
دیکھا جائے تو قیام پاکستان سے لیکر آج تک عوامی سطح پر پولیس کے بارے میں جو منفی تاثر پایا جاتا ہے اس کو ختم کرنے کیلئے ہر صاحب اقتدار اور صاحب اختیار نے پولیس کلچر اور تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کےبڑے بڑے دعوؤں کا (چورن) بیچا مگر کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے،اس کی وجہ کیا ہے یہ کسی بھی صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور آئی جی سمیت دیگر صاحب اقتدار و اختیار نے جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور یقین جانئے حقیقت بھی یہی ہے۔
آج بھی محکمہ پولیس کے مسائل وہی جوں کے توں نظر آتے جیسے ماضی موجود تھے،یہاں میں اگر صرف پنجاب کی بات کروں تو یہاں پرقیام پاکستان سے لیکر اب تک منتخب اور نگران وزرائے اعلیٰ کی کل تعداد 22 ہو چکی ہے۔ جس میں پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب افتخار حسین خان ممدوٹ تھے جبکہ موجودہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے محترمہ مریم نواز شریف (26 فروری 2024ء سے تادم تحریر کام کررہی ہے۔جبکہ پنجاب پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے خان قربان علی خان سے لیکر ڈاکٹر عثمان انور سمیت 55 افسران انسپکٹر جنرل آف پنجاب کے عہدے پر فائز رہے جبکہ ماہ فروری سے 56 ویں انسپکٹر جنرل پنجاب کی حیثیت سے عبدالکریم اس عہدہ پر فائز ہے۔
ان وزراءاعلی اور انسپکٹر جنرل صاحبان میں سے بہت کم ایسے ہیں جنہوں نے حقیقی معائنوں میں یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ پولیس کے اپنے مسائل کیا ہیں،ان کے وسائل کتنے ہیں اور اس سے توقعات کی فہرست کتنی طویل ہے۔ وہ بھی تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے عملی طور پر جتنا کرسکے کر گئے جس کےمثبت نتائج بھی سامنےآئے، ان وزراءاعلی اور انسپکٹر جنرل جنہوں نے تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے واضح اقدامات کئے۔
ان کے بارے میں آگے چل کر بتاؤ گا ، اس سے پہلے یہاں موجودہ صورتحال میں آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پنجاب دنیا کے کئی ممالک سے بڑا صوبہ ہے۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ تحصیل صادق آباد سے لیکر اٹک اور کچے کے علاقے، دریائے سندھ کے کنارے سے لیکر مشرقی سرحد تک امن و امان کی صورتحال کو ہمہ وقت برقرارپنجاب پولیس ہی رکھتی ہے ۔
یہاں پر یہ بھی امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت پنجاب پولیس میں ایک اہلکار550 کے قریب شہریوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے جبکہ اسی تناظر میں صوبائی دارالحکومت لاہور کی بات کی جائے تو یہاں پر مجموعی طور پر 413 افراد کیلئے ایک پولیس اہلکار دستیاب ہے جوکہ معیاری پولیسنگ کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ یہاں ہم دیگر ممالک کی پولیسنگ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 198 شہریوں جبکہ ممبئی میں294 افراد کیلئے ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔
اسی طرح لندن میں پولیسنگ کو دیکھا جائے تو یہی تناسب 1:157 ہے۔ لا اینڈ آرڈر اور جدید پولیسنگ کے حوالے اگر دیکھا جائے تو یہ صورتحال بھی انتہائی دلچسپ معلوم پڑتی ہے۔قارئین کرام: لاہورکی آبادی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ 28 ہزار سے بھی زائد ہے۔ علاوہ ازیں 4 لاکھ کے لگ بھگ روزانہ دیگر شہروں سے لوگ یہاں آتے جاتے ہیں۔ اب دلچسپ اور حیران کن امر یہ ہے کہ یہاں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلیے صرف پولیس کی نفری 33ہزار سے زائد ہے (ظاہر ہے کہ اس نفری میں ڈرائیور، کلرک اور دیگر نان کمبیٹ عملہ بھی شامل ہوگا)۔
اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنی کم نفری کے ساتھ جدید پولیسنگ کے دعووں میں کتنی حقیقت ہوگی ، خیر چھوڑیں اور دیکھے کہ اسکے برعکس دہلی جو لاہور جتنا ہی شہر ہے وہاں پولیس کی نفری 82 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ نفری کی کمی کو چھوڑیں اوراب ذرا پنجاب پولیس کو ملنے والے وسائل کی بات ہو جائے۔ جی ہاں پنجاب میں پولیس پر سالانہ 8.44 ڈالر فی کس اخراجات کئے جاتے ہیں۔ جبکہ بھارتی پنجاب میں یہ تناسب 15.9 ڈالر، ترکیہ میں135 ڈالر اور لاہور میں 7.42ڈالر ہے جبکہ لندن پولیس کو فی کس اخراجات 754 ڈالر سالانہ دیے جاتے ہیں۔
ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو یقینا ہماری پولیس فورس اپنی استعدادکار سے کہیں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔پورے پنجاب کی 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد کی نفری میں ایسے آفیسر اور اہلکار بھی موجود ہیں جو بدعنوانی کو اپنے لئے گالی سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان پولیس افسران اور اہلکاروں کا وجود آج بھی ایک عام شہری کیلئے طمانیت کا باعث ہوتا ہے۔ بلاشبہ آج بھی کسی ویران سڑک پر رات کو گزرتے ہوئے اگر نیلی بتی والی پولیس کی گشت گزرے تو دل میں فوراً سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
یہی احساس تحفظ پوری دنیا میں پولیس کے وجود کی بنیادی وجہ ہے ۔ بہرحال یہ بھی سچ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب تھانہ اور پولیس کلچر میں کافی حد تک تبدیلی آ چکی ہے۔جیسے میں تحریر کے آغاز میں لکھا کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پنجاب کے 22 وزرائے اعلی اور 55 آئی جی صاحبان میں سے چند ایک نے تھانہ کلچر اور پولیس کے منفی رویوں کی تبدیلی میں عملی طور پر کام کیا تھا،یہاں اگر میں سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف جوکہ اس وقت وزیر اعظم پاکستان بھی ہے، یہی نہیں نگران وزیر اعلی کی حیثیت سے محسن نقوی کا ذکر کروں گا جنہوں نے پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی طور پر اقدامات کئے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔
یہی نہیں موجودہ وزیر اعلی مریم نوازشریف نے تو تمام وزراء اعلی کے ریکارڈ ہی توڑ دئیے، انہوں نے ناصرف تھانہ کلچر کو تبدیل کیا بلکہ پولیس کو حقیقی معائنوں میں عوام کا خدمتگار بنایا ،صرف دو سال میں پورے پنجاب میں سیف سٹی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کا قیام بھی ان کے دور اقتدار میں لایا گیا۔جس کی کارکردگی کا اعتراف انٹرنیشنل سطح پر کیا گیا۔
یہاں بطور انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی کاوشوں کا ذکر بھی انتہائی ضروری ہے جنہوں نے اپنے دور میں پنجاب پولیس کا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔تھانوں کی حالت ہی تبدیل کرکے انہیں جدید خطوط پر استوار کیا، عرصہ دراز سے ترقیوں کی راہ دیکھنے والے سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں افسران و اہلکاروں کو پروموشن دی۔
کھلی کچہری کے عمل کو مؤثر بنانے کیلئے خود میدان عمل میں آئے، موثر کارروائیوں سے 36 سے موجود کچے کے خوف کو ختم کیا، اور بھی درجنوں بلکہ سینکڑوں عملی اقدامات انکے قابل فخر ریکارڈ کا حصہ ہے۔تاہم انکی ٹرانسفر کے تعینات ہونیوالے انسپکٹر جنرل پنجاب عبدالکریم بھی ماڈرن پولیسنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے پولیس نظام میں بہتری کیلئے سائنسی خطوط پر اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ان کا ایک اہم اقدام پولیس میں ہر سطح پر ہونے والی کرپشن کا خاتمہ ہے۔جس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہورہی ہیں، یہی نہیں انہوں ہسپتالوں میں قائم پولیس ڈیسک کو مزید بہتر بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سپیشل اقدامات کئے تاکہ کسی واقعے یا حادثے کی صورت میں پولیس کارروائی موقع پرہی پوری کر لی جائے ۔
اسی طرح بطور آئی جی پنجاب انہوں نے پہلی مرتبہ پنجاب بھر کے تمام پولیس خدمت مراکز کو جدید سائنسی خطوط کے تحت آپس مربوط کیا۔ پولیس فورس کو شہریوں کے ساتھ اچھے اخلاق اور برتائو کا حکم بھی دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پولیس سسٹم میں شفافیت اور جدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور جہاں تک پولیس اہلکاروں کے رویے کا تعلق ہے تو اس کیلئے بھی پولیس کی کونسلنگ اور ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ یہاں سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ شہریوں کے ذہن سے پولیس کا انجانا خوف دور کرنے کیلئے جہاں حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں وہی اس صورتحال میں شہریوں کو بھی چاہئیے کہ وہ پولیس کو اپنا دوست سمجھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام دوست پولیسنگ کی یہ منزل بھی زیادہ دور نہیں۔



