بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

​ناکامی کا ذمہ دار کون۔۔۔؟

​میاں حبیب (سپیڈبریکر)

​کامیابی کے ہزاروں وارث بن جاتے ہیں لیکن ناکامی کی کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا؛ ہر کوئی ناکامی کا ملبہ دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کل تحریک انصاف کے اندر بھی عین یہی معاملہ چل رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی تمام تر ذمہ داری سہیل خان آفریدی پر ڈالی جا رہی ہے اور یہ طعنہ دیا جا رہا ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی پارٹی کو لے ڈوبی۔ کہا جا رہا ہے کہ اچھے بھلے "دہی کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے”، اول تو انھیں احتجاج شروع کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی، اور اب یہ کھوج لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے کس کے کہنے پر یہ قدم اٹھایا۔ دوسرا، جب انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی دال نہیں گل رہی، تو انھیں مذاکرات کے ذریعے کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیے تھا جس سے عزت اور حکومت دونوں بچ جاتیں۔ اب سارا ملبہ ان کے کھاتے میں ڈال کر ہر کوئی اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی تگ و دو میں لگا ہے۔

​دراصل، 9 مئی کی طرح نتائج سے بے پروا کچی پکی قیادت کے جذباتی فیصلوں نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب طوفان اور آندھی اتنی تیز ہو کہ کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو، تو ایسے موسم میں سفر جاری رکھنا حماقت کے زمرے میں آتا ہے۔ عقلمندی کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی محفوظ مقام پر بیٹھ کر موسم کی شدت کم ہونے کا انتظار کرے، اور جب حالات سازگار ہوں تبھی سفر دوبارہ شروع کیا جائے۔ اسی طرح، جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی پوری ٹیم آؤٹ ہو چکی ہے، صرف آخری کھلاڑی میدان میں باقی ہے اور آدھا میچ ابھی باقی ہے، تو ایسے میں نہ تو چھکے چوکے مارے جاتے ہیں اور نہ ہی جارحانہ انداز اپنایا جاتا ہے۔ پھر ٹپ ٹپ کر کے وقت گزارنا، گراؤنڈ میں قیام طویل کرنا اور خود کو آؤٹ ہونے سے بچانا ہی اصل اور دانا کھیل بن جاتا ہے۔

​جب تحریک انصاف کو بخوبی علم تھا کہ پورے ملک میں ان کا نام لینا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے اور خیبر پختونخوا ان کی آخری پناہ گاہ ہے، تو پھر اسے ہر قیمت پر بچا کر رکھنا ہی اصل حکمت عملی ہونی چاہے۔ بہرحال، ہونی ہو کر رہتی ہے اور ٹل نہیں سکتی؛ تحریک انصاف اپنی آخری سیاسی پناہ گاہ بھی گنوا بیٹھی ہے۔ صوبے میں تحریک انصاف کا مکمل طور پر ناطقہ بند کرنے کا پورا بندوبست کیا جا چکا ہے۔ تمام پولیس اور انتظامی افسران تبدیل کیے جا چکے ہیں، اور نئی صف بندی مکمل ہو چکی ہے۔ جتنی تیزی کے ساتھ تبادلوں اور تعیناتیوں کا ریلا آیا ہے اور جس طرح چن چن کر مشاورتی کونسل کے اراکین کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس نئے سیٹ اپ کی تیاریاں بہت پہلے سے مکمل کر لی گئی تھیں۔

​آج کل یہ طعنے بھی سننے کو مل رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ کسی صورت گورنر راج یا ایمرجنسی قبول نہیں کریں گے، مگر اب تو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایسے طعنے دینے والوں کو تاریخ کے آئینے میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی کا طوطی بولتا تھا، مگر جب ان کے ہر دلعزیز لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، تو پیپلز پارٹی کیا کر سکی تھی؟ جونیجو کی حکومت ختم کر دی گئی، کس نے کیا کر لیا تھا؟ بے نظیر بھٹو کی حکومتیں دو دو بار گھر بھیجی گئیں، اور نواز شریف کی حکومت کو تو دو تہائی اکثریت اور چاروں صوبوں کے اقتدار کے باوجود مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کیا گیا، کیا ان کی جماعتیں کچھ کر پائی تھیں؟ جب عدالتوں کے ذریعے سیاسی فیصلے کرائے گئے، تب بھی کوئی مزاحمتی تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔

​اس تناظر میں دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی تحریک انصاف کے ورکرز کو طعنے دینے کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنے چاہئیں۔ سیاست میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی؛ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے کتنے ہی سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کسی کوشعلہ نوائی کا چکمہ دے کر احتجاج میں دھکیل دینا اور پھر مصیبت میں اکیلا چھوڑ کر اس کے خلاف کارروائی کروانا کسی بھی طرح دانشمندی نہیں۔ اس کے برعکس ضرورت اس امر کی ہے کہ کارکنوں کو حوصلہ دیا جائے کہ یہاں کم و بیش سبھی کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا چلا آ رہا ہے۔ صبر کے ساتھ مشکل وقت گزارا جائے اور حالات کی سختی کے سامنے جذباتی اکڑ کی بجائے تدبر اور حکمت کے ساتھ قدم بڑھایا جائے۔ اگر ہر موڑ پر بضد ہو کر ٹکراؤ کی راہ اپنائی گئی تو کچی مٹی کی طرح توڑ دیے جاؤ گے۔

​سیاست دانوں کو ہر چوتھے دن ایسی تباہ کن صورتحال سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی متبادل راستہ ضرور ڈھونڈنا چاہیے۔ ایک ایسا متفقہ نظام واضح ہونا چاہیے جس میں سیاسی بریک نہ لگے، پہیہ رواں دواں رہے، اور ملک آگے بڑھتا رہے۔ اس میں بھی کوئی عار نہیں کہ تمام فریقین کو شریکِ اقتدار کر کے افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ جمہوریت کا حسن اسی اشتراک میں ہے کہ ضد کو چھوڑ کر مفاہمت کا دامن تھاما جائے۔

​آخر میں حقیقت یہی ہے کہ تلخیاں کتنی ہی بڑھ جائیں، سیاسی مسافتوں کا یہ سفر رکنا نہیں چاہیے ۔ حالات چاہے کتنے ہی ناساز ہوں، وقت کے ساتھ ساتھ زخم بھرتے ہیں اور راہیں نکل ہی آتی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، عجلت پسندی سے گریز کیا جائے اور بقا کے لیے تدبر کا راستہ اپنایا جائے۔ کیونکہ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔۔۔!

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button