ریاض ایئرپورٹ پر پھر حملہ! پاکستانی شہری جاں بحق، 11 زخمی | سعودی عرب میں بڑا بحران
ریاض ایئرپورٹ پر مسلسل حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ تازہ حملے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت کیسے ہوئی؟ سعودی عرب نے کیا کہا؟ اور پاکستان کا اس واقعے پر کیا ردعمل سامنے آیا؟
آئیے پوری صورتحال جانتے ہیں۔
سوال نمبر 1:
ریاض ایئرپورٹ پر تازہ حملہ کب اور کہاں ہوا؟
جواب:
سعودی حکام کے مطابق ریاض کے King Khalid International Airport پر اتوار کے روز ایک نیا حملہ ہوا۔
سعودی عرب کی General Authority of Civil Aviation یعنی GACA کے مطابق ایئرپورٹ کے Terminal 4 کو ایک projectile نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ لگی اور ایئرپورٹ کی عمارت کو مادی نقصان پہنچا۔
سعودی حکام کے مطابق نقصان کا جائزہ لیا جا رہا تھا اور ایئرپورٹ کی سہولیات کی safety inspections بھی جاری تھیں۔
سوال نمبر 2:
اس تازہ حملے میں جانی نقصان کتنا ہوا؟
جواب:
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اس تازہ حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔
سعودی حکام نے تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والا شخص پاکستانی resident تھا۔
زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
سوال نمبر 3:
کیا جاں بحق ہونے والا شخص پاکستانی شہری تھا؟
جواب:
جی ہاں۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ تازہ حملے میں جاں بحق ہونے والا شخص پاکستانی resident تھا۔
یہ بات سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ معلومات میں سامنے آئی ہے۔
سوال نمبر 4:
کیا اس سے پہلے بھی ریاض ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا؟
جواب:
جی ہاں۔
تازہ حملے سے ایک روز پہلے بھی King Khalid International Airport کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس پہلے حملے کے بارے میں سعودی حکام کے مطابق 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچنے کی اطلاع بھی دی گئی، کیونکہ ایک بھارتی شہری بھی گزشتہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔
اس لیے تازہ اور پہلے حملے کے اعداد و شمار کو الگ سمجھنا ضروری ہے۔
سوال نمبر 5:
پہلے حملے میں پاکستانیوں کا کیا نقصان ہوا تھا؟
جواب:
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلے ریاض ایئرپورٹ حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق پہلے حملے میں 6 پاکستانی شہری زخمی ہوئے تھے۔
اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو زخمی پاکستانیوں کی مدد اور سعودی حکام کے ساتھ coordination کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے:
6 پاکستانی پہلے حملے میں زخمی ہوئے تھے، جبکہ تازہ اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی resident جاں بحق ہوا ہے۔
سوال نمبر 6:
سعودی حکام کے مطابق تازہ حملے میں کیا ہوا؟
جواب:
سعودی حکام کے مطابق ایک نامعلوم projectile نے ایئرپورٹ کے Terminal 4 کو نشانہ بنایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم coalition نے بھی بتایا کہ ایئرپورٹ کے قریب ایک cruise missile کو intercept کیا گیا۔
اس کے علاوہ سعودی حکام نے ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی مختلف projectiles کو intercept کرنے کی اطلاعات دیں۔
سوال نمبر 7:
اس حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی؟
جواب:
Reuters اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ کے علاوہ سعودی عرب کے Dammam ایئرپورٹ اور Saudi Aramco کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
تاہم ہر حملے کی تفصیلات اور نقصان کے حوالے سے مختلف فریقوں کے بیانات الگ الگ ہیں، اس لیے ان دعووں کو اسی نسبت سے بیان کرنا ضروری ہے۔
سوال نمبر 8:
کیا صرف ریاض ایئرپورٹ ہی نشانے پر تھا؟
جواب:
نہیں۔
تازہ صورتحال کے دوران سعودی عرب کے Dammam میں موجود King Fahd International Airport کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
Reuters کے مطابق ایک projectile ایئرپورٹ کے tarmac کے قریب گرا، جس کے بعد وہاں موجود ایک طیارے کو واپس gate پر لایا گیا اور مسافروں کو اتار دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد flights میں delays اور cancellations بھی رپورٹ ہوئیں۔
سوال نمبر 9:
کیا ریاض ایئرپورٹ کی پروازیں متاثر ہوئیں؟
جواب:
جی۔
پہلے حملے کے بعد King Khalid International Airport کی operations متاثر ہوئیں اور airport closure میں توسیع کی اطلاعات سامنے آئیں۔
Flight-tracking data کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ ایئرپورٹ کی پروازیں متاثر ہوئیں۔
تازہ حملے کے بعد سعودی حکام نے damage assessment اور safety inspections جاری رکھنے کی بات کی۔
سوال نمبر 10:
پاکستان نے تازہ صورتحال پر کیا ردعمل دیا؟
جواب:
پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ نے مشترکہ طور پر سعودی عرب کے خلاف ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
پاکستانی حکام نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور سعودی سلامتی کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔
سوال نمبر 11:
یہ صورتحال اتنی اہم کیوں ہے؟
جواب:
یہ معاملہ صرف ایک ایئرپورٹ تک محدود نہیں رہا۔
سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد خطے میں فضائی سفر، شہریوں کی سلامتی اور اہم infrastructure کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Reuters کے مطابق مسلسل حملوں نے سعودی دفاعی صلاحیتوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔
سوال نمبر 12:
تازہ صورتحال میں سب سے اہم بات کیا ہے؟
جواب:
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاض کے King Khalid International Airport پر ایک دن کے وقفے سے دوبارہ حملہ ہوا، اور اس تازہ حملے میں ایک پاکستانی resident جاں بحق جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔
اس سے پہلے ہونے والے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، جبکہ پاکستان کے مطابق اس پہلے حملے میں 6 پاکستانی زخمی ہوئے تھے۔
یعنی سعودی عرب میں ایئرپورٹس اور شہری تنصیبات کے خلاف حملوں کا سلسلہ خطے میں صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ناظرین، اس وقت دستیاب سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہی تازہ اور تصدیق شدہ صورتحال ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ آپ تک خبر صرف تیزی سے نہیں بلکہ تصدیق کے بعد پہنچائی جائے۔
میں اجازت چاہوں گا۔
اللہ حافظ۔



