لندن (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اعتماد اور ساکھ بحال کرنا ضروری ہے، جبکہ 25 سے 26 کروڑ آبادی والے ملک کے ٹیکس نظام کو چند ملین آبادی والے ممالک کے طرز پر نہیں چلایا جا سکتا۔
لندن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ڈیجیٹل روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اصلاحات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ نئے ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ ٹیکس وصولی کے نظام میں نفاذ بہتر بنانا اور لیکیجز کو روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل انوائسنگ سمیت جدید نظام متعارف کرا رہی ہے، جس سے ٹیکس وصولیوں میں موجود لیکیجز کو روکنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات جاری ہیں، جبکہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے عمل میں پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ دو بڑے پاکستانی کاروباری گروپس نے قومی ایئر لائن کیلئے بولیاں جمع کرائی ہیں۔ ایک بولی تقریباً 1.2 ارب ڈالر جبکہ دوسری تقریباً 600 ملین ڈالر کے قریب رہی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کیلئے یہ معمولی رقم نہیں اور نجکاری کے عمل سے معیشت میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہی ہے، جبکہ مالیاتی شعبے اور پبلک فنانس مینجمنٹ میں اصلاحات پر بھی کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے تقریباً چار سال بعد یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کا مقصد صرف بیرونی فنانسنگ میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ بیرونی واجبات کو بہتر انداز میں منظم کرنا بھی ہے۔
دریں اثنا، ایک عالمی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان چین سے 30 ارب یوان کی کرنسی سواپ لائن میں توسیع کی درخواست کرے گا۔ ان کے مطابق چین سے موجودہ 30 ارب یوان کی سواپ سہولت مکمل طور پر استعمال ہو چکی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ چین سے سواپ لائن میں کتنی اضافی رقم طلب کی جائے گی، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست بھی کر رکھی ہے اور اس حوالے سے دو ماہ میں جواب ملنے کی توقع ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق امریکی ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے آئل ریفائنری اپ گریڈ پروگرام میں مدد کر سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع نومبر یا دسمبر تک جاری رہا تو پاکستان کے 4 فیصد معاشی ترقی کے ہدف کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو فی الحال عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید قرض یا ہنگامی مالی معاونت لینے کی ضرورت نہیں۔



