اسلام آباد (ایجنسیاں، خصوصی نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فاؤنڈرز کاربن نیٹ ورک (ایف سی این) کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر آئے نیدرلینڈز کے کاروباری اور سرمایہ کار وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا، جس میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور کاروباری شراکت داری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ظہرانے میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکرٹری تجارت اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان میں دلچسپی لینے پر نیدرلینڈز کے سرمایہ کاروں کو سراہا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری حلقوں کے درمیان مسلسل روابط سے تجارتی لحاظ سے قابل عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، مشترکہ شراکت داریوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے ثمرات کو پیداواری سرمایہ کاری، سرمائے کی تشکیل، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی ترقی کے اگلے مرحلے میں برآمدات بڑھانے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے مسلسل ساختی اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا اہم ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تعاون کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ نیدرلینڈز کی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے نجی سرمایہ متحرک کرنے، جدید مہارت سے فائدہ اٹھانے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو قابل عمل تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ توقع ہے کہ کاروباری سطح پر مسلسل رابطے باہمی تعاون کے فروغ اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔



