google-site-verification: google86e8af3a50b80061.html
بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ ایک روشن عہد

تحریر: سمیہ ثاقب

علم و فن تیری جدائی پہ صدا روئیں گے۔ ایک ایسے شخص کی آذان جس نے تمام دنیا کے سوئے ہو ئے مسلمانوں کو بیدار کردیا۔ ایک ایسی آواز جس نے تہذیبوں کی سمت کا تعین کر دیا۔ ایک ایسا انسان جو بات کر تا تو زمانہ محمدی کی مثال دیتا تو خلافت راشدہ کی۔ جس کی بات میں اتنا وزن تھا کہ محض خط و کتابت کے زمانے میں وہ بات پوری دنیا میں پھیل جاتی۔

جو لوگوں کے دماغوں سے زنگ صاف کرتا ان گرہوں کو کھولتا جن پر صدیوں کی گرد جم چکی تھی،جی ہاں مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ،آپ کی پیدائش 1903کو دکن میں ہوئی۔مولانا نے اردو ،فارسی، عربی،فقہ اور حدیث کی تعلیم گھر پر حاصل کی اور 1914 میں مولوی یعنی میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کے بعد ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے کیریر کا آغاز کیا۔

جب ہندوستان میں شدھی کی تحریک شروع ہوئی جس میں مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنایا جاتا تھا ایک مسلمان کے ہاتھوں ایک ہندو کا قتل ہوگیا یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ اسلام ظلم و ستم اور تلوار کے ذریعے پھیلا اس بات کے جواب میں مولانا نے کتاب "الجہاد فی الاسلام” لکھی ، جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا کہ اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح اور جنگ پر یہ ایک بہترین کتاب ہے۔علامہ اقبال نے فرمایا کہ میں تمام مسلمانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔

مولانا مودودی نے مسلمانوں کے سیاسی حالات کو بہت قریب سے دیکھا اور اس پر کئی کتابیں لکھیں آپ نے رسالہ ترجمان القرآن جاری کیا جس کا مقصد مغربی خیالات اور ان کا زور ٹوڑنا تھا اور مسلمانوں کے ذہنوں سے انگریزوں کی مرعوبیت کو ختم کرنا تھا اسی رسالے نے آگے چل کر ایک تحریک کو جنم دیا اور یہی تحریک بعد میں جماعت اسلامی کی بنیاد بنی۔

اس جماعت کے صرف دو ہی مقاصد ہیں اللہ اور اس کی رسول کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دینا اور سیاسی نظام نیک اور صالح لوگوں کے سپرد کرنا۔اس جماعت کا قیام 26 اگست 1941کو ہوا۔ مولانا مودودی نے صدیوں کے جمود کو توڑا 20 ویں صدی کی پوری اسلامی دنیا پر سید مودودی کی عظمت اور جدوجہد کا ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ اثر پڑا۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش ہو،مصر کے اخوان المسلمون ہوں ،جماعت اسلامی سری لنکا ہو جماعت اسلامی انڈیا ہو، سوڈان کی الحرکتہ الاسلامیہ ہو یا امریکہ اور کینیڈا کی اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ،دنیا کے گوشے گوشے میں مولانا مودودی کے شاگرد موجود ہیں۔ خلافت اور ملوکیت آپ کی ایک شاہکار تصنیف ہے اور شہرہ آفاق کتاب ہے۔ مولانا مودودی ایک قد آور شخصیت ہیں جن کی کوششوں سے مسئلہ قادیانیت کھل کر سامنے آیا اور پہلی بار اسلام کی تاریخ میں انہیں کافر قرار دیا گیا۔

لیکن اس کام کو کرنےاور ختم نبوت کے ڈاکوئوں کو لگام ڈالنے کےلئے بھی آپ کو ایک کتاب لکھ کر لوگوں کے سامنے اس مسئلے کو رکھنا پڑا جس کے نتیجے میں آپ کو موت کی سزا سنائی گئی اور پابند سلاسل بھی رہنا پڑا لیکن آپ کی کوششوں سے ایکٹ 1974 میں قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا گیا۔

آپ کی علمی خدمات کو ایک مضمون میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا الجہاد فی الاسلام، ترجمان القرآن، پردہ،مسئلہ ملکیت زمین، سود،اسلام اور جدید معاشی نظریات، تنقیحات،تفہیمات، دینیات ، سنت کی آئینی حیثیت اور قرآن مجید کی تفسیر "تفہیم القرآن "جسے قرآن مجید کی بہترین تفسیر مانا جاتا ہے اس کے علاوہ آپ کی کتاب قرآن مجید کی چار اصطلاحیں ایک ایسی کتاب ہے جس میں مولانا مودودی کی تمام کتابوں کا نچوڑ نظر آتا ہے اگر کوئی شخص مولانا مودودی کی فکر کا مطالعہ کرنا چاہے اسے چاہیے کہ اس کتاب سے آغاز کرے بہرحال ان کی ہر کتاب ہی وہ رہنماءکرتی ہے کہ ڈنمارک کا مشنری آپ کی کتاب،شہادت حق،پڑھ کر اسلام لے آتا ہے۔

مولانا مودودی نے لادینیت،سوشلزم ،کمیونزم، سرمایہ دارانہ نظام اور مسئلہ قادیانیت کے خلاف قلمہ حق ادا کیا اور اس کے جواب میں جھوٹے الزامات اور مخالفتوں کو بردباری اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا کسی نے مولانا سے سوال کیا کہ آپ ان لوگوں کو جواب کیوں نہیں دیتے تو فرمایا : شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ میں اس کام میں لگ جاوں ،”میرا فرض اور میری ڈیوٹی مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی” ۔ دنیا بھر کے قائدین آپ کو ام الحرکات تسلیم کرتے ہیں ۔مولانا مودودی کو ان کی خدمات کے پیش نظر شاہ فیصل اہوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

22 ستمبر 1979 کو یہ مرد جری فردحر اللہ کے بلاوے پر اپنی جان جاں آفرین کے سپرد کر گئے اللہ آپ سے راضی ہو جائے۔ آپ وہ دوسرے شخص ہیں جن کی عائبانہ نماز جنازہ بیت اللہ میں ادا کی گئی۔
علم و فن تیری جدائی پہ صدا روئیں گے
حق و باطل کا نیا روپ دکھانے والے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button