بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تم روئے کیوں تھے ۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

کبھی کبھی آدمی کی عجیب کیفیت ہوجاتی ہے۔۔۔تنہائی اچھی لگنے لگتی ہے، خاموشی سے محبت ہوجاتی ہے، لوگوں سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا، ہرچیز سے الجھن ہونے لگتی ہے، باتیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں، محبت اور دوستی کے خوبصورت لفظ بھی دل کو نہیں چھوتے، بارش ہو رہی ہو تو کھڑکی سے دیکھنے کا بھی شوق نہیں رہتا۔ مزاح پر ہنسی نہیں آتی، شاعری اورموسیقی بھی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ جیسے اندر کا آدمی کہہ رہا ہو،مجھے ابھی کسی چیز کی ضرورت نہیں، بس خاموش رہنے دو۔۔۔

کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ آدمی کو معلوم نہیں کہ وہ پریشان ہے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر پریشانی ہے کس بات کی۔۔۔۔ ؟ دل بھرا ہوا ہوتا ہے، مگرآنکھوں میں آنسو نہیں آتے۔دماغ میں بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے، مگر زبان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔لوگ پوچھتے ہیں، کیا ہوا۔۔۔؟ اورآدمی واقعی سوچتا ہے پتہ نہیں۔۔۔۔اورسب سے عجیب بات، آدمی کو اپنی پسند کی چیزیں بھی اپنی نہیں لگتیں۔۔۔ وہ خود سے پوچھتا ہے، مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟ مگراندر سے کوئی جواب نہیں آتا۔۔۔

کبھی کبھی انسان کسی ایک دکھ سے نہیں تھکتا، وہ ان تمام باتوں سے تھک جاتا ہے جو وہ برسوں سے اپنے اندر رکھتا آیا ہے۔ کچھ باتیں کہی نہیں جاتیں، کچھ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں، کچھ لوگ دل میں رہ کر بھی زندگی سے نکل جاتے ہیں، کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے مگر ان میں پہلے جیسی زندگی نہیں رہتی، کچھ خواب آنکھوں کے سامنے ٹوٹتے ہیں اور آدمی صرف انہیں دیکھتا رہ جاتا ہے۔ پھر وہ رونا بھی چھوڑ دیتا ہے،یہاں تک کہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بہت روئے۔۔۔۔

مگر آنکھیں بھی ساتھ نہیں دیتیں۔۔۔بس ایک بوجھ ہوتا ہے،سینے میں،سانس کے ساتھ چلتا ہوا۔۔۔آدمی کام بھی کرتا ہے، لوگوں سے ملتا بھی ہے، ضرورت کے مطابق مسکراتا بھی ہے، سوالوں کے جواب بھی دیتا ہے۔۔۔ مگراندرکہیں ایک کمرہ ایسا ہوتا ہے جس کا دروازہ اس نے خود بھی بند کر رکھا ہوتا ہے،وہاں نہ کوئی جاتا ہے، نہ کسی کو جانے دیتا ہے۔۔۔اورکبھی رات کے آخری پہر، جب دنیا سو رہی ہوتی ہے اور آدمی اکیلا اپنے ساتھ رہ جاتا ہے، تو وہ اسی بند دروازے کے سامنے بیٹھ کرسوچتا ہے۔۔۔

آخرمیں اتنا اداس کیوں ہوں۔۔۔؟ کوئی بڑا حادثہ بھی تو نہیں ہوا، کوئی ایک ایسا دکھ بھی نہیں جس کی طرف انگلی اٹھا کرکہا جا سکے کہ ہاں، یہی وجہ ہے۔۔۔ پھریہ آنکھیں کیوں بوجھل ہیں۔۔۔؟ دل کیوں خاموش ہے۔۔۔؟ کسی سے بات کرنے کو کیوں دل نہیں کرتا۔۔۔؟ اورخوشی سامنے آکر بھی دروازے سے واپس کیوں چلی جاتی ہے۔۔۔؟ شاید کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی نام نہیں ہوتا، وہ صرف محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ اورانسان، انہیں محسوس کرتے کرتے ایک دن اتنا خاموش ہوجاتا ہے کہ دنیا سمجھتی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ صرف وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹا ہوا ہے۔۔۔ کیا ٹوٹا ہے۔۔۔؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتا۔۔۔

شاید انسان ہمیشہ کسی واقعے سے نہیں ٹوٹتا، کبھی کبھی وہ انتظار کرتے کرتے ٹوٹ جاتا ہے۔ کسی کے لوٹ آنے کا انتظار، کسی کے سمجھ لینے کا انتظار، کسی ایک اچھے دن کا انتظار، کسی ایسی صبح کا انتظار جب اٹھتے ہی دل ہلکا محسوس ہو۔ دن گزرتے رہتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، کیلنڈر کے صفحے پھٹتے رہتے ہیں، مگر وہ صبح نہیں آتی۔۔۔اور پھر آدمی انتظار کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے،یہ شاید ٹوٹنے کی آخری منزل ہوتی ہے۔۔۔پہلے انسان ہرچیز کا جواب چاہتا ہے۔

پھر وہ جواب نہ ملنے پر سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ پہلے کسی کی بے رخی پر دکھ ہوتا ہے، پھر بے رخی معمول لگنے لگتی ہے۔ پہلے کسی کے جانے پررات بھر نیند نہیں آتی، پھر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کسی کے جانے پر دروازے تک نہیں جاتا۔۔۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے۔۔۔’’ جانے دو ‘‘۔۔۔یہ ’’جانے دو‘‘ بہت چھوٹا سا جملہ ہے، مگر بعض لوگوں نے اسے بولنے سے پہلے اپنی پوری زندگی گزاردی ہوتی ہے۔۔۔کبھی کبھی آدمی کو کسی سے شکایت بھی نہیں رہتی۔

اسے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں نے غلط کیا، فلاں نے چھوڑ دیا، فلاں نے دھوکا دیا، فلاں نے سمجھا نہیں۔۔۔ مگر وہ اب کسی کو قصوروار ٹھہرانے کے موڈ میں نہیں ہوتا،کیونکہ شکایت کے لیے بھی توانائی چاہیے۔۔۔اوروہ توانائی ختم ہوچکی ہوتی ہے۔۔۔ پھر آدمی اپنے اندرایک عجیب سا حساب شروع کردیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں نے کس کے لیے کیا کیا، کس نے میرے لیے کیا کیا۔ کہاں میں نے خود کو سمجھایا، کہاں کسی اور کو سمجھایا۔ کہاں خاموش رہا، کہاں مسکرا کر بات ٹال دی، کہاں دل چاہا کہ کہہ دوں ’’مجھے تکلیف ہوئی ہے‘‘ مگر صرف یہ کہہ کر رہ گیا ’’ کوئی بات نہیں‘‘۔۔۔زندگی میں شاید سب سے زیادہ خطرناک جملہ یہی ہے ’’ کوئی بات نہیں ‘‘۔۔۔

کیونکہ بہت سی باتیں ہوتی ہیں، بس ہم انہیں زبان تک نہیں آنے دیتے۔۔۔ ہم اپنے بچوں کے سامنے مسکراتے ہیں، گھر والوں کے سامنے معمول کے مطابق رہتے ہیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، دفترجاتے ہیں، کام کرتے ہیں، واپسی پرراستے میں کچھ خریدتے ہیں۔۔۔۔ دنیا کو لگتا ہے زندگی چل رہی ہے، زندگی واقعی چل رہی ہوتی ہے،بس انسان خود اس کے اندرکہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی رات کو بستر پر لیٹ کر اچانک ایک بے نام سی اداسی آنکھوں میں اتر آتی ہے۔

آدمی چھت کو دیکھتا رہتا ہے۔ نہ کوئی واقعہ یاد آتا ہے، نہ کوئی خاص بات۔۔۔ بس دل بھرا ہوتا ہے۔۔۔اتنا بھرا ہوا کہ اگر کوئی آکر صرف اتنا پوچھ لے، ’’ تم واقعی ٹھیک ہو۔۔۔؟ ‘‘ تو شاید برسوں سے بند دروازہ کھل جائے،مگر ہم اکثر یہ سوال بھی نہیں کرتے۔ہم سامنے والے کی مسکراہٹ کو سچ مان لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، ’’ یہ تو بہت مضبوط آدمی ہے ‘‘۔۔۔ہمیں کیا معلوم، مضبوط دکھائی دینے والے لوگ کبھی کبھی صرف اس لیے مضبوط دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ٹوٹنے کا فن کسی سے چھپا رکھا ہوتا ہے۔۔۔۔

کبھی کبھی آدمی لوگوں سے اس لیے دور نہیں ہوتا کہ اسے لوگ برے لگنے لگتے ہیں، وہ اس لیے دور ہوتا ہے کہ اسے اپنے اندر کی آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کچھ دیر دنیا خاموش رہے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اس کے اندر آخر چل کیا رہا ہے،مگرعجیب بات یہ ہے کہ جب دنیا خاموش ہوتی ہے تو اندر کا شور اور بڑھ جاتا ہے۔۔۔رات کے سناٹے میں پرانی باتیں واپس آتی ہیں۔ کوئی چہرہ یاد آتا ہے، کوئی جملہ یاد آتا ہے، کسی کی آواز، کسی کا وعدہ، کسی کی بے رخی۔۔۔

اور پھر انسان سوچتا ہے کہ یہ سب تو گزر چکا ہے، پھر آج کیوں یاد آ رہا ہے۔۔۔؟شاید اس لیے کہ کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں،وہ صرف خاموش ہوجاتی ہیں،پھرکبھی کسی معمولی سی بات سے دوبارہ جاگ اٹھتی ہیں۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔ آدمی لوگوں میں رہ کر تنہا ہوجاتا ہے، ہنستے ہوئے اداس ہوجاتا ہے، بات کرتے ہوئے خاموش ہوجاتا ہے، اور سب کو تسلی دیتے دیتے خود ایک ایسی تسلی کا محتاج ہوجاتا ہے جو اسے کہیں سے نہیں ملتی۔۔۔۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے دکھ کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ وہ کسی کو بتاتا نہیں،کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے دل کھول دیا تو لوگ اس کے درد کا مذاق بنا دیں گے، اسے کمزور سمجھیں گے، نصیحتیں کریں گے، سوال پوچھیں گے، وجہ تلاش کریں گے۔۔۔اور اسے وجہ نہیں چاہیے ہوتی،اسے صرف کوئی ایسا چاہیے ہوتا ہے جو اس کے پاس بیٹھ کر کہہ دے۔۔۔۔ ’’ تمہیں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم تھکے ہوئے ہو‘‘۔۔۔بس اتنا۔۔۔ نہ کوئی فلسفہ، نہ کوئی لمبی تقریر۔۔۔ نہ یہ کہ ’’ وقت سب ٹھیک کردے گا‘‘۔۔۔کیونکہ جس شخص نے بہت عرصہ اپنے اندر کچھ اٹھا رکھا ہو، اسے سب سے زیادہ تکلیف شاید یہی جملہ دیتا ہے کہ ’’سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔۔۔وہ جانتا ہے کہ شاید سب کچھ ٹھیک نہ ہو۔

وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ بیٹھ کر اس خراب وقت کو تھوڑی دیر گزار دے۔۔۔ کبھی کبھی انسان کو بچانے کے لیے بڑے بڑے وعدوں کی ضرورت نہیں ہوتی،ایک خاموش ساتھ کافی ہوتا ہے،ایک ہاتھ کافی ہوتا ہے،ایک ایسا شخص کافی ہوتا ہے جو اس کی خاموشی سے گھبرا کر اسے سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا نہ کرے۔۔۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ عمر بھر محبت تلاش کرتے رہتے ہیں، مگر آخر میں انہیں محبت سے زیادہ ’’ سمجھ لیے جانے کی خواہش‘‘ رہ جاتی ہے۔ کیونکہ محبت کرنے والے بہت مل جاتے ہیں، مگر جو ہماری خاموشی پڑھ لے، وہ بہت کم ملتا ہے۔

شاید زندگی میں سب سے مشکل وقت وہ نہیں ہوتا جب انسان رو رہا ہو، مشکل وقت تو وہ ہوتا ہے جب انسان رونا چاہے اور رو نہ سکے،جب دل چاہے کسی کے سامنے بیٹھ کر سب کچھ کہہ دے، مگر الفاظ ساتھ چھوڑ جائیں،جب اندر سے چیخ نکل رہی ہو اور باہر صرف خاموشی ہو۔ایسے میں آدمی خود کو بہت اکیلا محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں لوگ ہیں، مگر اس کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اسے سمجھنے والا ایک بھی نہیں،وہ کسی کو الزام نہیں دیتا،بس تھک جاتا ہے۔۔۔۔

لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ تنہائی کا مطلب لوگوں کا نہ ہونا ہے۔۔۔ نہیں۔۔۔ کبھی کبھی سب سے زیادہ تنہائی تب ہوتی ہے جب آدمی لوگوں کے درمیان بیٹھا ہو اور پھر بھی اسے محسوس ہو کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔۔۔۔چہرہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں، دل کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔۔۔مسکراہٹ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں، اس کے پیچھے چھپی تھکن کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔۔۔اوراگر کبھی آپ کو ایسا کوئی شخص ملے جو اچانک خاموش ہوگیا ہو، لوگوں سے دور رہنے لگا ہو، ہنسی بھول گیا ہو، باتوں سے تھک گیا ہو، تو اسے یہ مت کہیں ’’ تمہیں ہوا کیا ہے‘‘۔۔۔بس اس کے پاس بیٹھ جائیں، شاید وہ بتا نہ سکے۔ شاید وہ خود بھی نہ جانتا ہو۔۔۔

مگرممکن ہے آپ کی خاموش موجودگی اسے یہ یقین دلا دے کہ دنیا ابھی پوری طرح بے رحم نہیں ہوئی۔کیونکہ بعض اوقات انسان کو زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے کوئی بڑا معجزہ نہیں چاہیے ہوتا۔صرف ایک ایسا دل چاہیے ہوتا ہے جو اس کی خاموشی سن سکے۔۔۔ اور شاید ہماری سب سے بڑی محرومی یہی ہے، ہم سب بولنے والوں کو سنتے ہیں، خاموش لوگوں کو کوئی نہیں سنتا۔۔۔


کبھی کبھی
دل چاہتا ہے
کوئی پوچھے بھی نہ
کہ کیا ہوا ہے۔
بس پاس بیٹھے،
اورخاموش رہے۔
کیونکہ
کچھ دکھ
الفاظ میں نہیں آتے،
صرف آنکھوں میں
ٹھہرجاتے ہیں۔
میں ہنستا ہوں
تو لوگ سمجھتے ہیں
میں خوش ہوں،
میں چپ رہتا ہوں
تو کہتے ہیں
مجھے تنہائی پسند ہے۔
کاش کوئی یہ بھی سمجھتا
کہ میں نہ خوش ہوں،
نہ تنہائی پسند ہے۔۔۔
میں بس
خود کو سنبھالتے سنبھالتے
خود سے بہت دور
نکل آیا ہوں۔
اب نہ کوئی شکوہ ہے،
نہ کوئی خواہش۔۔۔
بس دل چاہتا ہے
ایک رات
بے خوف رو لوں،
اورصبح
کوئی مجھ سے یہ نہ پوچھے
تم روئے کیوں تھے۔۔۔؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button