
انسان بھی عجیب ہے۔۔۔۔ جو چیز اس کے پاس ہوتی ہے، اسے معمول سمجھ لیتا ہے، اورجس دن وہ چھننے لگتی ہے، اسی دن معلوم ہوتا ہے کہ وہ نعمت تھی۔ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ دولت چاہیے، کامیابی چاہیے، شہرت چاہیے، بڑا گھر چاہیے، اچھا عہدہ چاہیے۔۔۔۔ خواہشوں کی ایک لمبی قطار ہے جوانسان کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔
مگراس دوڑ میں کبھی کبھی وہ تین چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں جن کے بغیر باقی سب کچھ بے معنی ہوجاتا ہے۔ایک صبح آنکھ کھلے، جسم ساتھ دے، سانس معمول کے مطابق چل رہی ہو۔۔۔ توہمیں لگتا ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔گھرمیں شورنہ ہو، دل پرکوئی بوجھ نہ ہو، رات سکون سے گزرجائے۔۔۔ توہمیں لگتا ہے یہ بھی معمول کی بات ہے۔۔۔۔اوردن کا ایک پورا حصہ ہمارے پاس موجود ہو، جس میں ہم اپنے بچوں سے بات کرسکیں، کسی اپنے کے پاس بیٹھ سکیں، کوئی خواب دیکھ سکیں۔۔۔ تو ہم اسے بھی بس ایک عام دن سمجھ کر گزاردیتے ہیں۔ہمیں شاید نعمتوں کی پہچان ہی اس وقت ہوتی ہے جب زندگی ان پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔۔۔۔
ایک دن ہسپتال کے بستر پر پڑا ہوا آدمی صرف صحت مانگتا ہے۔ایک بے چین دل رکھنے والا شخص صرف سکون کا ایک لمحہ چاہتا ہے۔۔۔۔اورجس کے ہاتھ سے وقت نکل چکا ہو، وہ دنیا کی ساری دولت دے کر بھی گزرے ہوئے ایک لمحے کو واپس نہیں لا سکتا۔تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اسے شروع ہی سے بہت کچھ دیا تھا۔۔۔ مگر وہ ان چیزوں کی قیمت پوچھتا رہا جو بازار میں ملتی تھیں، اوران نعمتوں کو بھولتا رہا جن کی کوئی قیمت لگائی ہی نہیں جا سکتی۔
صحت، سکون اور وقت۔۔۔یہ تینوں بظاہربہت معمولی لفظ ہیں، مگرشاید انسان کی پوری زندگی انہی تین نعمتوں کے گرد گھومتی ہے۔ صحت ہوتوانسان دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتا ہے، سکون ہو تو انہی خوابوں میں رنگ بھرتا ہے، اور وقت ہو تو انہیں حقیقت بنانے کا موقع ملتا ہے۔۔۔۔
صحت انسان کی وہ دولت ہے جس کا احساس اکثراسے اس وقت ہوتا ہے جب جسم جواب دینا شروع کردیتا ہے۔ جب تک قدم اپنے اختیار میں ہوں، ہاتھ کام کرتے ہوں، آنکھیں دیکھتی ہوں اور سانس بے تکلف آتی جاتی ہو، انسان کو لگتا ہے زندگی بالکل معمول کے مطابق چل رہی ہے۔مگرجسم کا معمول بھی ایک دن انسان کو خبر دیے بغیر بدل جاتا ہے۔ایک معمولی سا درد، ایک رات کی بے خوابی، ایک رپورٹ کے چند الفاظ ۔۔۔۔ اورانسان کی پوری دنیا کا مطلب بدل جاتا ہے۔
جس شخص کے لیے کل نئی گاڑی، نیا گھر یا زیادہ پیسہ زندگی کی بڑی خواہش تھا، آج وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ صبح آنکھ کھلے تو جسم ساتھ دے۔تب معلوم ہوتا ہے کہ صحت صرف بیماری سے بچنے کا نام نہیں، زندگی کو پوری طرح جینے کی آزادی کا نام بھی ہے۔صحت ہو توانسان تھکن کو تھکن سمجھتا ہے، بیماری کو نہیں۔ چلنا معمول لگتا ہے، سیڑھیاں چڑھنا معمول لگتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا، اپنے بچوں کو گلے لگانا، دوستوں کے ساتھ بیٹھنا۔۔۔
سب کچھ معمول لگتا ہے۔ہم انہی معمولی لمحوں میں اپنی سب سے بڑی دولت خرچ کر رہے ہوتے ہیں، مگر ہمیں خبر نہیں ہوتی۔دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، گھر دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، کاروبار دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔۔۔ مگر صحت کے بکھرے ہوئے لمحے ہمیشہ اسی آسانی سے واپس نہیں آتے۔شاید اسی لیے صحت نعمتوں میں پہلی نعمت ہے، کیونکہ جب جسم ساتھ چھوڑ دے تو دنیا کی بہت سی آسائشیں، آسائشیں نہیں رہتیں۔۔۔ صرف فاصلے بن جاتی ہیں۔۔۔صحت کے بعد سکون بڑی نعمت ہے،صحت ہو،سکون نہ ہو تو صحت بے معنی ہوجاتی ہے۔۔۔۔
انسان نے دنیا میں رہنے کے لیے بہت کچھ بنا لیا، مگر اپنے اندر رہنے کے لیے سکون نہ بنا سکا۔بڑے گھر ہیں، مگرنیند چھوٹی ہو گئی۔بینک اکاؤنٹ بھرگئے، مگر دل خالی رہ گئے۔لوگ اردگرد بہت ہیں، مگر انسان اپنے ہی اندر تنہا بیٹھا ہے۔سکون شاید وہ نعمت ہے جس کی کمی کا شور سب سے زیادہ خاموش ہوتا ہے۔ چہرہ مسکرا رہا ہو تو دنیا سمجھتی ہے سب ٹھیک ہے، کبھی انسان کو سکون دولت میں نظر آتا ہے، کبھی کامیابی میں، کبھی کسی خاص شخص میں۔ وہ ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف بھاگتا رہتا ہے، مگر سکون ہر بار اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ملتا ہے،پھرایک دن اسے سمجھ آتی ہے کہ سکون چیزوں کا نام نہیں۔۔۔۔ کیفیت کا نام ہے۔
وہ کیفیت جس میں انسان رات کو اپنے تکیے پر سر رکھے تو اسے اپنے ہی خیالات سے جنگ نہ کرنا پڑے۔ جس میں کسی کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ جس میں دل پر کل کا خوف اورگزرے ہوئے کل کا بوجھ نہ ہو۔سکون یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔سکون شاید یہ ہے کہ مسئلہ موجود ہو، مگرانسان اندر سے ٹوٹا ہوا نہ ہو۔صحت جسم کو زندگی دیتی ہے، مگر سکون زندگی کو جینے کا سلیقہ دیتا ہے۔۔۔۔صحت ہو،سکون ہو۔۔۔ اگروقت نہ ہو تو،پہلی دونوں نعمتیں بے کارگئیں۔۔۔
اورپھرتیسری نعمت آتی ہے۔۔۔ ’’ وقت ‘‘۔۔۔۔یہ وہ دولت ہے جو ہرانسان کو برابرملتی ہے، مگر کوئی اسے سنبھال لیتا ہے اورکوئی اسے گنوا دیتا ہے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا بے بس۔۔۔۔ صبح سب کے لیے ایک ہی وقت لے کرآتی ہے، مگر شام تک ہرشخص کے پاس بچا ہوا وقت مختلف ہوتا ہے۔دولت چلی جائے تو دوبارہ کمائی جا سکتی ہے۔ صحت خراب ہو تو علاج کیا جا سکتا ہے۔ مگر گزرا ہوا وقت۔۔۔ واپس نہیں آتا۔ہم اکثر کہتے ہیں، وقت نہیں ملا۔حالانکہ وقت سب کو ملتا ہے۔۔۔
فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اسے زندگی بنانے میں لگا دیتا ہے اور کوئی اسے انتظار، شکایت، حسد اور بے مقصد مصروفیت میں گزار دیتا ہے۔۔۔۔شاید صحت، سکون اور وقت تین الگ، الگ نعمتیں نہیں بلکہ ایک مکمل زندگی کے تین ستون ہیں۔صحت ہومگر سکون نہ ہو تو انسان اپنی ہی زندگی سے تھک جاتا ہے۔سکون ہو مگروقت نہ ہو تو نعمتیں ہاتھ میں رہ کر بھی زندگی سے دور ہو جاتی ہیں۔۔۔اوروقت ہو مگر صحت نہ ہو تو بہت سے خواب صرف خواب بن کررہ جاتے ہیں۔۔۔۔ اس لیے اگرآج صحت ساتھ ہے تو شکر کیجیے، اگر دل میں سکون ہے تو اسے سنبھالیے۔۔۔۔ اور اگر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے تو اسے ضائع نہ کیجیے۔



