بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

مائنزکا معائنہ، بروقت تنخواہ ،سماجی تحفظ،احترام دیا جائے:علی باش

معذورکان کنوں،شہدا کے ورثا کیلئے ماہانہ پنشن، مائننگ ایریاز میں ہسپتال قائم ،لیبر قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے: وی او این کو خصوصی انٹرویو

لاہور:(انٹرویو:قیصرچوہان)لاہور:(انٹرویو/قیصرچوہان)زمین کی تہہ میں اتر کر کوئلہ اور دیگر معدنیات نکالنے والا کان کن ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کے اپنے حصے میں اکثر خطرات، محرومیاں، غیر محفوظ ماحول اور معاشی مشکلات آتی ہیں۔ مائنکی تاریکی میں کام کرنے والا یہ محنت کش ہر روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روزگار کماتا ہے۔ کہیں زہریلی گیس زندگی چھین لیتی ہے، کہیں چھت بیٹھ جاتی ہے، کہیں دھماکا کئی گھروں کے چراغ گل کر دیتا ہے اور کہیں حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی ایک معمولی کوتاہی کو بڑے سانحے میں بدل دیتی ہے۔

پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات، مزدوروں کے حقوق اور حادثات کی روک تھام ، کان کنوں کی فلاح و بہبود اور محفوظ کان کنی کو فروغ دینے کے حوالے سے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ٹریڈ یونین لیڈر علی باش خان، شانگلہ کول مائنز ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سموا)، پاکستان کول مائنز مزدور یونین اورپاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سر گرم عمل ہیں ۔

گزشتہ دنوں پاکستان کول مائنز مزدور یونین کے نائب صدر پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے خیبر پختونخواسے ممبر ایگزیکٹوکونسل سے ایک ملاقات ہوئی ،اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

سوال: علی باش خان صاحب! سب سے پہلے ہمارے قارئین کو بتائیے کہ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

علی باش خان: پاکستان کے معروف ٹریڈ یونین لیڈر سلطان محمد خان کی قیادت میں کام کرنے والی پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کا بنیادی مقصد کان کنوں کے حقوق کا تحفظ،ان کے لیے محفوظ ماحول کار کی فراہمی، مناسب اجرت، سماجی تحفظ اور حادثات کی صورت میں متاثرہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی مالی مدد کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔

ہمارے نزدیک کان کن محض ایک مزدور نہیںبلکہ اپنے خاندان کا کفیل اور ملکی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ کان کنی کے شعبے میں ترقی اسی وقت بامعنی ہو سکتی ہے جب معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ ان محنت کشوں کی زندگیوں کو بھی اہمیت دی جائے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انتھک سے یہ وسائل نکالتے ہیں۔

سوال: پاکستان میں کان کنی کے شعبے کو خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

علی باش خان: کان کنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مشکل اور خطرات سے بھرپور کام ہے، کئی ملکوں نے جدید ٹیکنالوجی،موثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے ان خطرات کو کافی حد تک کم کر لیاہے۔

ہمارے ہاں بنیادی مسائل میں بعض مائنز میں ناقص ہوا داری، زہریلی اور آتش گیر گیسوں کی بروقت نشاندہی نہ ہونا، چھت اور دیواروں کو مضبوط سہارا فراہم نہ کرنا، پرانی مشینری، حفاظتی آلات کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان شامل ہیں۔ بعض مقامات پر حفاظتی قوانین پر عمل درآمد اور مائنز کی انسپکشن کا باقاعدگی سے نہ ہونابھی سوالات کو جنم دیتی ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر حادثے کی وجوہات الگ الگ تحقیق کے ذریعے معلوم کی جائیں۔ کسی بھی واقعے کو محض بدقسمتی قرار دیکر چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں، اگر کوئی حادثہ حفاظتی انتظامات کی کمی یا انسانی غفلت سے پیش آیا ہے تو اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔

سوال: مائنز میں ہونے والے حادثات کی وجوہات کیا ہیں؟

علی باش خان: پاکستان میں مائنز حادثات کی کئی وجوہات ہیں ، ٹھیکیداری نظام ،کوئلہ کانوں میں میتھین جیسی آتش گیر گیس کا جمع ہونا دھماکے کا سبب بنتا ہے، جبکہ کاربن مونو آکسائیڈ اور دوسری نقصان دہ گیسیں کارکنوں کی جان لیتی ہیں۔ ناقص ہوا داری، چھت کا بیٹھ جانا، پتھر گرنا، پانی بھر جانا، بجلی کا ناقص نظام اور دھماکا خیز مواد کا غیر محفوظ استعمال بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ مائنز مزدوروں کو خطرات کی شناخت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی مناسب تربیت نہیں ملتی۔ اگر کان میں گیس کی جانچ، ہوا کی آمدورفت یا چھت کی مضبوطی کے انتظامات تسلی بخش نہ ہوں تو معمولی کوتاہی بھی جان لیوا حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔اس لیے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات پر توجہ دینا ضروری ہے۔
سوال: مائنز میں ہونے والے بیشتر حادثات کس طرح روکے جا سکتے ہیں؟

علی باش خان: بہت سے حادثات کو مو ثر حفاظتی انتظامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے اگرچہ ہر خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ حفاظت کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی ترجیح بنایا جائے۔ہر کان میں باقاعدہ گیس ٹیسٹنگ، موثر وینٹی لیشن، چھت اور ستونوں کی نگرانی، محفوظ برقی نظام، مناسب روشنی، ہنگامی راستے اور ضروری حفاظتی سامان موجود ہونا چاہیے۔ جہاں خطرناک گیس یا چھت بیٹھنے کا خدشہ ہو، وہاں کان کنوں کو کام جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ حادثے کی روک تھام کے لیے مالکان، انتظامیہ، مائن انسپکٹرز اور مزدوروں، سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیداوار اور منافع کو انسانی زندگی پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔

سوال: کان کنی کے شعبے میں جوحفاظتی قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا؟

علی باش خان: قانون تو موجود ہےلیکن اس کا اصل فائدہ اسی وقت سامنے آسکتاہے جب اس پر غیر جانبد ارانہ عمل درآمد ہو۔ خیبر پختونخوا ، بلوچستان سمیت ہر صوبے میں مائنز کی حفاظت، معائنہ اور ضابطہ کاری کے لیے قانون موجود ہے، تاہم قانون کی موجودگی کے ساتھ موثر نگرانی، تربیت یافتہ انسپکشن عملہ اور خلاف ورزی پر مناسب کارروائی بھی ضروری ہے۔

اگر کسی مائن میں حفاظتی انتظامات ناقص ہوں تو معائنے کے دوران اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ سنگین خطرے کی صورت میں ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں اور خطرہ دور ہونے تک کام روکنے کے فیصلے پر عمل ہو۔ حادثے کی صورت میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا تعین سمیت سخت سزا بھی ضروری ہے ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ حفاظتی قوانین ہرمائن میں عملی طور پر نافذ ہوں اور کسی کو بھی اپنی ذمہ داری سے بچنے کا موقع نہ ملے۔

سوال: حکومت اور محکمہ معدنیات کو حادثات کی روک تھام کے لیے فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہیں؟

علی باش خان:سب سے مائن ورکرز کی رجسٹریشن کی جائے ، اس کے بعد مائنزکا باقاعدہ اور موثر معائنے کا نظام مضبوط بنایا جائے،خطرناک مائنز کی نشاندہی کرکے ان کے حفاظتی انتظامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے، معائنہ کرنے والے عملے کو جدید آلات، گیس ڈیٹیکٹرز اور ضروری تکنیکی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

دوسرا، ہر مائن کے لیے تحریری حفاظتی منصوبہ اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا طریقہ کار موجود ہونا چاہیے،مزدوروں کو گیس کے اخراج، آگ لگنے، چھت گرنے یا مائنمیں پانی داخل ہونے کی صورت میں محفوظ انخلا کی تربیت دی جائے۔ تیسرا، حادثات کے اعداد و شمار کو منظم انداز میں جمع کیا جائے، تحقیقات کے نتائج سامنے لائے جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ کون سے حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث حادثہ پیش آیا۔اس کے بعد صرف وقتی بیانات کے بجائے اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔چوتھا، کان کنوں کے لیے علاج و معالجہ ، قانونی معاوضے، اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا نظام آسان اور موثر بنایا جائے۔

سوال: کان کنوں کے تحفظ میںمائنزمالکان اور ٹھیکیداروں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

علی باش خان: مائن کے مالک اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔ حفاظتی آلات، مناسب وینٹی لیشن، مضبوط چھت، گیس کی نگرانی، محفوظ مشینری اور تربیت کے انتظامات محض اضافی اخراجات نہیں بلکہ بنیادی ضروریات ہیں۔اگر ٹھیکیداری نظام کے تحت مزدور کام کر رہے ہوں تو یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان کی رجسٹریشن، اجرت، حفاظتی تربیت اور قانونی حقوق متاثر نہ ہوں۔ کسی ٹھیکیدار کے ذریعے کام کروانے سے کان کے مالک یا متعلقہ انتظامیہ کی قانونی ذمہ داریاں خود بخود ختم نہیں ہو جاتیں۔مزدور کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ خطرناک صورت حال کی نشاندہی کر سکے اور اپنی جان کو لاحق فوری خطرے کے بارے میں آواز اٹھا سکے، اس کی شکایت کی وجہ سے اسے انتقامی کارروائی یا روزگار سے محرومی کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔

سوال: کیا کان کنوں کو حفاظتی آلات فراہم کرنا کافی ہے؟

علی باش خان: نہیں، صرف ہیلمٹ، جوتے، دستانے یا ماسک فراہم کر دینا کافی نہیں۔ حفاظتی آلات اسی وقت موثر ہوتے ہیں جب وہ کام کی نوعیت کے مطابق ہوں، درست حالت میں ہوں اور مزدوروں کو ان کے استعمال کی تربیت دی گئی ہو۔مثال کے طور پر، زہریلی گیس یا آکسیجن کی کمی والے ماحول میں عام ماسک مناسب تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ ایسے حالات میں خطرے کی درست پیمائش، موثر ہوا داری، محفوظ انخلا اور ضرورت کے مطابق مخصوص تنفسی حفاظتی سامان ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح گیس ڈیٹیکٹرز کی دستیابی، ان کی باقاعدہ جانچ اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی بھی اہم ہے۔ حفاظتی انتظامات ایک مکمل نظام کا نام ہیں، صرف چند آلات کی فراہمی کا نام نہیں ہے۔

سوال: خیبر پختونخوا کے کان کنوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

علی باش خان: کان کنوں کے مسائل صرف حادثات تک محدود نہیں۔ ان میں غیر یقینی روزگار، اجرت کی ادائیگی میں تاخیر، علاج معالجے کی مشکلات، پیشہ ورانہ بیماریوں، بچوں کی تعلیم اور بڑھاپے میں معاشی تحفظ جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔مائنز میں کام کرنے والے مزدور کوئلے کی گرد اور مختلف نقصان دہ مادوں کی وجہ سے سانس کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں اس لیے طبی معائنے، پھیپھڑوں کی کارکردگی کے ٹیسٹ، بروقت علاج اور حفاظتی آگاہی کی سہولتیں ضروری ہیںکان کنوں کی رجسٹریشن اور ان کے روزگار کا مستند ریکارڈ بھی اہم ہے، تاکہ حادثے یا بیماری کی صورت میں متاثرہ شخص اور اس کے اہل خانہ کو قانونی حقوق اور دستیاب فلاحی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔

سوال: کسی مائن میں حادثہ پیش آ جائے اور مزدور جاں بحق ہو جائے تو متاثرہ خاندان کے لیے کیا ہونا چاہیے؟

علی باش خان: ایک کان کن کی وفات صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی بلکہ اس کے پورے خاندان کی زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔ بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور علاج معالجے سمیت کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ایسے خاندانوں کو محض ہمدردی کے بیانات نہیں بلکہ بروقت عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ضروری ہے کہ حادثے کی اطلاع متعلقہ حکام تک فوری پہنچائی جائے، ریسکیو کارروائی پیشہ ورانہ انداز میں ہو اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

متاثرہ خاندان کو قانون کے تحت دستیاب معاوضے، ڈیتھ گرانٹ دیگر امدادی سہولتوں کے حصول میں غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے ۔متعلقہ اداروں کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ خاندان کو دستیاب امداد کے طریقہ کار، مطلوبہ دستاویزات اور ادائیگی کے مراحل سے آگاہ کیا جائے۔ جہاں قواعد اجازت دیں، وہاں حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کن کے بچوں کی تعلیم اور خاندان کے طویل مدتی تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔

سوال: کان کنوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولتیں کتنی اہم ہیں؟

علی باش خان: تعلیم اور صحت کسی بھی مزدور خاندان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ کان کنوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی ملنی چاہیے تاکہ وہ بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔ اسی طرح مزدوروں کے لیے طبی مراکز، ابتدائی طبی امداد، پیشہ ورانہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی سہولتیں ہونی چاہیں،خیبر پختونخوا میں مائنز لیبر ویلفیئر کے متعلقہ اداروں کے ذریعے کان کنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مختلف فلاحی سہولتیں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستحق افراد ان سہولتوں سے واقف ہوں اور انہیں بروقت فائدہ پہنچے۔خصوصاً دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے لیے معلومات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقہ کار کو آسان بنانا ضروری ہے۔

سوال: کیا کان کنوں میں حفاظتی شعور کی کمی بھی حادثات کی ایک وجہ ہے؟

علی باش خان: حفاظتی تربیت کی کمی بعض حادثات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن ساری ذمہ داری مزدور پر ڈال دینا درست نہیں۔ اگر کسی کارکن کو تربیت، مناسب آلات یا محفوظ ماحول فراہم نہ کیا جائے تو صرف اسے ذمہ دار قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ضروری ہے کہ کان میں کام شروع کرنے سے پہلے کارکنوں کو حفاظتی تربیت دی جائے، نئے ملازمین کو تجربہ کار عملے کی نگرانی میں کام سکھایا جائے اور وقتاً فوقتاً ہنگامی مشقیں کرائی جائیں۔مزدوروں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ گیس کے الارم، چھت میں دراڑ یا کسی غیر معمولی بو اور کیفیت کی صورت میں کس طرح فوری اطلاع دینی ہے اور محفوظ راستے سے باہر نکلنا ہے۔ حفاظتی شعور اور محفوظ انتظامات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

سوال: آپ پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی بہتری کے لیے کون سی بنیادی اصلاحات ضروری سمجھتے ہیں؟

علی باش خان: میرے نزدیک مائننگ کے شعبے میں چند بنیادی اصلاحات ضرورہونی چاہیں۔ تمام متعلقہ حفاظتی قوانین پر موثر عمل درآمد کیا جائے اور معائنوں کو شفاف بنایا جائے۔ جدید گیس مانیٹرنگ، ہوا داری، چھت کی مضبوطی اور ہنگامی ریسکیو نظام کو بہتر بنایا جائے۔کان کنوں کی رجسٹریشن، تربیت اور طبی معائنے کو باقاعدہ بنایا جائے۔ حادثات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے وجوہات معلوم کی جائیں اور جہاں غفلت ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہو۔

مزدوروں کی اجرت، قانونی معاوضے، علاج اور سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔کان کنوں کی نمائندہ تنظیموں کو حفاظتی پالیسیوں، مشاورت اور مسائل کی نشاندہی کے عمل میں موثر طور پر شامل کیا جائے۔ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں حادثے کے بعد امداد کے ساتھ حادثے سے پہلے روک تھام کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

اس کے علاوہ مائننگ ایریاز میں بھی جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ، ریسکیو سنٹر ،کان کنوں کو فوری ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز سروس متعارف کروائی جائے، حادثات کی کورٹ آف انکوائری میں مزدور نمائندوں کو شامل کرنے،مائنز پر موجود انسپکٹوریٹ کا نمائندہ (مائن سردار)کو با اختیار اور ذمہ دار بنانے سمیت کان کنوں کی سوشل سیکیورٹی ، ای او بی آئی ، مائننگ کمپنی کے پاس رجسٹریشن اور انشورنس کو یقینی بنایا جائے ، کول مائنز مزدوروں کے بچوں کے لیے میڈیکل وانجینئرکالجز میں کوٹہ مقررکیا جائے،کوئلہ کان میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لیے یکساں معاوضہ مقرر کیا جائے، مائننگ کے شعبے سے حادثات کی روک تھام کیلئے ٹھیکیداری نظام ختم کرکے مائنز انسپکٹر قوانین کے مطابق روزانہ کی بنیاد مائن کی انسپکشن یقینی بنائے، مائنز ورکرز کی صحت وسلامتی یقینی بنانے کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے قوانین اور مائن ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔مائنز میں تحفظ اور صحت سے متعلق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے کنونشن-C 176 کی فوری توثیق اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

سوال:شانگلہ کس حوالے سے زیادہ مشہور ہے ؟

علی باش خان :شانگلہ مائن مزدوروں کی نرسری کہلاتا ہے۔ضلع شانگلہ کے 80فیصد مزدور کوئلے کی کان کنی سے وابستہ ہیں،شانگلہ میں کول مائن مزدوروں کی 30 ہزار سے زائد بیوائیں اور 80 ہزار کے قریب یتیم بچے ہیںجبکہ دو سو سے زائد معذور مائن ورکرز ہیں کئی مزدور ہاتھ پاو ¿ں سے محروم یا نابینا ہو چکے ہیںجبکہ اکثر مزدور پھیپھڑوںکی بیماری میں بھی مبتلا ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے کئی معذورمائن ورکرز بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

سوال:ضلع شانگلہ سمیت ملک بھر میں کان کنوں کی بیوائیں ، یتیم بچے اور معذور مائنز مزدور موجود ہیں ان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے آپ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے کیا مطالبہ کریں گے؟

علی باش خان :میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو تجویز دیتا ہوں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال کے ذریعے مائنز حادثات میں شہید ہونے والے کان کنوںکی بیوہ کے لیے ماہانہ 30 ہزار روپے اورمعذور کان کنوں کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے پنشن مقرر کی جائے جبکہ یتیم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ضلع شانگلہ میں لیبر سکول اور علاج و معالجے کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ لبیر ہسپتال بنائے جائیں۔

سوال: نوجوان نسل ا ور عوام کو آپ کا کیا پیغام دیں گے ؟

علی باش خان: میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ محنت کش طبقے کی عزت کریں اور ان لوگوں کی مشکلات کو سمجھیں جو مشکل حالات میں کام کرکے ملک کی معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ کان کن کی محنت اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے، لیکن اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔عام لوگوں کو بھی کان کنوں کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ مزدوروں کے حقوق، محفوظ ماحول اور انسانی وقار کا تحفظ کسی ایک تنظیم یا ادارے کی ذمہ داری نہیںبلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ہم سب کو یہ اصول تسلیم کرنا چاہیے کہ کسی بھی مزدور کی جان اور صحت کو محض کاروباری منافع کے مقابلے میں کم اہم نہیں سمجھا جا سکتا۔

سوال: آخر میں حکومت، کان مالکان ، محکمہ لیبر اور مائن کو آپ کیا پیغام دیں گے؟

علی باش خان: کان کنی کے شعبے میں انسانی زندگی کو اولین ترجیح دی جائے۔ حکومت موثر نگرانی کرے، کان مالکان حفاظتی انتظامات پر سنجیدگی سے عمل کریں اور متعلقہ ادارے حادثات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں۔ہر حادثے کے بعد چند روز تک افسوس اور مذمت کے بیانات دینا کافی نہیں ہے ۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔کان کن زمین کی گہرائیوں میں اتر کر ملکی وسائل نکالتا ہے۔ ریاست، صنعت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی زندگی، صحت، عزت اور خاندان کے مستقبل کا تحفظ کریں۔ کان کن کی حفاظت کوئی رعایت نہیں بلکہ اس کا بنیادی حق ہے اور محفوظ کان کنی ہی ایک ذمہ دار اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button