بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

صرف ایک چنگاری

بےلگام / ستارچوہدری

ایک عجیب قوم ہے ہماری۔اس کا ووٹ چھین لیا جائے، خاموش ۔پٹرول مہنگا ہو جائے، خاموش۔بجلی کا بل گھرکا بجٹ نگل جائے، خاموش۔گیس مہنگی ہو جائے، خاموش۔آٹے، چینی، دال اورسبزی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جائیں، خاموش۔سڑک پرمعمولی سی غلطی پربھاری جرمانہ ہو، خاموش۔دکان دس بجے زبردستی بند کرا دی جائے، خاموش۔ٹول ٹیکس دوگنا کردیا جائے، خاموش۔دس دس گھنٹے بجلی غائب رہے، پھر بھی خاموش۔
آخرکیوں۔۔۔۔؟
کیا واقعی ہم مرچکے ہیں۔۔۔۔؟

یا پھرہم زندہ ہیں، مگرہمیں اس قدرڈرا دیا گیا ہے کہ بولنے کی ہمت بھی چھین لی گئی ہے۔۔۔؟کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہماری خاموشی نے حکومتوں کو ہم سے زیادہ طاقتوربنا دیا ہے۔ انہیں اب کسی احتجاج کا خوف نہیں، کسی سوال کی فکر نہیں، کسی عوامی ردعمل کا انتظار نہیں۔ جو چاہیں فیصلہ کریں، جس چیزکی چاہیں قیمت بڑھا دیں، جس قانون کو چاہیں نافذ کردیں، عوام چند لمحے غصہ کرتے ہیں، سوشل میڈیا پرچند پوسٹیں آتی ہیں، بحث ہوتی ہے اورپھر سب کچھ معمول پرآجاتا ہے۔

حکومت شاید یہ سمجھنے لگی ہے کہ پاکستانی عوام ہرظلم سہہ سکتے ہیں۔۔۔۔اورشاید یہ تاثرخود ہم نے انہیں دیا ہے،ہم نے انہیں بتایا ہے کہ ہماری برداشت کی کوئی آخری حد نہیں۔۔۔۔ووٹ کے معاملے پرخاموش رہے تو انہیں یقین ہوگیا کہ اقتدار کا راستہ عوام کے ووٹ سے نہیں، کسی اور راستے سے نکلتا ہے۔پٹرول مہنگا کیا تو ہم نے موٹر سائیکل کا پیٹرول کم کر دیا، مگر سوال نہیں کیا۔بجلی مہنگی ہوئی تو پنکھا کم چلایا، بلب بند کیے، بچوں کو گرمی میں سلایا، مگرحساب نہیں مانگا۔

گیس مہنگی ہوئی تو چولہے کا استعمال کم کر دیا۔اشیائے خورونوش مہنگی ہوئیں تو دسترخوان چھوٹا کرلیا۔ٹول ٹیکس بڑھا تو سفرکم کردیا۔جرمانے بڑھے تو جیب پرہاتھ رکھ لیا۔لوڈشیڈنگ بڑھی تو موبائل کی روشنی میں بیٹھ گئے۔۔۔۔ یعنی ہربار، ہم نے مسئلہ حل نہیں کیا، اپنے آپ کو مسئلے کے ساتھ ایڈجسٹ کرلیا۔۔۔۔اورشاید یہی ہماری سب سے بڑی شکست ہے۔

حکومتوں نے ہماری ضرورتوں کو اپنی طاقت بنا لیا اورہماری خاموشی کو اپنی کامیابی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے بھی شاید عوام کو سڑکوں پر لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک کے بعد دوسرا ایسا فیصلہ سامنے آتا رہا جو عام آدمی کے غصے کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ مگر عوام پھر بھی سڑکوں پر نہیں آئے۔حکومت انتظارکرتی رہی،مگرعوام نے انہیں مایوس کر دیا۔۔۔۔وہ چاہتے تھے کہ غصہ پھوٹے، احتجاج ہو، ہنگامہ ہو، لوگ سڑکوں پرنکلیں، نظام کے خلاف نعرے لگیں، تخت و تاج ہلنے لگیں،مگرکچھ نہیں ہوا،صرف خاموشی تھی۔۔۔۔

ایک لمبی، گہری اور خوفناک خاموشی ۔۔۔۔اورشاید اسی خاموشی کو دیکھ کر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہوگا اور کہا ہوگا۔۔۔۔’’ یہ قوم اب کچھ نہیں کرے گی ‘‘۔۔۔۔

مگر ٹھہریے۔۔۔۔۔
کیا واقعی یہ قوم کچھ نہیں کرے گی۔۔۔۔؟ یا ہم اس خاموشی کو سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں ۔۔۔۔؟کیونکہ تاریخ گواہ ہے، ہر خاموشی مردہ نہیں ہوتی ۔۔۔۔کچھ خاموشیاں اندرہی اندرپلتی رہتی ہیں۔۔۔۔اورجب بولتی ہیں تو صرف آواز نہیں نکلتیں۔۔۔۔’’ حساب مانگتی ہیں ‘‘۔۔۔۔

شاید ہمیں اپنے سوال کا جواب اپنے اندر تلاش کرنا ہوگا۔۔۔ عوام خاموش کیوں ہیں۔۔۔۔؟ کیا انہیں مہنگائی نظر نہیں آتی۔۔۔۔؟ کیا بجلی کے بل انہیں نہیں ڈراتے۔۔۔۔؟ کیا پٹرول کی قیمت ان کی جیب پراثرنہیں ڈالتی۔۔۔۔؟ کیا دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں انہیں گرمی نہیں لگتی۔۔۔۔؟ سب کچھ نظر آتا ہے، سب کچھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔ پھر خاموشی کیوں۔۔۔۔؟

اس خاموشی کی پہلی وجہ شاید ’’خوف ‘‘ ہے۔۔۔عام آدمی جانتا ہے کہ اگروہ سڑک پر نکل آیا، حکومت کے خلاف آواز اٹھائی تو اگلے دن اسے اپنے گھر کا چولہا بھی جلانا ہے، بچوں کی فیس بھی دینی ہے،کرایہ بھی ادا کرنا ہے، بجلی کا بل بھی جمع کرانا ہے، چنانچہ وہ غصہ پی جاتا ہے۔۔۔۔اور یہی غصہ آہستہ آہستہ خاموشی بن جاتا ہے۔۔۔۔ دوسری وجہ ’’ بے بسی ‘‘ ہے۔ ہم نے برسوں سے ایک دوسرے کو یہی کہتے سنا ہے، ہمارے بولنے سے کیا ہوگا۔۔۔۔؟

کچھ بدلنے والا نہیں، سب ایک جیسے ہیں، جو ہونا ہے، ہو جائے گا۔۔۔۔ یہ جملے بظاہر معمولی ہیں، مگر قوموں کو اندرسے توڑ دیتے ہیں۔۔۔ جس دن ایک قوم یہ یقین کھو دے کہ اس کی آواز کسی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے، اس دن احتجاج کی جگہ مایوسی لے لیتی ہے۔ پھر آدمی ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا، صرف اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔ تیسری وجہ ’’ ہماری تقسیم ‘‘ ہے۔۔۔۔ ہم مہنگائی کے خلاف بھی ایک ساتھ نہیں ہیں،کوئی اسے حکومت کی ناکامی کہتا ہے، کوئی پچھلی حکومت کا قصورنکالتا ہے۔

کوئی پٹرول کے نرخوں پراحتجاج کرتا ہے تو دوسرا سیاسی جماعت کا دفاع شروع کر دیتا ہے۔کوئی بجلی کے بل پر پریشان ہے تو دوسرا پوچھتا ہے کہ آپ کس جماعت کے حامی ہیں۔۔۔؟یعنی جس لمحے ہمیں اپنے مشترکہ مسئلے پر اکٹھا ہونا چاہیے، ہم ایک دوسرے سے سیاسی شناخت پوچھنا شروع کر دیتے ہیں،یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔حکومتیں بدلتی رہیں، چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر عام آدمی کا مسئلہ وہیں کھڑا رہا۔۔۔۔اورہم۔۔۔۔۔؟ ہم ہربار نئے جھنڈے کے نیچے پرانے دکھ لے کر کھڑے ہوگئے۔

شاید اسی لیے اقتدار کو ہماری خاموشی سے زیادہ ہماری تقسیم پربھروسہ ہے۔۔۔۔ سوال یہ نہیں ، قصوروارکون ہے۔۔۔؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ حل کیا ہے۔۔۔؟ لیکن شاید اس سے بھی بڑا سوال ابھی باقی ہے، کیا عوام واقعی خاموش ہیں۔۔۔۔؟ یا پھر ان کے اندر وہ آواز ابھی زندہ ہے جسے ہم خاموشی سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔؟ کیونکہ خاموش آدمی ہمیشہ بے حس نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ صرف دیکھ رہا ہوتا ہے، برداشت کررہا ہوتا ہے، گن رہا ہوتا ہے۔۔۔۔

اور جب برداشت، غصے سے ملتی ہے تو پھر صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے، ہمیں نہیں معلوم وہ چنگاری کہاں سے آئے گی، مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ ’’ ہرخاموشی ہمیشہ خاموش نہیں رہتی ‘‘۔۔۔۔ اور نہ ہی خاموشی ہمیشہ کمزوری ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک بات یاد رکھیں !! قومیں اچانک نہیں پھٹتیں، پہلے بہت دیر تک برداشت کرتی ہیں۔۔۔۔ لوگ پٹرول کی قیمت برداشت کرتے ہیں، بجلی کے بل برداشت کرتے ہیں، مہنگائی برداشت کرتے ہیں، لوڈشیڈنگ برداشت کرتے ہیں، جرمانے برداشت کرتے ہیں، ٹیکس برداشت کرتے ہیں، پھر ایک دن برداشت ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔

اس لیے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو عوام کی خاموشی پر خوش نہیں ہونا چاہیے، خاموشی کو رضامندی سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔۔۔ اور اگر حکومت یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام مردہ ہو چکے ہیں تو اسے تاریخ پڑھنی چاہیے۔۔۔۔ مردے احتجاج نہیں کرتے، یہ درست ہے، مگرزندہ قومیں بھی ہمیشہ شورنہیں کرتیں، کبھی کبھی وہ خاموش رہ کرصرف یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس کس کا حساب کرنا ہے۔۔۔۔ ایک بات یاد رکھیں !! قومیں اچانک نہیں پھٹتیں، پہلے بہت دیرتک برداشت کرتی ہیں، جب برداشت، غصے سے ملتی ہے تو پھر صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button