انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزاسائنس و ٹیکنالوجی

سلمان خان بھی ڈیپ فیک ویڈیوز کا شکار

نئی دہلی:(ویب ڈیسک)بالی ووڈ سپراسٹار سلمان خان نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمے دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ریئلٹی شو ’بگ باس‘ کی میزبانی کے دوران سوشل میڈیا ٹرولنگ اور آن لائن دنیا میں بڑھتے خطرناک رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان خان نے بتایا کہ وہ خود بھی اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اداکار کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اتنی ترقی کرچکی ہے کہ کسی کی آواز کو کلون کرنے یا ویڈیو میں اس طرح تبدیلی کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے کہ اصل اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو تبدیل کرکے اس کے منہ سے گالی تک دلوائی جاسکتی ہے۔

سلمان خان نے کہا کہ ان کی اپنی ایسی ویڈیوز بھی بنائی جاچکی ہیں جن میں اے آئی اور وائس ڈبنگ کے ذریعے اصل مواد کو تبدیل کیا گیا۔ ان کے بقول یہ صورتحال اس لیے بھی خوفناک ہے کہ کوئی شخص صرف ویڈیو دیکھ کر یہ سمجھ سکتا ہے کہ واقعی متعلقہ شخصیت نے وہ بات کہی یا وہ کام کیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص لاعلمی میں ایسی جعلی ویڈیو کو سچ سمجھ کر آگے بڑھا دے تو یہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن جو لوگ حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ایسا مواد تیار کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

سلمان خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے افراد کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جب تک ایک آدھ شخص کو جیل نہیں بھیجا جائے گا، اس قسم کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت قانون سازی اور سوشل میڈیا پر مؤثر سنسرشپ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اداکار نے اس معاملے کو صرف مشہور شخصیات تک محدود نہ رکھنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ معروف افراد کے پاس وسائل موجود ہوتے ہیں اور وہ سائبر سیل سے رابطہ کرکے جعلی ویڈیوز بنانے والوں تک پہنچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن عام لوگوں اور ان کے خاندانوں کے پاس عموماً ایسی سہولت اور رسائی نہیں ہوتی۔

سلمان خان کے مطابق عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا جعلی مواد اور منفی پروپیگنڈا ان کی زندگیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button