
ایک آدمی صبح موٹر سائیکل لے کر پٹرول پمپ پر پہنچتا ہے۔ ٹینکی میں پٹرول ڈلواتا ہے، قیمت سنتا ہے، چند لمحے خاموش رہتا ہے، جیب سے پیسے نکالتا ہے اورموٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے چلا جاتا ہے۔۔۔۔شاید یہ پاکستان کا سب سے خاموش منظرہے۔۔۔پٹرول مہنگا ہوتا ہے، وہ خاموش۔ ڈیزل مہنگا ہوتا ہے، وہ خاموش ۔ سبزی والا قیمت بڑھاتا ہے، وہ خاموش۔ دودھ، آٹا، چینی، پھل، بجلی، گیس، دوائیاں۔۔۔ ہرچیز اس کی جیب پر نیا وارکرتی ہے، مگراس کے لبوں پروہی خاموشی رہتی ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے اس ملک میں صرف اشیا کی قیمتیں نہیں بڑھ رہیں، لوگوں کی برداشت بھی روز مہنگی ہورہی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اثر سڑک سے بازار تک، بازار سے گھر تک اور گھر سے چولہے تک پہنچتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو سبزی سے پھل تک ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ آخرکار بل ایک ہی شخص کے ہاتھ میں آتا ہے۔۔۔ عام آدمی کے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس آدمی کی آمدن آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں کئی برس پہلے تھی، مگراس کی ضروریات کی قیمتیں کئی گنا آگے نکل چکی ہیں۔۔۔۔
اورپھر بھی وہ خاموش ہے۔۔۔۔نہ سڑکوں پر ہجوم، نہ دھرنے، نہ لانگ مارچ، نہ کوئی ایسی اجتماعی چیخ جو ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کرواپس آئے۔سوال صرف یہ نہیں کہ مہنگائی اتنی کیوں بڑھ گئی۔۔۔؟اصل سوال اس سے بھی بڑا ہے،آخرپاکستانی عوام ہربارخاموشی سے سب کچھ برداشت کیوں کرلیتے ہیں۔۔۔۔؟ کیا یہ قوم واقعی صابر ہے۔۔۔۔؟ یا پھر۔۔۔۔ ہم نے صبر اور بے بسی کے درمیان فرق ہی بھلا دیا ہے۔۔۔۔؟
آخر پاکستانی عوام احتجاج کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔؟یہ سوال بظاہر آسان ہے، مگراس کا جواب شاید اتنا آسان نہیں۔ایک مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں حکومت نہیں، بچوں کا دودھ ہوتا ہے۔ اسے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج کتنی دیہاڑی ملے گی، شام کو راشن کیسے آئے گا، بجلی کا بل کیسے بھرے گا۔ وہ احتجاج کے لیے ایک دن کام چھوڑ دے تو گھر کا چولہا بھی احتجاج پرچلا جاتا ہے۔
ایک رکشہ ڈرائیورپٹرول کی قیمت بڑھنے پر پریشان ہوتا ہے، مگر رکشہ کھڑا کرکے سڑک پر بیٹھ جائے تو اس کی روزی رک جاتی ہے۔ دکان دار مہنگائی سے تنگ ہے، مگر دکان بند کرے تو نقصان اس کا اپنا ہے۔ تنخواہ دار آدمی ہر ماہ بڑھتے اخراجات دیکھتا ہے، مگر نوکری چھوڑ کر احتجاج نہیں کرسکتا۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں صبراورمجبوری ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔یہ قوم خاموش ضرور ہے، مگر ضروری نہیں کہ اسے تکلیف نہیں۔ہرگھر میں مہنگائی کا ذکر ہے، ہر بازارمیں قیمتوں کا شکوہ ہے، ہر دفتر میں تنخواہ اور اخراجات کا حساب ہے۔ غصہ موجود ہے، بے چینی موجود ہے، سوال موجود ہیں۔۔۔
مگر یہ سب الگ الگ گھروں، دکانوں اور چھوٹی چھوٹی محفلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔اجتماعی آواز بننے کے لیے صرف غصہ کافی نہیں ہوتا، لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔اورشاید پاکستانی عوام کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کی جنگ اکیلا لڑ رہا ہے،کوئی بچوں کی فیس سے لڑرہا ہے، کوئی کرائے سے، کوئی بجلی کے بل سے، کوئی دوا کی قیمت سے اور کوئی روزگار کی تلاش سے۔ یوں پورا معاشرہ پریشان ہے۔۔۔
مگرہرشخص اپنی پریشانی میں تنہا ہے،تو کیا ہماری خاموشی صبرہے۔۔۔؟ یا پھروہ مجبوری جسے ہم نے صبر کا نام دے رکھا ہے۔۔۔۔؟ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب خاموش معاشروں کا غصہ ایک نقطے پرجمع ہوجائے تو خاموشی ہمیشہ خاموش نہیں رہتی۔۔۔۔
اٹھو پاکستانیوں اٹھو ۔۔۔۔۔!!
کب تک صبرکرو گے۔۔۔۔؟ کب تک اپنے بچوں کی بھوک کو قسمت، ان کی محرومی کو مقدراور اپنی خاموشی کو صبرکا نام دیتے رہو گے۔۔۔۔؟ کب تک تمہارے بچے اچھی تعلیم، بہترعلاج اور باعزت روزگار کے خواب دیکھتے رہیں گے اور تم انہیں صرف یہ کہہ کر چپ کراتے رہو گے کہ حالات ایسے ہی ہیں۔۔۔۔؟حالات ایسے نہیں ہوتے۔۔۔۔ حالات ایسے بنائے جاتے ہیں، اورحالات بدلے بھی جا سکتے ہیں۔۔۔۔اپنے حقوق پہچانو، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاؤ، سوال کرو، جواب مانگو۔۔۔۔
اپنا حق لینے کیلئے کھڑے ہوجاؤ،تمہارے بچے تم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ تم نے کتنی خاموشی سے زندگی گزاری۔۔۔ وہ پوچھیں گے کہ جب ان کا مستقبل چھینا جا رہا تھا تو تم نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔۔۔۔؟ اپنے بچوں کی طرف دیکھو!! وہ تم سے ایک بہتر پاکستان مانگ رہے ہیں۔ ایسا پاکستان جہاں تعلیم چند خاندانوں کی میراث نہ ہو، علاج غریب کی پہنچ سے باہر نہ ہو، روزگار سفارش کا محتاج نہ ہو اور ریاستی وسائل پر چند مراعات یافتہ طبقوں کا حق نہ ہو۔۔۔۔ کب تک خاموش رہو گے۔۔۔؟ کب تک اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کا مستقبل اندھیرا ہوتا دیکھو گے۔۔۔۔؟ کب تک مہنگائی کے ہر نئے طوفان کو سر جھکا کر قبول کرتے رہو گے۔۔۔۔؟ کب تک تمہاری محنت کا پھل کوئی اور کھاتا رہے گا اور تم اپنے بچوں کی خواہشیں دفن کرتے رہو گے۔۔۔۔؟
سواٹھو۔۔۔۔!!
اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کیلئے۔ اپنے آج کیلئے نہیں تو ان کے کل کیلئے،خاموشی صبرہو سکتی ہے۔۔۔ مگرظلم کوبرداشت کرتے رہنا کوئی صبر نہیں۔۔۔ کیونکہ قومیں ظلم سہہ کرزندہ نہیں رہتیں۔۔۔قومیں اپنے حق کو پہچان کرجاگتی ہیں۔۔۔۔اورشاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کا عام آدمی جاگے۔۔۔اپنے لیے، اپنے بچوں کیلئے۔۔۔۔ اوراپنے آنے والے کل کیلئے۔۔۔



