جب پہلی بار ان کو دیکھا تو ایک بارعب شخصیت کے طور پر پایا۔ جب آپ وادیٔ علم میں داخل ہوتے ہیں تو گویا یہ ایک حیرت کدہ ہوتا ہے، جہاں علم و ادب کے چشمے پھوٹ رہے ہوتے ہیں اور آپ جی بھر کے اپنی پیاس مٹاتے ہیں۔ سمیع آہوجہ بھی علم و ادب کی ایک وادی کا نام تھا، بلکہ ہے کیونکہ آج وہ جسمانی طور پر بے شک ہمارے ساتھ نہیں ہیں، مگر اپنی تحریروں اور افسانوں کے ذریعے ہر وقت ہمارے ساتھ موجود رہتے ہیں۔

ان سے اب بھی ملاقات ہو سکتی ہے جیسے ان کی کتابیں ناردرن کمانڈ، پڑھ لیں بجھارتیں نگار خانوں کی، ننانوے کے پھیر میں یا کوئی بھی افسانوں کی کتاب، جو صاحبِ کتاب سے ملاقات کا ذریعہ بنتی ہے۔
ٹی ہاؤس میں پہلی بار ان کو سنا ایک لمبی تقریر تھی، مگر ایک لفظ بھی غیر ضروری نہیں تھا۔ مجھے لگا کہ علم و ادب کا ایک دریا ہے جس میں میں غوطے لگا رہا ہوں۔ جب ہم کسی گیانی کو سن رہے ہوتے ہیں تو دھیان صرف ان کی باتوں پر ہوتا ہے، وہ وقت سوال و جواب کا نہیں ہوتا کیونکہ چشمۂ علم صرف پیاس بجھانے کے لیے ہوتا ہے۔ پہلی بار میں ان کو صرف سنتا رہا، پھر اگلی چند ملاقاتیں جو ٹی ہاؤس کے بعد پرانی انارکلی کے کسی چائے خانے یا ڈھابے پر ہوئیں، تب سوال بھی پوچھے اور ان کی شخصیت کے دوسرے روپ بھی آشکار ہوئے۔

سمیع آہوجہ ایک مارکسی دانشور تھے۔ مطالعہ اس قدر وسیع تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے دنیا بھر کا گیان آدھا سمیع صاحب میں اور آدھا رشید مصباح میں موجود ہے۔ میں نے کارل مارکس کی کتاب "داس کیپیٹل” (جو کہ بہت ہی مشکل کتاب ہے) کی آسان تشریح سمیع صاحب سے سنی، تب جا کر پتہ لگا کہ اس استحصالی نظام سے نجات کا اصل راستہ کارل مارکس کی داس کیپیٹل سے کیسے نکلتا ہے۔
جیسے محمد رفیع سے کسی نے پوچھا کہ دنیا آپ کے گانے سنتی ہے، آپ کس گلوکار کے مداح ہیں؟ تو رفیع صاحب نے جواب دیا: "منا ڈے صاحب کا مداح ہوں۔ ہم عوام کے لیے گاتے ہیں، منا ڈے صاحب استادوں کے استاد ہیں۔”
اسی طرح سمیع صاحب کا فکشن بھی دانشوروں کے لیے تھا۔ ہمارے جیسے لکھنے والے تو عام قاری کے لیے لکھتے ہیں، مگر سمیع صاحب اہلِ دانش کے لیے لکھتے تھے۔ ان کا افسانہ تب تک سمجھ نہیں آتا جب تک آپ نے تاریخ، عمرانیات، فکشن اور شاعری کا وسیع مطالعہ نہ کیا ہو۔

میں روزنامہ دنیا میں ادبی صفحے کا نگران تھا، میں نے سنڈے میگزین میں سمیع آہوجہ کا افسانہ شائع کر دیا۔ میرے میگزین ایڈیٹر نے کہا: "یہ میگزین عام قارئین کا ہے، یہ افسانہ انھیں سمجھ نہیں آئے گا۔”
میں نے جواب دیا: "چلیں کوئی بات نہیں، آج سے قارئین کی ادبی تربیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔”
سمیع آہوجہ ایک ایسے ہی گیانی، عالم، فاضل ادیب، افسانہ نگار اور مارکسی دانشور تھے۔ ان کا افسانہ صرف ادبی تربیت ہی نہیں بلکہ اتہاس اور عمرانیات کے علم کے دروازے بھی کھول دیتا تھا۔ آپ کو مارکس ازم بھی پڑھنے اور سمجھنے کو مل جاتا تھا۔ ان کا مارکس ازم، جبر کے خلاف آوازِ حق اور درس و تدریس تک محدود نہیں تھا، بلکہ انھوں نے سامراج کے خلاف عملی مزاحمت بھی کر رکھی تھی۔
راقم کی سمیع آہوجہ سے بہت زیادہ ملاقاتیں نہیں ہیں، مگر جتنی بھی تھیں (لگ بھگ آدھا درجن)، وہ سیر حاصل گفتگو سے بھرپور تھیں، جن سے علم میں بہت اضافہ ہوا۔
فنِ افسانہ نگاری کو علامت نگاری کیسے بناتے ہیں، یہ آپ سمیع آہوجہ کا فکشن پڑھ کر سیکھ سکتے ہیں۔ ان کا افسانہ پڑھنے میں مشکل ضرور ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو علم کا خزانہ ہاتھ لگ جاتا ہے۔



