
نسٹلجیا انگریزی کا لفظ ہے جس کا مفہوم اب عام فہم ہے لیکن ہم تو یاد ماضی ہی کہیں گے کہ انگریزی کے اس لفظ کے معنی اس پر پورے نہیں اترتے۔ شاعر نے تو یاد ماضی کو عذاب کہا اور حافظہ تو چھین لینے کی دعا کی لیکن یہ ہر یاد سے جڑی دعا نہیں ہو سکتی۔ شاعر شاید تلخ ماضی کی بات کرنا چاہتے تھے اگرچہ ماضی صرف ناخوشگوار ہی نہیں خوشگوار بھی تو ہوتا ہے اگرچہ گرما گرم موضوع مولانا فضل الرحمن کی پُرمعنی گفتگو اور کرکٹ ٹیموں کی سلیکشن بھی ہے لیکن یہ اب اتنے عام ہو گئے کہ سیر صبح کی محفل میں زیر بحث نہیں آئے وہاں ناشتہ ہی زیر غور آیا، ماضی کے حوالے سے جو عرض کیا تو دراصل یہ خود پر طاری کیفیت کے حوالے سے ہے کہ قریباً ایک ہفتے سے میں اپنے اس ماضی میں گھویا ہوا ہوں جب چوک نواب صاحب کے رفیق عرف فیقا پہلوان اور حاجی لال دین حلوائی یاد آئے اور اب تک یاد آتے چلے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ دور بھی یاد آ رہا ہے جب ہم زیر تعلیم اور لڑکے تھے یہ سب حضرات ہمارے چچا تھے ان سے پسند کی شے لینے کے لئے شور کرتے تو ڈانٹ بھی سنتے۔
قصہ یہ ہے کہ چار روز قبل میری بیٹی (بہو) شام کو گھر آئی تو اپنے ساتھ نمک پارے لیتی آئی جو مجھے بہت پسند ہیں، ذرا رکئے اس سے پہلے کہ نمک پاروں کی آمد اور ان کے اثرات کا ذکر کروں یہ عرض کروں کہ آج جو نمک پارے کہلاتے ہیں، یہ ہمارے شہر اور بچپن میں پوپٹ کہے جاتے تھے، نمک پارے تو شاید کہیں بعد میں شہر سے باہر کہلائے اور پھر پوپٹ معدوم ہو گئے اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس دور میں پوپٹ ذومنی لفظ تھا، نمک پارے تو پوپٹ تھے ہی لیکن خوبصورت اور نازک مزاج فرد کو بھی پوپٹ کہہ دیا جاتا تھا۔ ممکن ہے یہ تشبیہ نمک پاروں کی پسند کی وجہ سے ہو کہ اس دور میں جب ہم طالب علم اور بچے کہلاتے تھے تو یہ پوپٹ بہت ہی پسندیدہ مٹھائی تھی اگرچہ یہ نمکین ہوتے ہیں اور بعد میں اسی وجہ سے نمک پارے کہلائے ہوں گے۔
تمہید ذرا طولانی ہو گئی، بات تو یہ کرنا تھی کہ بیٹی نے جب ہماری پسند کی یہ شے ہمیں دی تو دیکھتے ہی حیرت کا ایک جھٹکا لگا اور بچپن کے ساتھ ہی اندرون شہر لاہور کی وہ ساری زندگی یا دآ گئی جو ہنستے کھیلتے گزاری تھی، جو نمک پارے دیئے گئے وہ بہت خستہ اور چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے تھے اور میرے سامنے یہ کئی سالوں بعد آئے کہ حالیہ دور میں بڑی سے بڑی دکان سے بھی یہ سائز،خشک اور مزے دار نمک پارے نہیں ملے تھے جہاں سے بھی لئے وہ بڑے بڑے ہوتے اور بعض ڈھیلے بھی ہوتے لیکن یہ بہت خستہ اور بالکل ویسے تھے جیسے بچپن میں فیقا پہلوان کی دکان سے لے کر کھایا کرتے تھے، میں نے عرض کیا کہ چوک نواب صاحب میں رفیق پہلوان اور حاجی لال دین کی مٹھائی کی دکانیں تھیں، صبح کا ناشتہ حلوہ پوری،سادہ اور قیمہ والا قتلمہ ملتا اور یہ سب خستہ اور دیسی گھی میں تلے ہوتے تھے۔ چھٹی کے روز یہ ناشتہ بھی چلتا تاہم روز کے معمول میں شام کے وقت جب مٹھائی کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوتا تو تازہ تازہ نکلے پوپٹ (نمک پارے) کھانے کا جو لطف تھا وہ شہر سے چلے آنے کے بعد سالوں سے اب تک نہیں آیا تھا لیکن میری بیٹی نے جو نمک پارے دیئے وہ واقعی پوپٹ تھے اور میں تین روز تک کھاتا اور لطف اندوز ہوتا رہا ہوں۔
آپ ذرا تصور کریں کہ ہمارے اس چوک نواب صاحب کی صرف یہ پوپٹ، مٹھائی اور ناشتہ ہی خصوصیت نہیں تھے بلکہ یہاں ایک دکان نان پکوڑے کی بھی تھی، چاچا کماں شام سے تھوڑی دیر پہلے ڈیرہ جماتے اور کڑاہی گرم کرلیتے، سرسوں کے خالص تیل میں پکوڑے،آلو اور بینگن تلتے، دکان پر بھیڑ ہوتی اور خریداروں کا ہجوم ہوتا، ہم بھی پکوڑے لینے آتے اور شور مچاتے تو ڈانٹ کھاتے۔ یہ پکوڑے اتنے خستہ اور لذیز ہوتے کہ ایک خاص موسم میں گھروں میں تنور کی روٹی کے ساتھ ڈنر ہوتا تھا، یوں یہ چوک شام کو پر رونق ہوتا جبکہ دن کے وقت ناشتہ ہوتا تو سامنے ہی دودھ دہی کی دکان سے لسی بھی لی جاتی، اگر پوری نہ لینا ہوتی تو پھر کلچہ لے کر دہی اور لسی سے ناشتہ ہو جاتا تھا۔
آج کل لاہور ہیری ٹیج کا بہت چرچا ہے۔ تاریخی عمارتیں بحال ہو رہی ہیں، ان کے حوالے سے تاریخ کے ورق الٹ کر کتابیں لکھی جا رہی ہیں لیکن وہ سوشل لائف (زندگی) جو اس شہر کی جان تھی اس کا ذکر نہیں ہوتا، آج کل ماڈرن اور بدیسی کھانوں کا بہت شہرہ ہے لیکن جو لطف حاجی عبدالرحمن (مقتول) کے کبابوں کا تھا وہ آج تک کہیں اور نہیں ملا۔ ان کبابوں کی خوبی یہ ہے کہ قیمے اور پیاز کا مکسچر اس قدر بہترین ہوتا ہے کہ اب سادہ بھی کھایا جائے تو مزدہ دیتا ہے اگرچہ ہم یہ کباب دیسی گھی میں تل کر کھاتے تھے دیسی گھی کے ذکر سے عرض کردوں کہ تب یہ خالص دیسی گھی تین سے چار روپے سیر کے درمیان ملتا تھا۔ وناسپتی گھی اور پکانے کے آئل کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، وہ دور ایسا تھا جب بکرے کا گوشت بھی ایک روپے کا سیر بکتا تھا، مجھے گھر سے چار آنے دے کر بھیجا جاتا اور میں چاچا قصائی کی دکان پر جا کر سلام کرتا اور ایک پاؤ گوشت مانگتا جو چار آنے میں ملتا۔ قصاب گوشت کا ٹکڑا اتار کر صاف کرتا اور پھر ترازو میں تولتا اور پلڑا گاہک کی طرف جھکا ہوتا تھا ایک پاؤ گوشت اور سبزی گھر کے لئے کافی ہوتا، آج کے دور میں ڈیجیٹل کانٹے ہیں جو دکان دار نرخ کے حساب سے سیٹ کرتا ہے تین ہزار دو سو پچاس روپے کلو کا گوشت چھیچھڑوں سمیت تولا جاتا ہے اور ڈیجیٹل کانٹا تو معمولی سی بوٹی کے بھی 25گرام گرا دیتا ہے یوں جو کلو گوشت لیا جائے وہ 850یا 800گرام ہی رہ جاتا ہے کہ صفائی کے بعد یہی صورت ہوتی ہے۔
قصہ مختصر کہ ہماری بیٹی کو لبرٹی میں جو دکان ملی اس نے مجھے میرا لڑکپن ہی یاد نہیں کرایا سارا ماحول پھر سے آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا ہے اب اس چوک میں یہ دکانیں نہیں اور وہ بزرگ اللہ کو پیارے ہو چکے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔



