
کبھی آپ نے کوئی ایسی شاندار مشین دیکھی ہے جو باہر سے بالکل نئی ہو، چمک رہی ہو، اس کے پرزے قیمتی ہوں، ڈیزائن بھی کمال کا ہو، مگر مسئلہ صرف اتنا ہو کہ اسے چلانے والا کوئی نہ ہو۔۔۔؟ مشین اپنی جگہ موجود، بجلی بھی موجود، پٹرول بھی موجود، بٹن بھی موجود۔۔۔۔ لیکن مشین چل نہیں رہی۔ مالک پریشان ہو کرمکینک کو بلاتا ہے۔ مکینک مشین کو چاروں طرف سے دیکھتا ہے، ایک لمبی سانس لیتا ہے اور کہتا ہے، جناب۔۔۔!! مشین میں خرابی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اسے چلانا کسی نے سیکھا ہی نہیں۔۔۔۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔۔ہم نے ایک ملک حاصل کیا۔ سرحدیں بنائیں، دارالحکومت بنایا، ادارے بنائے، پارلیمنٹ بنائی، عدالتیں بنائیں، دفتر بنائے، سڑکیں بنائیں، یونیورسٹیاں بنائیں، بجٹ بنائے، قوانین بنائے اور ہرچند سال بعد نئے منصوبے بھی بناتے رہے۔ بس ایک معمولی سی چیز رہ گئی۔۔۔۔ ہم یہ سیکھنا بھول گئے کہ ملک چلایا کیسے جاتا ہے۔۔۔۔؟ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔ایک طرف دنیا کے ممالک اپنی معیشت کو رفتار دے رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں، تعلیم کو آنے والی نسلوں کے لیے ہتھیار بنا رہے ہیں، اپنی عدالتوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور اپنے شہریوں کو سہولت دینے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ہم آج بھی یہ بحث کر رہے ہیں کہ اصل خرابی کہاں ہے، ذمہ دار کون ہے اور اگلی بار نظام کون سا آزمایا جائے۔۔۔۔ہمیں ہر مسئلے کا علاج ایک نئی کمیٹی، ایک نئے قانون، ایک نئے پیکیج اور ایک نئے نعرے میں نظر آتا ہے،جیسے ملک نہیں، کوئی پرانا ریڈیو ہو جس کے ہر شور پرہم اس کا ایک نیا بٹن دبا دیتے ہیں،کبھی جمہوریت کا بٹن، کبھی آمریت کا، کبھی صدارتی نظام کا، کبھی پارلیمانی نظام کا، کبھی احتساب کا، کبھی انقلاب کا۔۔۔۔ریڈیو وہیں ہے۔شور بھی وہیں ہے۔بس بٹن بدلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کچھ بنایا نہیں گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ بنایا گیا، اسے چلانے کا طریقہ ہم نے کیوں نہیں سیکھا۔۔۔؟۔۔۔اور شاید یہی وہ سوال ہے جس سے ہم سب سے زیادہ بھاگتے ہیں۔۔۔
ملک چلانا صرف حکومت بنانے کا نام نہیں ہوتا۔ ملک چلانے کے لیے ایک ایسا نظام چاہیے جو حکمران بدلنے سے نہ بدلے، ایک ایسا ادارہ چاہیے جو شخصیت کا محتاج نہ ہو، ایک ایسی عدالت چاہیے جہاں عام آدمی کو انصاف ملنے کے لیے نسلیں نہ گزارنی پڑیں، اور ایک ایسا اسکول چاہیے جہاں بچے صرف کتابیں نہ پڑھیں بلکہ اپنا مستقبل بھی پڑھ سکیں۔ہم نے مگر عجیب راستہ اختیار کیا۔ حکومت بدلی تو نظام بدل گیا، وزیر بدلا تو ترجیح بدل گئی، افسر بدلا تو فائل کا مزاج بدل گیا۔
ایک حکومت نے منصوبہ شروع کیا، دوسری نے آکر اسے روک دیا۔ ایک نے ادارہ بنایا، دوسری نے اس کا نام بدل دیا۔ یوں ملک آگے بڑھنے کے بجائے ہر چند سال بعد دوبارہ وہیں کھڑا ہوجاتا ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔دنیا میں حکومتیں بدلتی ہیں، پالیسیاں نہیں بدلیں تو ملک چلتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر حکومت کے ساتھ ملک کا موڈ بھی بدل جاتا ہے،سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم ہرناکامی کے بعد یہ ضرور کہتے ہیں کہ ’’ نظام ٹھیک نہیں ‘‘۔۔۔لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ نظام آخر ٹھیک کرے گا کون۔۔۔؟ہم نے قانون بنا دیے، مگرقانون پرعمل کی عادت پیدا نہیں کی۔
ہم نے ادارے بنا دیے، مگراداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں اپنے اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے رہے۔ ہم نے تعلیم کے بجٹ بنائے، مگر بچے اسکول سے باہر رہے۔ ہم نے معیشت کے منصوبے بنائے، مگر قرض بڑھتا گیا۔ ہم نے انصاف کے محل بنائے، مگرانصاف کی تلاش میں عام آدمی دروازے کھٹکھٹاتا رہا۔شاید ہماری اصل غلطی یہ تھی کہ ہم نے ملک بنانے کو منزل سمجھ لیا، حالانکہ ملک بنانا سفر کا آغاز تھا۔۔۔14اگست 1947 کو پاکستان ہمیں مل گیا تھا، لیکن پاکستان کو کامیاب، مضبوط اور خوشحال بنانے کا کام اسی دن شروع ہوا تھا۔
ہم نے پہلے دن ہی جشن منا لیا۔پھر شاید جشن میں اتنے مصروف ہوگئے کہ اگلا کام بھول گئے۔۔۔۔اوروہ اگلا کام تھا۔۔۔۔ اس ملک کو چلانا۔۔۔۔ملک چلانے کے لیے صرف نقشے، جھنڈے اورآئین کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے دیانت دار فیصلہ، مسلسل پالیسی، تعلیم یافتہ نسل، مضبوط ادارے اور سب سے بڑھ کر یہ احساس چاہیے کہ ریاست کسی فرد،کسی ادارے ،کسی جماعت یا کسی حکومت کی ملکیت نہیں۔۔۔۔ یہ کروڑوں انسانوں کی امانت ہے،جب امانت کو کوئی ادارہ،کوئی پارٹی ذاتی جاگیر سمجھ لے تو پھرملک چلتا نہیں، صرف چلایا جاتا ہے۔۔۔۔اوردونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔۔۔۔
ایک سادہ سا سوال ہے، آخرہم کب تک ایک ہی جگہ کھڑے ہو کرآگے بڑھنے کا اعلان کرتے رہیں گے۔۔۔۔؟ پاکستان کو کسی نئے تجربے کی نہیں، ایک درست سمت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہرچند سال بعد نیا نظام تلاش کرنے کے بجائے موجود نظام کو دیانت داری سے چلانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے ادارے چاہییں جو حکومتوں کے نہیں، ریاست کے وفادار ہوں۔ ایسی سیاست چاہیے جو اقتدار سے زیادہ ملک کی فکر کرے۔
ایسی تعلیم چاہیے جو بچوں کو صرف نوکری کا نہیں، ذمہ داری کا شعور دے،ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ملک صرف حکمران نہیں چلاتے۔ ملک استاد بھی چلاتا ہے، ڈاکٹر بھی، مزدور بھی، کسان بھی، صحافی بھی، جج بھی اور وہ عام آدمی بھی جو صبح گھر سے نکل کر شام کو تھکا ہارا واپس آتا ہے اور پھر بھی اپنے بچوں کے لیے بہتر پاکستان کا خواب دیکھتا ہے۔
پاکستان ناکام نہیں ہوا، ہم نے شاید اسے اس طرح چلایا ہی نہیں جیسے چلایا جانا چاہیے تھا۔ہم نے ملک توبنا لیا تھا،مگرراستے میں کہیں ہم یہ بھول گئے کہ ملک چلایا کیسے جاتا ہے۔اب بھی دیر نہیں ہوئی،مشین پرانی ہوسکتی ہے، پرزے بدلے جاسکتے ہیں، راستہ درست کیا جاسکتا ہے۔۔۔ اور اگر نیت صاف ہو تو ایک تھکی ہوئی قوم بھی دوبارہ چل پڑتی ہے۔۔۔۔بس اس بار ہمیں ملک کو چلانا ہوگا ۔۔۔۔پاکستان کو چلانے کیلئے ہمیں کسی معجزے کی ضرورت نہیں، صرف کچھ افراد،کچھ ادارے ملک کو ’’ ذاتی دکان ‘‘ سمجھنا چھوڑ دیں ۔۔



