انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

تین چراغ

بے لگام / ستارچوہدری

دنیا کے سارے چراغ بجھ جائیں تو انسان اندھیرے میں رہ سکتا ہے، مگر۔۔۔۔اگرانسان کے اندر کے تین چراغ بجھ جائیں تو روشنی کے شہرمیں بھی راستہ نہیں ملتا۔یہ تین چراغ ہیں۔۔۔۔ علم، شعوراورکردار۔

انسان نے صدیوں سے اندھیروں کو شکست دینے کے لیے چراغ جلائے۔ کبھی ہاتھ میں مشعل اٹھائی، کبھی گھر کی دہلیز پردیا رکھا، کبھی شہرکو روشنیوں سے سجا دیا۔ مگرعجیب بات ہے کہ دنیا روشن ہوتی گئی اور انسان کے اندر کا اندھیرا بعض جگہ اورگہرا ہوتا گیا،کیونکہ باہرکی روشنی آنکھوں کو راستہ دکھاتی ہے، مگراندرکی روشنی زندگی کو راستہ دیتی ہے۔علم انسان کو بتاتا ہے کہ راستہ کہاں ہے۔ شعور اسے سمجھاتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے۔۔۔ اورکردار اسے اس راستے پرچلنے کی طاقت دیتا ہے۔۔۔۔

علم ہو مگر شعورنہ ہو تو انسان بہت کچھ جان کربھی غلط سمت چل سکتا ہے۔ شعور ہومگر کردار نہ ہو تو انسان صحیح اورغلط کا فرق سمجھتے ہوئے بھی غلط کا انتخاب کرسکتا ہے۔ اورکردار ہو مگرعلم نہ ہو تو نیت اچھی ہونے کے باوجود قدم کبھی کبھی منزل سے بھٹک جاتے ہیں،اسی لیے انسان کی اصل روشنی کسی چراغ، بلب یا سورج میں نہیں۔۔۔۔ اس کے اندر جلنے والے ان تین چراغوں میں ہے۔
ایک چراغ کہتا ہے۔۔۔۔ جان لو۔
دوسرا کہتا ہے۔۔۔۔ پہچان لو۔
اور تیسرا کہتا ہے۔۔۔۔ جو درست پہچانا ہے، اس پرقائم رہو۔

شاید اسی لیے قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور روشنیوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت روشن ہوتی ہیں جب ان کے اسکول علم کے چراغ جلائیں، ان کے گھر شعور کے چراغ روشن کریں اور ان کے کردار میں دیانت کا چراغ آخری وقت تک جلتا رہے،سوال ہے ان تین چراغوں میں سب سے پہلا چراغ کون سا ہے۔۔۔؟وہ چراغ جس کے جلنے سے انسان کو باقی دونوں چراغوں کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ ہے۔۔۔۔علم۔۔

علم صرف کتاب کے صفحات پر لکھے ہوئے الفاظ کا نام نہیں۔ علم وہ روشنی ہے جو انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے، اور سوال وہ دروازہ ہے جہاں سے سوچنے کا سفر شروع ہوتا ہے،جس انسان نے سوال کرنا چھوڑ دیا، اس نے سیکھنا بھی چھوڑ دیا۔علم انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ دنیا کیا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیا ایسی کیوں ہے۔ وہ آنکھوں کو منظردیتا ہے، مگراس منظر کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرنے کی جستجو بھی پیدا کرتا ہے۔ایک شخص پڑھا لکھا ہوسکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ صاحب علم بھی ہو۔

ڈگری دیوارپر لٹک سکتی ہے، کتاب الماری میں رکھ جاسکتی ہے، مگرعلم تب پیدا ہوتا ہے جب انسان سیکھی ہوئی بات کو زندگی کے فیصلوں میں استعمال کرنا شروع کرے۔علم کا چراغ جل جائے تو اندھیرا فوراً ختم نہیں ہوتا، مگر انسان کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اندھیرے میں قدم کہاں رکھنا ہے۔یہی علم ایک بچے کو صرف ملازمت کے قابل نہیں بناتا، اسے انسان بننے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہی علم ایک معاشرے کو صرف ترقی کے اعداد نہیں دیتا، اسے ترقی کا مطلب سمجھنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔۔۔۔مگرعلم کی ایک حد بھی ہے۔

انسان بہت کچھ جان سکتا ہے اور پھر بھی غلط فیصلہ کرسکتا ہے۔ وہ کتابیں پڑھ سکتا ہے، دنیا دیکھ سکتا ہے، بڑے بڑے سوالوں کے جواب جان سکتا ہے، مگر اگر اسے یہ شعور نہ ہو کہ اس علم کو کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے تو یہی علم کبھی کبھی طاقت تو بن جاتا ہے، راستہ نہیں بنتا،یہیں آکر دوسرا چراغ ضروری ہوجاتا ہے۔۔۔۔اوراب ہمیں اسی دوسرے چراغ کی طرف بڑھنا ہے۔۔۔

شعوروہ چراغ ہے جو انسان کو صرف دیکھنے نہیں دیتا، سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ دو انسان ایک ہی منظردیکھ سکتے ہیں، ایک ہی خبر سن سکتے ہیں، ایک ہی کتاب پڑھ سکتے ہیں، مگر دونوں کی سمجھ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ فرق آنکھوں کا نہیں، اندر جلنے والے چراغ کا ہوتا ہے۔علم بتاتا ہے کہ آگ گرم ہے، مگر شعور بتاتا ہے کہ ہاتھ کہاں رکھنا ہے۔علم انسان کو الفاظ دیتا ہے، شعوران الفاظ کا مطلب سمجھاتا ہے۔ علم راستے دکھاتا ہے، شعور منزل کا انتخاب کرواتا ہے۔

اسی لیے ہر پڑھا لکھا شخص باشعور نہیں ہوتا، اورکبھی کبھی کم تعلیم یافتہ انسان بھی زندگی کی بڑی حقیقت کو بہت گہرائی سے سمجھ لیتا ہے۔شعور انسان کو ہجوم سے الگ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ہجوم کسی بات کو درست کہے تو باشعور انسان صرف اس لیے سر نہیں ہلاتا کہ سب سر ہلا رہے ہیں۔ وہ سوال کرتا ہے، سوچتا ہے، پرکھتا ہے اور پھر اپنی رائے بناتا ہے۔

شعورکا مطلب ہر بات سے اختلاف کرنا بھی نہیں۔ اصل شعور یہ ہے کہ جہاں ماننا چاہیے وہاں مانا جائے، جہاں سوال کرنا چاہیے وہاں سوال کیا جائے، اور جہاں خاموشی نقصان بن جائے وہاں آواز اٹھائی جائے۔۔۔لیکن شعور کی بھی ایک آزمائش ہے۔انسان جان لے کہ کیا درست ہے، سمجھ لے کہ کیا غلط ہے، پھر بھی اگر وہ درست راستے پر چلنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو تو اس کی سمجھ صرف ذہن میں قید رہ جاتی ہے،یہیں تیسرا چراغ سامنے آتا ہے۔۔۔۔ وہ چراغ ہے۔۔۔۔کردار۔۔۔۔

کردار وہ چراغ ہے جو انسان کے اندرجلتا ہے اوراس کی روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔انسان کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صحیح اور غلط میں فرق نہ جانتا ہو، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب اسے دونوں کا فرق معلوم ہو اور پھر اسے انتخاب کرنا پڑے۔وہاں علم خاموش ہوجاتا ہے، شعور دیکھتا رہتا ہے اور کردار فیصلہ کرتا ہے۔اسی لیے بڑے انسان صرف بڑے علم کی وجہ سے بڑے نہیں بنتے۔ ان کے علم کو شعور راستہ دیتا ہے اور کردار اسے منزل تک پہنچاتا ہے۔

ایک قوم بھی انہی تین چراغوں سے روشن ہوتی ہے۔ اس کے اسکول علم پیدا کرتے ہیں، اس کے معاشرے شعور پیدا کرتے ہیں اور اس کے افراد کا کردار اس روشنی کو محفوظ رکھتا ہے۔اگرعلم ختم ہوجائے تو جہالت راستہ روک لیتی ہے۔اگرشعور بجھ جائے تو ہجوم راستہ طے کرتا ہے۔۔۔۔اوراگرکردارمر جائے تو انسان جانتے بوجھتے بھی اندھیرے کا حصہ بن جاتا ہے۔اس لیے ضرورت صرف چراغ جلانے کی نہیں، انہیں جلائے رکھنے کی ہے۔۔۔۔۔ دنیا کے سارے چراغ بجھ جائیں تو انسان اندھیرے میں رہ سکتا ہے، مگر۔۔۔۔اگرانسان کے اندر کے تین چراغ بجھ جائیں تو روشنی کے شہرمیں بھی راستہ نہیں ملتا۔

یہ تین چراغ ہیں۔۔۔۔ علم، شعوراورکردار۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button