
لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ 20 ستمبر سے شروع ہوگا، جس کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز تسلیم کرے تو قومی خزانے کو 3 سے 4 ہزار ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگی حالات کے دوران پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اضافہ کیا گیا، جبکہ مہنگائی اور پٹرولیم لیوی نے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے بجائے ناکافی اور نمائشی پیکیجز کا اعلان کر رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ایران پر امریکی حملے کے بعد فروری میں حکومت کو ریفائنریوں سے بات کرنی چاہیے تھی، تاہم ان کے بقول ایسا نہیں کیا گیا اور ایسے اقدامات کیے گئے جن کا بوجھ عوام پر پڑا۔
امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو زیادہ منافع کیوں دیا جا رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ عالمی مارکیٹ اور دیگر عوامل کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ حکومتی ریونیو اہداف پورے کرنے کے لیے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
شرح سود میں کمی کا مطالبہ
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے شرح سود میں 3 فیصد کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق شرح سود میں صرف ایک فیصد کمی سے 574 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بینکوں کے منافع میں کمی نہیں کرنا چاہتی اور یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ شرح سود کم کرنے کا اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس ہے، جو ایک خودمختار ادارہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے مالی معاملات چلانے والا ادارہ حکومت کے اختیار میں نہیں تو پھر کس کے اختیار میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز اور ری گیسیفکیشن پلانٹس کو اب بھی کیپسٹی پیمنٹس دی جا رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پٹرولیم لیوی ختم، آئی پی پیز سے متعلق مسائل کا خاتمہ اور عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ میں ریلیف دیا جائے۔
ملک بھر سے قافلے اسلام آباد روانہ ہوں گے
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے لیے کوئٹہ، چترال، کالام، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں سے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی سے عوام ٹرین مارچ کی صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی کے پی ٹی آئی سے بھی رابطے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے دوران راستے بند نہیں کیے جائیں گے اور 20 ستمبر کو ایسا کوئی اقدام نہیں ہوگا جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
لاہور میں 33 روز سے جاری دھرنا ختم
دوسری جانب جماعت اسلامی نے لاہور کے مال روڈ پر 33 روز سے جاری دھرنا لانگ مارچ کی تیاری کے لیے ختم کر دیا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد چیئرنگ کراس پر ٹریفک کی بحالی شروع ہوگئی۔
امیر جماعت اسلامی لاہور کے مطابق دھرنا اب ایک تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جماعت اسلامی 20 ستمبر سے شہر بھر میں لانگ مارچ کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کرے گی، جس کے دوران مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی اور عوام سے رابطہ کیا جائے گا۔



