پاکستانتازہ ترین

کامیابی کے گُر

بے لگام / ستار چوہدری

کامیابی دراصل خوش قسمت لوگوں کی میراث نہیں، ضدی لوگوں کی جاگیر ہے۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ایسے گزرے ہیں جن کے پاس نہ وسائل تھے، نہ سفارش، نہ کوئی بڑا سہارا، مگر ان کے پاس ایک چیز تھی، وہ گرنے کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کی عادت رکھتے تھے۔ ہم اکثرکسی کامیاب انسان کو دیکھ کر کہتے ہیں، اس کی قسمت اچھی تھی۔ کوئی بڑا آدمی بن جائے تو کہتے ہیں، اس میں ٹیلنٹ بہت تھا۔ کسی کی کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط ٹیم نظرآئے تو کہتے ہیں، اسے اچھے لوگ مل گئے تھے،مگرہم کامیابی کی اصل کہانی کا وہ حصہ بھول جاتے ہیں جو ہمیں نظرنہیں آتا۔ہمیں اس کی کامیابی نظرآتی ہے، اس کی ناکامیاں نہیں۔ ہمیں اس کی منزل دکھائی دیتی ہے، وہ راستے نہیں جن پرچلتے ہوئے اس کے پاؤں زخمی ہوئے۔ ہمیں اس کا نام سنائی دیتا ہے، وہ خاموش راتیں نہیں سنائی دیتیں جب وہ سب کے سو جانے کے بعد بھی اپنے خواب کے ساتھ جاگ رہا تھا۔میرے نزدیک کامیابی کا حساب بہت سادہ ہے۔۔۔۔سب سے پہلا نمبر آتا ہے قسمت کا،لیکن کامیابی کے پیچھے قسمت صرف ایک فیصد ہوتی ہے،قسمت کبھی کسی کے دروازے پر دستک دے دیتی ہے، کبھی کوئی ایسا موقع مل جاتا ہے جس کی توقع نہیں ہوتی۔ زندگی میں اتفاقات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، مگر قسمت آپ کے لیے پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی۔ یہ صرف ایک موقع دے سکتی ہے، اسے کامیابی میں بدلنا آپ کا کام ہے۔۔۔۔اس کے بعد نمبرآتا ہے ٹیلنٹ کا،کسی بھی شخص کی کامیابی کے پیچھے ٹیلنٹ کا کردارصرف دوفیصد ہوتا ہے،جیسے کہ ،کسی کے پاس خوب صورت آواز ہے، کسی کے پاس لکھنے کا ہنر، کسی کے پاس کاروباری ذہن، کسی کے پاس کھیل کا کمال۔ قدرت ہرانسان کو کوئی نہ کوئی صلاحیت ضروردیتی ہے، مگرصلاحیت صرف ایک بیج ہے۔ بیج زمین میں پڑا رہے تو درخت نہیں بنتا۔ اسے محنت، وقت اور مسلسل کوشش چاہیے۔۔۔۔کامیابی کا تیسرا گر ہے’’ ٹیم ورک‘‘،ٹیم ورک کے بیس نمبر ہیں،دنیا کا کوئی بڑا کام صرف ایک آدمی نے نہیں کیا۔ ایک اچھا خیال ایک شخص کا ہو سکتا ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ہاتھ بہت سے درکار ہوتے ہیں۔ اچھے لوگ آپ کے سفر کو آسان کر سکتے ہیں، آپ کی غلطی پکڑ سکتے ہیں، آپ کے کمزور لمحے میں آپ کا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن ابھی کامیابی کا سب سے بڑا رازباقی ہے۔وہ راز جس کے بغیر قسمت بے معنی، ٹیلنٹ ادھورا اور ٹیم ورک بے اثر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وہ ہے ’’ ہار نہ ماننا ‘‘ کامیابی کے اس گر کو ماہرین ستر فیصد نمبردیتے ہیں۔۔۔۔ہارنہ ماننا۔۔۔یہ تین الفاظ بظاہربہت معمولی ہیں، مگر اگر انسان ان کی حقیقت سمجھ لے تو شاید زندگی بدل جائے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ناکامی سے نہیں ہارتے، ہم ناکامی کے بعد اپنے ذہن میں بننے والی ایک چھوٹی سی آواز سے ہار جاتے ہیں۔۔۔۔وہ آواز کہتی ہے، بس بہت ہوگیا، اب نہیں ہوسکتا۔۔۔۔اوریہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بہت سے خواب مرجاتے ہیں۔۔۔۔کبھی غور کیجیے، ایک بچہ چلنا کیسے سیکھتا ہے۔۔۔۔؟ وہ کھڑا ہوتا ہے، دو قدم چلتا ہے اورگر جاتا ہے۔ کیا ماں اسے دیکھ کر کہتی ہے، بیٹا تمہارے اندر چلنے کا ٹیلنٹ نہیں، اب بیٹھ جاؤ۔۔۔۔؟۔۔۔۔ نہیں۔۔۔بچہ گرتا ہے، روتا ہے، پھر اٹھتا ہے،دوبارہ چلتا ہے، پھرگرتا ہے، پھر اٹھتا ہے۔ آخرکار وہی بچہ دوڑنے لگتا ہے۔زندگی بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے، مگر ہم بڑے ہو کر اسے بھول جاتے ہیں،ہم پہلی ناکامی کو آخری فیصلہ سمجھ لیتے ہیں،ایک کاروبارناکام ہوا توکاروبار چھوڑ دیا۔ ایک امتحان میں ناکامی ہوئی تو کتاب چھوڑ دی۔ ایک نوکری نہ ملی تو کوشش چھوڑ دی۔ کسی نے مذاق اڑا دیا تو خواب چھوڑ دیا۔ کسی نے کہا ’’تم نہیں کرسکتے‘‘ تو ہم نے اسے اپنے بارے میں آخری سچ سمجھ لیا،حالانکہ کامیاب لوگوں کی زندگی اٹھا کر دیکھ لیں، ان کے راستے میں کامیابی سے زیادہ ناکامیاں ملیں گی۔فرق صرف اتنا تھا کہ وہ ناکامی کو اختتام نہیں سمجھتے تھے،وہ اسے ایک وقفہ سمجھتے تھے۔۔۔۔اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنی مرتبہ ناکام ہوئے،اصل سوال یہ ہے کہ ناکامی کے بعد آپ نے کیا کیا۔۔۔۔؟اگرآپ نے اپنی غلطی دیکھی، اسے درست کیا اوردوبارہ کوشش کی تو آپ ناکام نہیں ہوئے، آپ نے ایک سبق حاصل کیا ہے،ناکامی دراصل ایک عجیب استاد ہے۔ وہ فیس بہت زیادہ لیتی ہے، مگرسبق ایسا دیتی ہے جو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔۔۔۔اورشاید اسی لیے کامیاب انسان اورعام انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق دولت، ذہانت یا قسمت کا نہیں ہوتا۔۔۔۔ ’’ فرق صرف برداشت کا ہوتا ہے ‘‘۔۔۔۔ایک شخص مشکل آتے ہی راستہ بدل لیتا ہے، دوسرا مشکل کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ایک شخص کہتا ہے، میرے حالات اجازت نہیں دیتے۔دوسرا کہتا ہے، حالات جیسے بھی ہیں، میں راستہ نکالوں گا،یہی ’’راستہ نکالنے‘‘ کی ضد انسان کو وہاں پہنچاتی ہے جہاں صرف خواہش رکھنے والے کبھی نہیں پہنچ سکتے۔دنیا میں خواب دیکھنے والوں کی کمی نہیں۔ ہر دوسرا شخص بہتر زندگی چاہتا ہے، کامیاب ہونا چاہتا ہے، بڑا آدمی بننا چاہتا ہے،مگر خواب اور کامیابی کے درمیان ایک لمبی سڑک ہے،اس سڑک پر تھکن ہے، انتظار ہے، تنقید ہے، ناکامی ہے، تنہائی ہے اور کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ غلط راستے پرچل رہے ہیں،یہیں سترفیصد لوگ راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔اورباقی تیس فیصد۔۔۔؟وہ تھوڑی دیررکتے ہیں، سانس لیتے ہیں، اپنے آنسو پونچھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں،چلو۔۔۔ ایک کوشش اور کرتے ہیں،شاید کامیابی اسی ’’ایک کوشش اور‘‘ کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔کیونکہ کبھی کبھی منزل ہم سے صرف چند قدم دور ہوتی ہے، مگر ہم تھک کر چند قدم پہلے ہی واپس لوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔اورزندگی کا سب سے بڑا افسوس یہ نہیں کہ ہم ناکام ہوگئے،سب سے بڑا افسوس یہ ہے کہ شاید ہم کامیابی سے صرف ایک کوشش دورتھے۔۔۔ اور ہم نے کوشش ہی چھوڑ دی۔۔۔۔
شاید کامیابی اتنی مشکل بھی نہیں جتنی ہم نے اسے سمجھ رکھا ہے۔ایک فیصد قسمت، دو فیصد ٹیلنٹ، بیس فیصد ٹیم ورک اور ستر فیصد ہار نہ ماننا۔قسمت آپ کو موقع دے سکتی ہے، ٹیلنٹ آپ کو دوسروں سے ممتاز کرسکتا ہے، اچھی ٹیم آپ کا سفر آسان کرسکتی ہے، مگر آخر میں منزل تک وہی پہنچتا ہے جو راستے کی مشکلات سے ڈر کر واپس نہیں جاتا۔زندگی میں کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب آپ کو لگے گا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ پیسے نہیں، وسائل نہیں، ساتھ دینے والا کوئی نہیں، راستہ بھی نظر نہیں آ رہا۔بس اسی لمحے اپنے آپ سے ایک سوال کیجیے گا،کیا میں واقعی ہار گیا ہوں یا صرف تھک گیا ہوں۔۔۔۔؟اگر جواب آئے کہ ’’ میں صرف تھکا ہوں ‘‘ تو کچھ دیر آرام کیجیے، مگر سفر مت چھوڑیے۔کیونکہ یاد رکھیے۔۔۔کامیابی ہمیشہ سب سے زیادہ قابل انسان کو نہیں ملتی، کئی بار وہ سب سے آخر تک کھڑے رہنے والے انسان کو ملتی ہے،اس لیے قسمت کا انتظار نہ کریں، اپنے ٹیلنٹ کو ضائع نہ کریں، اچھے لوگوں کا ساتھ پیدا کریں اور سب سے بڑھ کر۔۔۔ہارماننے سے انکار کردیں۔ممکن ہے آپ کی اگلی کوشش ہی وہ کوشش ہو جس کا نام دنیا کامیابی رکھ دے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button