انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینسپورٹس

سب سے زیادہ بار صفر پر آئوٹ ،5 وکٹ کیپروں کا 22سال بعدبھی ریکارڈبرقرار

لاہور:(ویب ڈیسک)  ون ڈے میں سب سے زیادہ بار صفر پر آوٹ ہونے والے 5 وکٹ کیپرزکا  22 سال بعد بھی یہ ریکارڈ برقرار ہے۔
ون ڈے کرکٹ میں وکٹ کیپر کا کردار ہمیشہ سے انتہائی چیلنجنگ سمجھا جاتا ہے۔ اسٹمپس کے پیچھے پورے 50 اوورز تک مسلسل یکسوئی برقرار رکھنا اور پھر بلے سے بھی ٹیم کو مضبوطی فراہم کرنا، دوہری ذمہ داری کا کام ہے۔ جدید کرکٹ میں جب سے ایڈم گلکرسٹ، مارک باؤچر اور کالووترنا جیسے عظیم کھلاڑیوں نے وکٹ کیپرز کے بلے بازی کے معیار کو بدل دیا ہے، تب سے بلے سے کردار ادا کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ تاہم، جارحانہ انداز اور اننگز سنبھالنے کے دباؤ میں کئی مرتبہ یہ عظیم بلے باز اپنا کھاتا کھولے بغیر ہی پویلین لوٹ گئے۔ آئیے ون ڈے تاریخ کے ان 5 عظیم وکٹ کیپر بلے بازوں کے بارے میں جانتے ہیں، جن کے نام اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ناپسندیدہ ریکارڈ درج ہے۔
رومیش کالو وترنا پہلے نمبر پر
سری لنکا کے دھماکہ خیز سابق اوپنر اور وکٹ کیپر رومیش کالووترنا (Romesh Kaluwitharana) اس ناپسندیدہ فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ 1990 کی دہائی میں سنتھ جے سوریا کے ساتھ مل کر ابتدائی 15 اوورز کے پاور پلے میں طوفانی بلے بازی کا ایک نیا رجحان قائم کرنے والے کالووترنا نے 1992 سے 2004 کے درمیان سری لنکا کے لیے 186 ون ڈے میچ کھیلے۔
 انہوں نے اپنے کیریئر کی 179 اننگز میں بلے بازی کرتے ہوئے 3691 رنز بنائے، جس میں 2 سنچریاں اور 23 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ لیکن اپنے انتہائی جارحانہ انداز اور پہلی ہی گیند سے شاٹ کھیلنے کی عادت کے باعث وہ اپنے ون ڈے کیریئر میں مجموعی طور پر 24 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ وکٹ کیپنگ میں شاندار کارکردگی کے باوجود کالووترنا کا نام ون ڈے میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے والے وکٹ کیپرز میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔
ایڈم گلکرسٹ دوسرے نمبر پر
کرکٹ کی تاریخ کے سب سے تباہ کن اور عظیم وکٹ کیپر بلے بازوں میں شمار ہونے والے آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ (Adam Gilchrist) اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ 1996 سے 2008 کے درمیان آسٹریلیا کی جانب سے تین ورلڈ کپ مہمات میں اہم کردار ادا کرنے والے گلکرسٹ نے 282 میچوں کی 274 اننگز میں 96.94 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے 9410 رنز بنائے۔
 ان کے نام 16 سنچریاں اور 53 نصف سنچریاں بھی درج ہیں۔ گلکرسٹ کا ذہن بالکل واضح تھا: پہلی ہی گیند سے گیند بازوں پر دباؤ بنانا۔ اسی جارحانہ انداز کی وجہ سے کئی مرتبہ وہ اننگز کے آغاز میں ہی اپنی وکٹ گنوا بیٹھتے تھے۔ اپنے شاندار ون ڈے کیریئر کے دوران گلکرسٹ مجموعی طور پر 19 مرتبہ صفر کے اسکور پر پویلین لوٹے۔
معین خان 17 مرتبہ صفر پر پویلین لوٹے
پاکستان کے سابق کپتان اور بہترین وکٹ کیپر معین خان (Moeen Khan) 1990 کی دہائی میں پاکستانی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔ 1990 سے 2004 کے درمیان پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے معین نے 211 ون ڈے میچوں کی 176 اننگز میں بلے بازی کی۔ نچلے نمبر پر آ کر تیز رنز بنانے اور فنشر کا کردار ادا کرنے والے معین نے 22.96 کی اوسط سے 3100 رنز بنائے، جس میں 11 نصف سنچریاں شامل تھیں۔
 نچلے نمبر پر بڑے شاٹس کھیلنے کے دباؤ اور اننگز کے آخری لمحات میں تیزی سے رنز بنانے کی کوشش میں معین خان اپنے ون ڈے کیریئر میں مجموعی طور پر 17 مرتبہ اپنا کھاتا کھولے بغیر آؤٹ ہوئے۔ اس کے باوجود، میچ جتوانے والی اننگز کھیلنے کی صلاحیت کے باعث انہیں پاکستان کے کامیاب ترین وکٹ کیپرز میں شمار کیا جاتا ہے۔
مارک باؤچر 16 مرتبہ
انٹرنیشنل کرکٹ میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے سب سے زیادہ شکار کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھنے والے جنوبی افریقہ کے مارک باؤچر (Mark Boucher) اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ 1998 سے 2011 تک جنوبی افریقہ کے اہم وکٹ کیپر رہنے والے باؤچر نے 294 ون ڈے میچوں کی 220 اننگز میں 28.71 کی اوسط سے 4680 رنز بنائے۔
 انہوں نے اپنے کیریئر میں 1 سنچری اور 26 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ باؤچر عموماً جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اپ میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر بلے بازی کے لیے آتے تھے۔ نچلے نمبر پر لوور آرڈر بلے بازوں کے ساتھ تیزی سے رنز بنانے کی ذمہ داری کئی مرتبہ خطرناک شاٹس کھیلنے کا تقاضا کرتی تھی، جس کے باعث باؤچر اپنے ون ڈے کیریئر میں 16 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔
ایڈم پرورے پانچویں نمبر پر
نیوزی لینڈ کے سابق وکٹ کیپر بلے باز ایڈم پرورے (Adam Parore) اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ 1992 سے 2002 کے درمیان نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے مستقل رکن رہنے والے پارورے نے 148 ون ڈے میچوں کی 130 اننگز میں 24.41 کی اوسط سے 2466 رنز بنائے۔ ان کے نام 1 سنچری اور 10 نصف سنچریاں درج ہیں۔
 پرورے نیوزی لینڈ کے لیے مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر میں ایک مضبوط کڑی کا کردار ادا کرتے تھے۔ تاہم، مستقل مزاجی کی کمی اور اہم مواقع پر وکٹ گنوانے کے رجحان کے باعث وہ اپنے 10 سالہ طویل ون ڈے کیریئر کے دوران مارک باؤچر کے برابر ہی 16 مرتبہ صفر کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button