پاکستانتازہ ترین

وہ گولی چلائیں گے، ہم سینے پیش کریں گے، جدوجہد آئین کے اندر رہے گی: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پشاور میں لانگ مارچ سے خطاب، گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت، صوابی میں حتمی پلان دینے کا اعلان

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رہے گی، وہ گولی چلائیں گے تو ہم اپنے سینے پیش کریں گے، ہماری کوشش ہے کہ کوئی غیر آئینی اقدام نہ کیا جائے۔

پشاور میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ باڑہ خیبر سے روانہ ہو کر پشاور پہنچا، جہاں انہوں نے حیات آباد ٹول پلازہ، بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی گیٹ، کبوتر چوک اور دیگر مقامات پر شرکا سے خطاب کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم پاکستانی تھے، پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گے، کسی کے بیانیے میں نہیں آئیں گے اور ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق انہوں نے سات مطالبات پیش کیے تھے اور چیلنج کیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک مطالبے کو غیر قانونی ثابت کیا جائے، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان سے آپریشن، ایمرجنسی اور ڈرون حملوں کی اجازت مانگی گئی، تاہم انہوں نے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے واضح پالیسی اختیار کی جائے تو ان کے بقول 100 دن میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔

حکومت کی پالیسیوں پر تنقید

مرکز میں حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے غربت، معیشت اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق مختلف دعوے بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور صنعتکار ملک سے باہر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں اور موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ موبائل سگنلز کی بندش کے باوجود لانگ مارچ میں عوام کی شرکت جاری ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کا لانگ مارچ ہے اور اس کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ پشاور کے بعد صوابی کی جانب جائے گا، جبکہ چارسدہ میں اگلا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ ان کے مطابق چارسدہ میں اصل پلان کا کچھ حصہ سامنے لایا جائے گا جبکہ صوابی پہنچ کر حتمی پلان کا اعلان کیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر کا مذاکرات اور گورنر راج پر مؤقف

دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو، تاہم اگر صورتحال اسی طرح گھمبیر رہی تو اس کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔

چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے صوبائی وزیر فضل شکور کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے صوبے میں مزید تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی ڈیڈلاک کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب حکومتی وفد گیا ہے اور امید ہے کہ وہ سیاسی صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button