقدام ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگز کی اجازت دے کر کیا، اس نے کرکٹ کو اس قدر زیادہ بڑھا دیا ہے کہ سال بھر میں کم از کم 8 سے 10 لیگز شروع ہو چکی ہیں۔ ان میں بھارت کی آئی پی ایل، آسٹریلیا کی بگ بش، برطانیہ کی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ اور دی ہنڈرڈ، جبکہ پاکستان کی پی ایس ایل، بنگلہ دیش کی بی پی ایل، ویسٹ انڈیز کی سی پی ایل، یو اے ای کی آئی ٹی ایل اور ایس پی ایل کے علاوہ امریکہ، کینیا اور ٹی ٹین امارات بھی شامل ہیں۔
چونکہ ریڈ بال کرکٹ ایک الگ فارمیٹ ہے، اس لیے اس پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، مگر تمام اسپانسرز اور اشتہاری کمپنیاں ون ڈے کرکٹ کے درپے ہو چکی ہیں۔ ان کا آئی سی سی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان کھیلی جانے والی باہمی (bilateral) ون ڈے سیریز پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ اسپانسرز کا خیال ہے کہ ون ڈے ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی تو ٹھیک ٹھاک کمائی دے رہے ہیں، مگر دو ملکوں کی باہمی سیریز گھاٹے کا سودا ہیں۔
آئی سی سی کا خیال ہے کہ ہم نوے کی دہائی کی طرز کی سہ فریقی (تین ملکی) ون ڈے سیریز کو دوبارہ فعال کر سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا کہ آسٹریلیا، بھارت یا برطانیہ جانے والی ٹیمیں ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے سیریز کھیلنے والی تیسری ٹیم کو بھی بلا لیتی تھیں۔ اکتوبر میں پاکستان میں بھی سری لنکا اور برطانیہ کے ساتھ تین ملکی ون ڈے سیریز کھیلی جا رہی ہے۔ اس سے اسپانسرز خوش رہتے ہیں اور تین ملکی ون ڈے کرکٹ سیریز کمائی کا اچھا ذریعہ ہیں۔
ون ڈے کرکٹ 1971ء میں شروع ہوئی تھی اور 2010ء تک ایک مقبول ترین کرکٹ فارمیٹ رہا، اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ مقبول ہونی شروع ہو گئی۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے آنے سے اوسط درجے کے کھلاڑی بھی مالا مال ہو گئے۔ دنیائے کرکٹ میں آج بھی ٹیسٹ کرکٹ مشکل ترین فارمیٹ ہے، مگر ون ڈے میں بھی ویوین رچرڈز، جاوید میانداد، وسیم اکرم، متھیا مرلی دھرن، سچن ٹنڈولکر اور شین وارن جیسے کھلاڑیوں نے اپنے جوہر دکھائے اور دنیا کو بتایا کہ ون ڈے کرکٹ بھی کرکٹ کا ایک آرٹ ہے۔
1975ء سے 1979ء تک ویسٹ انڈیز نے راج کیا اور کلائیو لائڈ جیسا عظیم کپتان ملا، پھر 1983ء میں کپیل دیو نے بھارت کے لیے ٹرافی اٹھائی، 1992ء میں عمران خان ورلڈ کپ لائے، اور پھر 1999ء کے بعد آسٹریلیا کا عہدِ کرکٹ شروع ہوا، جہاں اسٹیوا، رکی پونٹنگ، مائیکل کلارک اور پیٹ کمنز فاتح رہے۔
ون ڈے کرکٹ کرکٹ کا ایک مشکل آرٹ ہے۔ پچاس اوورز کا یہ کھیل بلے بازوں اور بولرز کا کڑا امتحان لیتا ہے۔ آئی سی سی کو اس بات کا ادراک ہے، لہٰذا وہ اشتہاری کمپنیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے بچنے کے لیے تین ملکی ون ڈے کرکٹ سیریز کے احیا کی طرف واپس لوٹ رہی ہے تاکہ اسپانسرشپ بھی ملتی رہے اور ون ڈے کرکٹ کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔



