google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے: ٹرمپ

واشنگٹن، تہران (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ممکنہ طور پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران میں ایسا کوئی شخص موجود نہیں جس سے مذاکرات کیے جا سکیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ریاست الاباما کے شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ امریکہ آخر ایران میں کس سے مذاکرات کرے؟ ایرانی قیادت میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں جس کے ساتھ معاملات طے کیے جا سکیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور طیارہ شکن دفاعی نظام تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 310 فیصد افراطِ زر کے باعث ایرانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے پاس صرف افراطِ زر باقی رہ گیا ہے۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کو فولادی دیوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ امریکہ جلد ہی اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر میں دوبارہ تیل جمع کرنا شروع کر دے گا۔

انہوں نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ مستقبل کے فیصلے کرتے وقت محتاط رویہ اختیار کرے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کئی ماہ سے وہاں سے کوئی جہاز نہیں گزار سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہوگی، جس کے بعد ایرانی قیادت کو دانش مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تجاویز پر دیے گئے جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ کے دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔

ادھر آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل بردار جہازوں کو نامعلوم سمت سے آنے والے گولہ نما ہتھیاروں سے نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق پہلے واقعے میں آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ تاہم عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور جہاز نے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔

چند گھنٹے بعد عمان کے مشرق میں ایک خام تیل بردار جہاز بھی نامعلوم گولہ نما ہتھیار کی زد میں آیا۔ برطانوی ادارے کے مطابق جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور واقعے کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button