
ہر روز ایک نیا سانحہ، ہر روز ایک نئی خبر، اور ہر روز دل چیر دینے والے حالات۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ پاکستان میں حالات اس قدر بگڑ جائیں گے کہ انسان خبر سن کر بھی کچھ دیر کے لیے سن ہو کر رہ جائے گا۔ کہیں عصمتیں لٹ رہی ہیں، کہیں معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، کہیں نومولود اپنی ماؤں کی آنکھوں کے سامنے زندگی سے محروم ہو رہے ہیں، کہیں بجلی کا بحران اور مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، کہیں سیاسی رنجشیں دشمنیوں میں بدل رہی ہیں اور کہیں قانون کی دھجیاں اڑانے والے قاتل اور درندے دندناتے پھر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا پاکستان واقعی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے یا ہم نے تباہی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کرلیا ہے؟

26 اگست کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں لگنے والی آگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ایسی جگہ جہاں ماؤں کو اپنے نومولود بچوں کے محفوظ ہونے کا یقین ہونا چاہیے تھا، وہی جگہ موت کا منظر بن گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق وارڈ میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جاسکا جبکہ 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر میں خرابی کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن نے آگ کو مزید خطرناک بنا دیا۔

ذرا تصور کیجیے ان ماؤں کا جنہوں نے اپنے بچوں کو چند دن پہلے جنم دیا تھا۔ جن کی آنکھوں میں اپنے بچے کا مستقبل تھا، جنہوں نے اس ننھی جان کے لیے خواب دیکھے تھے، وہی مائیں ہسپتال کے باہر اپنے بچوں کی لاشیں تلاش کرتی رہیں۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑی قیامت کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو بچانے کے لیے چیختی رہے اور نظام اسے بچانے میں ناکام ہوجائے؟

پمز کا سانحہ صرف ایک آتشزدگی نہیں، یہ ہمارے پورے نظام صحت، حفاظتی انتظامات اور انتظامی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک میں نومولود بچوں کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات مکمل نہیں تو عام آدمی اپنے بچوں کی زندگی کے بارے میں کس سے امید رکھے؟

اور یہ صرف ایک سانحہ نہیں۔ پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کی خبریں بھی مسلسل سامنے آرہی ہیں۔ انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے گیارہ ماہ میں صنفی بنیاد پر تشدد کے کم از کم 6,543 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد اضافہ تھا، جبکہ ان رپورٹ شدہ واقعات کا بڑا حصہ پنجاب سے تھا۔
یہ اعداد و شمار صرف وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ خود سینیٹ میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ صنفی تشدد کے تقریباً 70 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ یعنی جو کچھ ہمیں خبروں میں نظر آتا ہے، حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔
پاکستان میں روزانہ عصمت دری کے متعدد واقعات رپورٹ ہونے کا مسئلہ نیا نہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے میں اس کے خلاف حساسیت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی ایک معصوم بچی کی خبر آتی ہے، کبھی کسی نوجوان لڑکی کی، کبھی کسی شادی شدہ عورت کی، اور چند دن بعد وہ خبر دوسری خبر کے نیچے دب جاتی ہے۔ ہم چند گھنٹے غصہ کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگاتے ہیں، پھر اگلے سانحے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔
حال ہی میں جلالپور جٹاں میں چار سالہ بچی کے مبینہ زیادتی اور قتل کا واقعہ سامنے آیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 27 اگست کو صدر جلالپور جٹاں تھانے میں بچی کے اغوا کا مقدمہ درج ہوا، جبکہ بعد کی اطلاعات میں اس کی لاش ملنے اور جنسی زیادتی و قتل کے الزامات سامنے آئے۔
اسی علاقے سے متعلق ایک اور المناک واقعہ بھی چند ماہ پہلے سامنے آچکا ہے، جب جلالپور جٹاں روڈ سے ایک خاتون کے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ سامنے آیا تھا اور پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ کیا ایک چار سالہ بچی بھی محفوظ نہیں؟ کیا ایک عورت سڑک پر سفر کرتے ہوئے محفوظ نہیں؟ کیا ہسپتال میں نومولود بچہ محفوظ نہیں؟ کیا عام آدمی بجلی، مہنگائی، بیماری اور جرائم سے محفوظ ہے؟
اور دوسری طرف افسر شاہی اپنی دنیا میں مصروف ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ سیاسی اختلاف دشمنی بن چکا ہے۔ اقتدار کے کھیل میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے، شاید کسی کو یاد ہی نہیں۔
ملک میں بجلی کا بحران ہو، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہو، بے روزگاری ہو، اسپتالوں میں سہولتیں ناکافی ہوں، سڑکوں پر جرائم پیشہ عناصر کا خوف ہو اور عورتیں و بچے غیر محفوظ ہوں تو یہ صرف چند الگ الگ مسائل نہیں رہتے، یہ ریاستی نظام کی مجموعی کمزوری کی علامت بن جاتے ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ مسئلہ صرف قاتل، ریپسٹ یا مجرم نہیں۔ مسئلہ وہ ماحول بھی ہے جو مجرم کو یہ احساس دیتا ہے کہ وہ بچ سکتا ہے۔ مسئلہ وہ نظام بھی ہے جہاں مقدمات برسوں چلتے ہیں، گواہ خوفزدہ ہوتے ہیں، متاثرہ خاندان تھک جاتے ہیں اور مجرم قانون کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب سزا کا خوف ختم ہوجائے تو جرم کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔
پھر سوال اٹھتا ہے کہ قیامت قریب ہے یا قیامت آچکی ہے؟
قیامت کب آئے گی، یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی خاص سانحے کو دیکھ کر قیامت کے وقت کا اعلان کردے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ معاشرے میں ظلم، بے حسی، ناانصافی، جھوٹ، قتل، زیادتی اور حقوق العباد کی پامالی بڑھ جائے تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

قیامت صرف آسمان سے نہیں آتی، کبھی کبھی انسان اپنے اعمال سے زمین پر بھی چھوٹی چھوٹی قیامتیں برپا کردیتا ہے۔ پمز کے باہر روتی ہوئی مائیں ایک قیامت تھیں۔ جلالپور جٹاں میں چار سالہ بچی کی موت ایک قیامت تھی۔ زیادتی کا شکار ہونے والی ہر عورت کی چیخ ایک قیامت ہے۔ مہنگائی سے پریشان باپ، علاج کے لیے ترستی ماں، روزگار کے لیے دربدر نوجوان اور انصاف کے لیے سالہا سال عدالتوں کے چکر لگاتا خاندان بھی اسی قیامت کا حصہ ہے۔
ہمیں صرف حکمرانوں کو نہیں، خود کو بھی جواب دینا ہوگا۔ اگر ہمارے سامنے ظلم ہو اور ہم خاموش رہیں، اگر کسی مظلوم کی مدد کے بجائے ویڈیو بنائیں، اگر جرم کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر دیکھیں، اگر طاقتور کے جرم کو نظر انداز اور کمزور کے جرم کو موضوعِ گفتگو بنائیں تو پھر معاشرے کی تباہی میں ہمارا حصہ بھی ہے۔
پاکستان کو صرف نئی سڑکیں، پل، عمارتیں اور بڑے بڑے منصوبے نہیں چاہئیں۔ پاکستان کو انصاف چاہیے، قانون کی بالادستی چاہیے، محفوظ ہسپتال چاہیے، محفوظ سڑکیں چاہئیں، بچوں کے لیے محفوظ ماحول چاہیے اور سب سے بڑھ کر انسان کی جان اور عزت کی حرمت چاہیے۔
اب بھی وقت ہے۔ اگر ہم نے ہر سانحے کو صرف ایک خبر سمجھ کر بھلا دیا تو کل یہ خبر ہمارے اپنے گھر سے بھی آسکتی ہے۔

خدارا جاگ جائیں۔ اس سے پہلے کہ ہر گھر میں ایک قیامت برپا ہوجائے، ہمیں اپنے معاشرے کو بچانا ہوگا۔ کیونکہ ملک صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، ملک اس کے لوگوں سے بنتا ہے۔ اور اگر لوگ ہی محفوظ نہ رہیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ پاکستان کس طرف جارہا ہے؛ سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو کس طرف جانے دیا؟



