بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

ہمارا نظام اور ہم عوام

تحریر:محمد محسن اقبال

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث وقتاً فوقتاً نئی شدت کے ساتھ ابھرتی رہی ہے۔ اس بحث کے پس منظر میں ایک ایسی قوم کو مؤثر انداز میں چلانے کے عملی مسائل کارفرما ہیں جس کی آبادی اب چوبیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، جب کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے جو 1970ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس وقت پاکستان چار صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر مشتمل ہے، جب کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر بھی اس انتظامی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ جنوبی پنجاب یا ہزارہ جیسے محدود علاقوں کو صوبائی حیثیت دینے سے لے کر بارہ، پندرہ حتیٰ کہ تیس صوبوں تک کی تجاویز اسی احساس سے جنم لیتی ہیں کہ انتظامی بوجھ بڑھ چکا ہے، علاقائی تفاوت گہرا ہے، آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور دور دراز صوبائی دارالحکومت مقامی ضروریات کا بروقت اور مؤثر جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے صوبے انتظامیہ اور عوام کے درمیان موجود اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں جو اس وقت بہت سے شہریوں کے لیے ایک ناقابلِ عبور دیوار بن چکا ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے دارالحکومت کئی اضلاع سے سینکڑوں میل دور واقع ہیں، جس کے باعث صحت، تعلیم، امن و امان اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے معاملات میں فوری کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔ نئے انتظامی یونٹ علاقائی حالات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دے سکتے ہیں، پنجاب کی بالادستی کے احساس کو کم کرسکتے ہیں جو تنہا ملک کی تقریباً نصف آبادی کا مسکن ہےاور کم نمائندگی رکھنے والے علاقوں کو صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور وسائل کی تقسیم میں زیادہ مؤثر آواز دے سکتے ہیں۔

اسی طرح وہ ادارے اور ترقیاتی فنڈز جو طویل عرصے سے موجودہ صوبائی دارالحکومتوں کے گرد مرکوز ہیں، زیادہ متوازن انداز میں مختلف علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ سرائیکی اور ہندکو جیسی لسانی و ثقافتی شناختوں کو بھی آئینی اور انتظامی سطح پر زیادہ واضح شناخت مل سکتی ہے۔ چھوٹی حکومتوں کی نگرانی نسبتاً آسان ہوگی، جس سے موروثی سیاست کی گرفت کم، متوسط طبقے کی قیادت کے امکانات زیادہ اور سرکاری اداروں کی جواب دہی مضبوط ہوسکتی ہے۔ اس مؤقف کے حامی اکثر بھارت کی مثال پیش کرتے ہیں، جہاں چند انتظامی اکائیوں سے سفر کرتے ہوئے ریاستوں کی تعداد اٹھائیس تک پہنچی، جب کہ افغانستان میں بھی صوبائی اکائیوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں جب آبادی کئی گنا بڑھ جائے تو ایک ہی بڑے انتظامی یونٹ کے ساتھ جڑے رہنا مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔

تاہم اس تصور کے مخالفین اس کے بھاری مالی اور انتظامی اخراجات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ ہر نئے صوبے کے لیے گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ، صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ، سیکریٹریٹ، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، سکیورٹی کا نظام اور پنشن کے اخراجات درکار ہوں گے۔ یوں نہ صرف سیاسی طبقہ پھیلے گا بلکہ مستقل نوعیت کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستان پہلے ہی مالی خسارے، قرضوں اور قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز سے متعلق اختلافات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

مزید برآں، اگر صوبوں کی تقسیم نسلی یا لسانی بنیادوں پر کی گئی تو شناخت کی سیاست مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ اس سے سرحدی تنازعات جنم لے سکتے ہیں اور قومی یکجہتی مضبوط ہونے کے بجائے تقسیم در تقسیم کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ آئینی اعتبار سے بھی کسی نئے صوبے کے قیام یا موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی ایک آسان عمل نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ موجودہ منقسم اور شدید سیاسی ماحول میں یہ ایک نہایت کٹھن آئینی مرحلہ ہے۔

تاریخ اور تجربہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ محض نئے انتظامی یونٹ تشکیل دینے سے کمزور اداروں، اشرافیائی گرفت اور ناقص احتساب جیسے بنیادی مسائل خود بخود ختم نہیں ہوجاتے۔ بعید نہیں کہ وہی سیاسی سرپرستی کے نظام اور مفادات کے جال جو آج بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں موجود ہیں، کل نئے اضلاع اور نئے صوبائی مراکز کے قریب منتقل ہوجائیں۔ سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی طویل انتظامی مشکلات اس امر کی مثال ہیں کہ انتظامی تشکیل نو کے نتائج سامنے آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

مزید صوبے وفاقی وسائل کی تقسیم اور سینیٹ میں نمائندگی کے نظام کو بھی پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ چھوٹی صوبائی اکائیاں مالی اعتبار سے کمزور ثابت ہوکر مرکز پر زیادہ انحصار کی محتاج ہوسکتی ہیں۔ یوں جس مقصد کے لیے نئی تقسیم کی جائے، عین ممکن ہے کہ وہی تقسیم مستقبل میں ایک نئے انتظامی اور مالی انحصار کو جنم دے۔اس بحث کی معنویت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم پاکستان کے صوبائی نقشے کی تاریخی تشکیل پر نظر ڈالتے ہیں۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے وقت مغربی حصے میں مغربی پنجاب، سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان شامل تھے، جب کہ بہاولپور، خیرپور، قلات اور دیگر ریاستیں بھی الحاق کے ذریعے اس انتظامی منظرنامے کا حصہ بنیں۔ کراچی کو وفاقی دارالحکومت کے علاقے کی حیثیت سے الگ کیا گیا، جبکہ بلوچ ریاستوں نے مختصر عرصے کے لیے ایک وفاق بھی تشکیل دیا۔

1954ء میں ون یونٹ اسکیم کا اعلان کیا گیا اور اکتوبر 1955ء میں اسے نافذ کردیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو یکجا کرکے ایک ہی صوبہ، یعنی مغربی پاکستان، تشکیل دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقی پاکستان کے ساتھ برابری قائم کرنا، انتظامی اخراجات کم کرنا اور صوبائیت کے رجحان کو محدود کرنا تھا۔

لیکن جس منصوبے سے انتظامی سہولت اور آئین سازی میں آسانی کی امید کی گئی تھی، وہ رفتہ رفتہ مرکزیت کا استعارہ بن گیا۔ سندھ، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اس کے خلاف گہری بے چینی پیدا ہوئی، کیونکہ اسے علاقائی شناخت اور تاریخی تشخص پر حملہ تصور کیا گیا۔ بالآخر یہ تجربہ پندرہ برس تک جاری رہنے کے بعد 1970ء میں صدر یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ختم ہوا۔ مغربی پاکستان کو تحلیل کرکے تقریباً 1955ء سے پہلے کی بنیادوں پر چار صوبے بحال کیے گئے، اگرچہ سابق ریاستوں کے حوالے سے بعض انتظامی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہی چار صوبے باقی ماندہ پاکستان کی بنیادی وفاقی اکائیاں بن گئے۔ 1973ء کے آئین نے بھی اسی صوبائی ساخت کی توثیق کردی۔

بعد کے برسوں میں اس نقشے میں مختلف نوعیت کی تبدیلیاں آتی رہیں۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو باقاعدہ انتظامی شناخت حاصل ہوئی، بلوچستان اور سندھ کے ناموں کی موجودہ صورت اختیار ہوئی، 2009ء میں گلگت بلتستان کو زیادہ خودمختاری دی گئی، اور 2010ء میں شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ اس آخری تبدیلی نے ہزارہ صوبے کے مطالبے کو مزید تقویت دی۔ پھر 2018ء میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا۔اس تمام عرصے میں سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبے کے قیام، بہاولپور کی سابقہ حیثیت کی بحالی اور مزید انتظامی تقسیم کے مطالبات مسلسل موجود رہے، لیکن 1970ء کے بعد آج تک پاکستان میں کوئی نیا مکمل صوبہ وجود میں نہیں آسکا۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کی تاریخ بھی کم و بیش اسی اتار چڑھاؤ کی عکاس ہے۔ مقامی حکومت کو صوبوں کی تعداد بڑھانے کے مقابلے میں نسبتاً کم خرچ اور زیادہ مؤثر متبادل تصور کیا جاتا رہا ہے۔ نوآبادیاتی دور کے پنچایت اور بلدیاتی ادارے آزادی کے بعد کمزور شکل میں ورثے میں ملے، لیکن ابتدائی برسوں میں انہیں خاطر خواہ توجہ نہ مل سکی۔1959ء میں صدر ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس کے تحت یونین، تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر بلدیاتی کونسلوں کا ایک مربوط نظام قائم ہوا۔ ان اداروں کے ارکان نہ صرف مقامی انتظامیہ میں کردار ادا کرتے تھے بلکہ انہیں ایک انتخابی کالج کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ اس نظام نے نچلی سطح کے اداروں کو غیر معمولی رسمی اہمیت دی بعد ازاں سول حکومتوں کے ادوار میں مقامی اداروں کی اہمیت کم ہوئی، لیکن جنرل ضیاء الحق نے 1979ء کے آرڈیننس کے ذریعے منتخب بلدیاتی اداروں کو دوبارہ زندہ کیا اور غیر جماعتی بنیادوں پر مسلسل انتخابات کرائے۔

جنرل پرویز مشرف کے 2001ء کے نظامِ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا۔ یونین، تحصیل اور ضلع کی سطح پر تین درجاتی نظام قائم کیا گیا، جس کی سربراہی منتخب ناظمین کرتے تھے۔ انہیں قابلِ ذکر انتظامی اور ترقیاتی اختیارات منتقل کیے گئے، جبکہ خواتین اور دیگر طبقات کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی گئیں۔ان مذکورہ ادوار میں مقامی اداروں کو بار بار مضبوط کیا گیا، مگر بعد کی سول حکومتوں میں عموماً بلدیاتی انتخابات مؤخر کیے گئے، منتخب کونسلیں تحلیل کی گئیں یا اختیارات دوبارہ مرکزیت کی طرف منتقل کردیے گئے۔

2010ءکی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے آرٹیکل ایک سو چالیس کی شق اے کے تحت صوبوں پر لازم قرار دیا کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔ اس کے بعد صوبائی قوانین بنائے گئے اور 2013ء سے مختلف مراحل میں بلدیاتی انتخابات بھی منعقد ہوئے، لیکن عملی نفاذ اب بھی غیر یکساں رہا ہے۔ انتخابات میں تعطل، اختیارات کی محدود منتقلی اور مالی خودمختاری کی کمی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔

اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حقیقی معنوں میں مضبوط، بااختیار اور مستقل مقامی حکومتیں قائم کردی جائیں تو نئے صوبوں کے حامیوں کی جانب سے بیان کیے جانے والے بیشتر فوائد—یعنی عوام کے قریب انتظامیہ، فوری ردعمل اور بہتر جواب دہی—صوبوں کی تعداد بڑھائے بغیر بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس راستے میں نہ تو نئے صوبوں کے بھاری مالی اخراجات درکار ہوں گے اور نہ ہی نسلی و لسانی بنیادوں پر تقسیم کے خطرات اتنے نمایاں ہوں گے۔

آخرکار نئے صوبوں کی بحث دراصل ہماری موجودہ انتظامی ساخت کی حقیقی کمزوریوں، غیر مساوی ترقی اور عوام سے دور حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر چھوٹے صوبے خالصتاً نسلی یا لسانی بنیادوں کے بجائے بنیادی طور پر انتظامی کارکردگی، مضبوط اداروں اور مالی احتیاط کے اصولوں پر قائم کیے جائیں تو وہ بعض موجودہ دباؤ کو کم کرنے میں یقیناً مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی بعید نہیں کہ پارلیمان اور اس سے باہر سیاسی جماعتیں اس مجوزہ انتظامی بندوبست کی کسی نہ کسی صورت میں رضامندی، نیم رضامندی یا دونوں کے امتزاج کے ذریعےمنظوری دے دیں۔ اب وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ اس کے عملی نفاذ کی حد کہاں تک جاتی ہے۔تاہم بھاری مالی اخراجات، آئینی پیچیدگیاں اور مزید تقسیم کے ممکنہ خطرات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور بااختیار بنانا زیادہ دانش مندانہ راستہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی دیرپا انتظامی تشکیلِ نو اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کے پیچھے وسیع قومی اتفاقِ رائے، دور اندیشی اور نہایت محتاط منصوبہ بندی موجود ہو۔ ورنہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی تقسیم کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انہی مسائل کو مزید گہرا کردے جنہیں ختم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہو۔

قومیں صرف نقشوں کی لکیریں بدلنے سے نہیں سنورتیں؛ اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب اقتدار عوام کے دروازے تک پہنچے، ادارے مضبوط ہوں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور حکمرانی جواب دہ ہو۔ پاکستان کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے صوبے ہونے چاہییں، بلکہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی کو مؤثر، منصفانہ اور قریب تر حکمرانی کیسے فراہم کی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button