
لاہور:(طلعت ہمایوں) حلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وار اجلاس کہانی کی شام کے تحت منایا گیا یہ علمی اور ادبی سیشن مروجہ پابند اصولوں کے عین مطابق تھا۔ سیکرٹری آفتاب جاوید اور جائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے اس کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بام عروج پر پہنچایا۔
پروین ملک کی صدارت میں ہونے والا اجلاس وقت کی پابندی کو ملحوظ رکھتے ہوئےوقت پر شروع اور وقت پر اپنے فارمیٹ پر عمل کرتے ہوئے ختم ہوا جو کہ ایک خوش آئند ہے، اس قوم کے لئے جو وقت کی اہمیت سے نابلد ہو ، اہل علم و دانش سے اس بات کی تقلید کروانا بذات خود قابل ستائش عمل ہے جو آفتاب جاوید نے بظاہر آسانی سے کر دکھایا۔
اجلاس کا آغاز شہزاد فراموش کے سپاس نامہ کے ساتھ ہوا جو گزشتہ اجلاس کی کارروائی پر مبنی تھا ، صاحبِ صدارت کی اجازت سے زاہد حسن نے اپنا مضمون پیش کیا جو کہ گذشتہ سے پیوستہ پنجابی ادب کے روشن نام اکبر لہوری، انور علی اور افضل تو صیف کی ادبی خدمات کو خراج تحسین تھا۔ انہوں نے پنجابی ادب کے لیے ان کی تصانیف اور ان کی کہانیوں کو یادوں کے پیرائے میں سمیٹ کر دادسمیٹی۔
اگلے مرحلہ میں چار فکشن رائٹرز نے اپنی اپنی کہانی پیش کی۔
سب سے پہلے شہزاد فراموش نے اپنی کہانی جو اے آئی کی اہمیت پر سوالیہ نشان ہے پیش کی "مشیناں وچ گواچا بنده”۔ ہم جس کو ترقی سمجھ کر من و عن قبول کر بیٹھے ہیں وه تو صرف ایک خوشنما دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ہم کھائی میں دھنستے جا رہے ہیں جس کا ادراک نہیں۔ یہ سچائی کے ساتھ لکھی گئی بہترین تحریر تھی۔
دوسری کہانی نصیر احمد کی "دھاگے ساه لیندے نیں” رنگوں کے ساتھ زندگی کے کینوس پر لکھی ایک حقیقت پسند ، علامتی کہانی جس میں کہانی کار خود ایک کردار ھے۔ زبردست! نصیر احمد کی کہانی جدید فکشن میں عمده اضافه ہے۔
تیسر ی کہانی ” ایہ مٹی میری نہیں ” ثمینه اسماء کے قلم سے نکلا شاہکار ، ایک حساس موضوع کو حقیقت سے قریب تر اور سچائی سے لکھنا اور غیر ضروی طوالت سے اجتناب کرتے ہوئے آسان پیرائے میں عام قاری تک پہنچانا ہی شارٹ سٹوری کی روح کو سمجھنا ہے۔ آج کی تخلیق کار ثمینہ اس آرٹ اور کرافٹ کو سمجھ چکی ہیں۔ اس کہانی میں انہوں نے مذہب کے نام پر ہونے والی جہالت کو جس انداز میں رگیدا ، بے مثال ہے۔
ایک دل دہلا دینے والی تحریر جس میں مامتا خود اس غلیظ معاشره کے ہر سوال کا جواب ہے۔ کہانی کی صورت میں ثمینہ اسماء نے مذہب کے نام پر اس مکروه اور گمراہ کن فعل کو جو معصوم لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے پُرسوز اور گداز اسلوب میں لکھ کر اوجِ کمال حاصل کیا، جس نے سننے والوں کے دلوں پر انمٹ اثر چھوڑا ۔ایک کامیاب کہانی پڑھنے والے کے لئے سوچنے کے کئی در واء کرتی ہے۔
آخر میں ناصر بلوچ نے ” چوہڑ ے ” کے عنوان سے اپنی لکھی کہانی پیش کی جو کہ معاشرے کی ذہنی پسماندگی اور ہمارے سیاسی سماجی حالات پر لکھی گئی تلخ سچائی ہے۔
چاروں کہانیاں عمده مہارت سے لکھی گئیں،منفردموضوعات کے ساتھ۔ فخر یہ طور پر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ پنجابی ادب کسی بھی وجود میں آنے والے انٹرنیشنل ادب سے کسی طور بھی کم نہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پنجابی کہانی کار اپنا بہترین کام پیش کر رہے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں که پنجابی ادب اپنے متنوع موضوعات اور جدید کرافٹنگ کی بدولت آج اردو ، انگلش کے برابر کھڑا اور بین الاقوامی معیار پر پورا اُترنے کی مسلسل سعی میں ہے۔انتطامیہ کو ایک کامیاب شام کے انعقاد پر مبارکباد۔



