پاک،کینیڈا تجارتی روابط میں ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز کا کردار
سپیڈبریکر،میاں حبیب

ہزاروں میل لمبا سفر شروع کرنے کے لیے بھی پہلا قدم اٹھانا ہی فیصلہ کن ہوتا ہے لیکن جب آپ فیصلہ کر لیں تو فاصلہ جلد یا بدیر کٹ ہی جاتا ہے اور منزل مقصود حاصل ہو ہی جاتی ہے کئی انفرادی اقدام قوموں کی تقدیر بدلنے کا سبب بنتے ہیں مثال کے طور پر برصغیر کے جس بادشاہ کے بیٹے کا علاج ایک انگریز ڈاکٹر نے کیا تھا اور اس کے صحت یاب ہونے پر بادشاہ نے خوش ہو کر ڈاکٹر کو سونے میں تول کر سونا اس کو انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا اگر وہ ڈاکٹر چاہتا تو وہ اتنی بڑی تعداد میں سونا حاصل کر کے ساری زندگی عیش وعشرت میں گزار سکتا تھا لیکن اس ڈاکٹر نے بادشاہ سے کہا کہ میری قوم کو برصغیر سے تجارت کی اجازت دے دی جائے اور پھر وقت نے دیکھا کہ اس تجارتی اجازت نے انگریزوں کی کایا پلٹ دی۔

ایسی ہی سوچ رکھنے والے ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز کے چیف ایگزیکٹو رانا محمد تنویر ہیں جو اپنے ذاتی کاروبار یا مالی مفادات کی بجائے ملک وقوم کا سوچتے ہیں وہ ویژنری بزنس مین ہیں وہ دنیا بھر میں پاکستان کے لیے تجارتی راہیں کھولنے ، پاکستانی ٹریڈرز اور پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کروانے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں انھوں نے اسی حوالے سے پچھلے ماہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 2 اہم تقریبات کینیڈا لائف سٹائل ایکسپو بزنس اینڈ انویسٹر کانفرنس 2026 اور کینیڈا گیٹ وے ایکسپو کا انعقاد برامپٹن اونٹاریو کے پئیرسن کنونشن سنٹر میں کیا ۔

دونوں تقاریب کو ایک دوسرے کے مددگار اور تکمیلی پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا جہاں صنعت کاروں،سرمایہ کاروں،کاروباری راہنماوں،حکومتی نمائندوں اور بین الاقوامی مندوبین کو ایک چھت تلے جمع کیا گیا تھا ۔

عالمی تجارت میں کینیڈا کا ایک منفرد مقام ہے یہ امریکہ،یورپ اور ایشیا کے ساتھ گہرے روابط رکھنے والی جی سیون معیشت ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ بین الاقوامی سطح پر منسلک آبادیوں میں سے ایک ہے سپر پاور امریکہ کا ہمسایہ ہے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں بےپناہ وسائل اور مواقع موجود ہیں۔

امریکہ کی عالمی تجارتی ٹیرف پالیسی کے نمودار ہونے والے اثرات کے پیش نظر ہر کوئی نئے تجارتی دوست تلاش کرنے میں سرگرداں ہے اسی تناظر میں رانا محمد تنویر نے پاکستان اور کینیڈا کو قریب کرنے کی کوشش کی ہے انھوں نے نہ صرف تجارتی بلکہ سفارتی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے ان کی وساطت سے تعلقات کی نئی راہیں کھلی ہیں وہ اس سے قبل بھی کینیڈا،چین،کوریا،سری لنکا اور افریقہ کے کئی ممالک میں پاکستانی اشیاء کو متعارف کروا چکے ہیں۔
وہ کئی پاکستانی اداروں کو بیرونی دنیا میں ایکسپورٹ بڑھانے کے مواقع فراہم کر چکے ہیں ان کی وساطت سے کئی بین الاقوامی سرمایہ کار اور بزنس مین پاکستان سے جڑ چکے ہیں وہ صنعت وتجارت سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی گرانقدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

جہاں تک کینیڈا میں ہونے والی ایکسپو اور کانفرنس کا تعلق ہے تو کسی بین الاقوامی تقریب کی اہمیت سٹیج کے سائز وہاں آویزاں بینروں یا لوگوں کے ہجوم سے نہیں لگایا جاتا اس کی اصل قدر وقیمت ان تعلقات سے ظاہر ہوتی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں ان تقاریب نے دہائیوں کے سفر کو مختصر وقت میں سمو دیا ہے۔
پاکستان پنجاب کے وزیر برائے صنعت وسرمایہ کاری چوہدری شافع حسین کو کینیڈا میں ہیڈ آف دی اسٹیٹ جیسا پروٹوکول دیا گیا کیونکہ دودہائیوں کے بعد کسی پاکستانی وزیر کا یہ آفیشل ٹور تھا اس میں کینیڈا میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم خان،قونصل جنرل ٹورنٹو خلیل احمد باجوہ،کمرشل اتاشی التمش کی کوششیں بھی قابل قدر ہیں اونٹاریو کے وزیر برائے معاشی ترقی روزگار اور تخلیق وتجارت وکٹر فیڈیلی سے چوہدری شافع حسین اور رانا تنویر کی ملاقات بہت ہی کارآمد ثابت ہوئی فیڈیلی نے نہ صرف پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کی بلکہ انھوں نے تجارت سرمایہ کاری اور اہم معاملات پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔
ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز کے زیر اہتمام پئیرسن کنونشن میں ہونے والی تقریب کا افتتاح اونٹاریو کی صوبائی اسمبلی کی رکن اینڈریا ہیزل اور لی فئیر کلوتھ نے کیا پنجاب کے وزیر سرمایہ کاری وصنعت چوہدری شافع حسین مہمان خصوصی تھے۔

دونوں ملکوں کے مقررین اور بین الاقوامی مندوبین نے اپنے خطابات میں تجارت،سرمایہ کاری،صنعت کاری،نیٹ ورکنگ اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے پر رانا محمد تنویر کے کردار کو سراہا چوہدری شافع حسین نے کہا کہ یہ محض ایک ایکسپو نہیں تجارتی مشن ہے جس کا مقصد پنجاب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پاکستان وکینیڈا کے درمیان تجارتی معاشی تعاون کو وسعت دینا ہے ۔

تقریب میں پاکستان کے معروف کاروباری ادارے غنی گروپ کے اویس غنی اور بگ برڈ گروپ کے عبدالباسط بھی شریک تھے جنھوں نے کئی کاروباری ایم او یو بھی سائن کیے افتتاحی سیشن میں پاکستان سفارتکاروں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی عراق کا چھ رکنی تجارتی وفد حسنین محمد جواد محی الدین کی قیادت میں شریک ہوا گھانا سے آئزک کٹسن ٹینر شامل تھے دیگر بین الاقوامی شرکاء میں ایل سلوا ڈور خلیجی ممالک فرانس گلوبکو سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی شامل تھے ۔

تقریب کو ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا کی مختلف چیمبرز آف کامرس اور کاروباری اداروں نے دیکھا اس تقریب کا سب سے اہم پہلو بین الاقوامی مندوبین کو کینیڈا کے بڑے تجارتی مراکز سے جوڑا گیا اس وسیع تر مشن سے منسلک ملاقاتوں میں ٹورنٹو ریجن بورڈ آف ٹریڈ،ورلڈ ٹریڈ سنٹر ٹورنٹو، انویسٹمنٹ اونٹاریو ،اونٹاریو انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سنٹر کے ساتھ میٹنگز شامل تھیں یہ ملاقاتیں اس لیے اہم تھیں کہ کینیڈا کے ادارہ جاتی نظام کو سمجھا جائے ۔

ان ساری سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز ایک ایونٹ آرگنائزر سے بڑھ کر تجارتی سہولت کار اور ادارہ جاتی رابطوں کا ذریعہ بن گیا ہے۔



