اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان اور روس نے مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے وزارتِ داخلہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے۔
ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے، مجرموں کی حوالگی اور ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عمل درآمد کو حتمی شکل دینے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے سائبر کرائم کی روک تھام، انسدادِ منشیات کے اقدامات اور پولیس اکیڈمیوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات میں طے پایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ تعاون کے مختلف شعبوں میں عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان سے روس ہنرمند افرادی قوت بھیجنے اور سیاحوں و کاروباری طبقے کے لیے ویزا کے حصول کو آسان بنانے کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام سے متعلق معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور دیگر منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے مؤثر اور جامع اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد تک کمی حاصل کی ہے اور وہ اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
دریں اثنا، روسی وزیر داخلہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ بھی کیا، جہاں ان کی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے، سکیورٹی اداروں کے مابین ادارہ جاتی روابط بڑھانے اور بہتر ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور بالخصوص سکیورٹی کے شعبے میں ٹھوس تعاون کو وسعت دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہنے پر اظہارِ تشکر کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو اجاگر کیا۔
پاکستان اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کے ان رابطوں کو دونوں ممالک کے سکیورٹی تعاون، انسدادِ جرائم اور باہمی تعلقات میں مزید پیش رفت کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔



