google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
پاکستانتازہ ترین

شدت پسندی کی جنگ سیاسی مفاد کی نذر نہیں ہوسکتی، بھارت کوئی ڈرامہ کرنا چاہتا ہے تو کرلے: ترجمان پاک فوج

ریاست ہے تو سیاست اور جمہوریت ہے، دہشتگردی کے خلاف قومی حکمت عملی پر تمام فریق عمل کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ شدت پسندی کے باعث پاکستان کے وجود کو خطرات لاحق ہیں اور سکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ادارے اور پولیس اس خطرے کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کسی سیاسی مصلحت یا سیاسی مفاد کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب شدت پسندی کے خطرے کے واضح شواہد موجود ہوں اور اس کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے مؤثر ردعمل سامنے نہ آئے تو مختلف سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طرز عمل کے بارے میں نااہلی، صورتحال کو درست طور پر نہ سمجھنے، بے حسی یا دانستہ تعاون جیسے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے۔ قومی حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان سیاسی قیادت نے تشکیل دیا تھا اور تمام متعلقہ فریقوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز

پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ سیاست سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق سیاست کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔

مکہ اتحاد پر پاکستان کا مؤقف

مکہ اتحاد سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشنل دفاعی معاملات پر عوامی سطح پر تفصیلات بیان نہیں کی جاتیں، تاہم سعودی عرب، حرمین شریفین اور مکہ اتحاد کے لیے پاکستان کی وابستگی اور حمایت غیر متزلزل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ اجتماعی دفاع اور دفاعی تعاون پر مبنی ہے۔

افغان طالبان پر پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دینے کا الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان یا افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان کی حکومت سے مسئلہ ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی افغانستان پر پاکستانی طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کو کارروائیوں کے لیے مبینہ جگہ فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے جو ضروری اقدام ہوگا، کیا جائے گا۔ ان کے مطابق افغانستان کے حوالے سے کب، کہاں اور کس طریقے سے اقدام کرنا ہے، پاکستان خود فیصلہ کرے گا۔

بھارتی دعوے پر محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مبینہ دہشتگرد کی ہلاکت سے متعلق دعوے پر بھی بات کی۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق 29 ستمبر کی رات بھارتی فوج کے ایک کور نے مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ سرچ آپریشن سے متعلق اطلاع جاری کی۔ بعد ازاں بھارتی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ لشکر طیبہ سے وابستہ ایک شخص مارا گیا ہے، جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر کی گئی اور اسے پاکستانی شہری اور سابق فوجی قرار دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔ محمد آصف نے بتایا کہ وہ 2008ء میں پاک فوج میں شامل ہوئے، 2023ء میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے اور اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے بارے میں بھارتی میڈیا میں موت کی خبر سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کیا۔

احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج اور حکومت کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارتی دعوے کو ایک مبینہ فالس فلیگ کارروائی قرار دیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے اس معاملے پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ پاکستان نے ان کی تردید کی ہے۔

بھارت کو جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے بھارت پر پاکستان کے خلاف فالس فلیگ کارروائیوں اور دہشتگردی کے الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور ملک کی سلامتی کے لیے جو ضروری ہوا کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر، دہشتگردی کے الزامات اور سرحدی و علاقائی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button