
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)تحریک انصاف کے 27ستمبر کو اسلام آبادمارچ سے قبل ہی بڑی گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں ۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن زیر حراست ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما علیمہ خان کو لاہور سے 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جِم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کی گاڑی لٹن روڈ تھانے میں کھڑی ہے، جبکہ انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ علیمہ خان گھر سے باہر جارہی تھیں، انہیں حراست میں لے لیا گیا، پتہ نہیں کیوں اتنے گھبرائے ہوئے ہیں کہ خواتین کو بھی گرفتار کررہے ہیں، کچھ اطلاعات ملی ہیں کہ علیمہ خان کو کوٹ لکھپت لے جایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ علیمہ خان کی گرفتاری سے حکمرانوں کے خوف کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بیرسٹر گوہر کا مجھے فون آیا تھا، وہ اس بارے میں جاننا چاہتے تھے، ہم ایسے اقدامات سے نہیں گھبراتے، اپنے بھائی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔

دریں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نورین نیازی نے انہیں فون پر علیمہ خان کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ان کا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا، جبکہ پارٹی کا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی، علیمہ خان کو گرفتار کرنا یا نظربند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالات خراب کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ یہ تمام اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں اور علیمہ خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا آئندہ کا لائحہ عمل جلد جاری کرے گی۔



