
لاہور:(بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ نے ای میل کے ذریعے طلاق اور یونین کونسل کو نوٹس دینے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر کی جانب سے یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس نہ دینے کے باوجود بیوی طلاق کی اطلاع متعلقہ یونین کونسل کو دے سکتی ہے۔
عدالت کے مطابق شوہر کی قانونی کوتاہی طلاق کے موثر ہونے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اور عورت کو غیر یقینی صورتحال میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔عدالت نے شہری راحیل احمد کی یونین کونسل کی جانب سے طلاق کا موثر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے خلاف درخواست خارج کردی۔
سنگل بنچ نے 13صفحات پر مشتمل عدالتی نظیر کا درجہ رکھنے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا طلاق کا واقع ہونا اور اس کا قانونی طور پر موثر ہونا دو الگ مراحل ہیں۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شوہر اپنی ہی قانونی غلطی یا عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر طلاق کو غیر معینہ مدت تک معطل نہیں رکھ سکتا۔ شوہر کی جانب سے نوٹس نہ دیئے جانے کی صورت میں بھی یونین کونسل قانونی تقاضے پورے ہونے پر طلاق کا موثر سرٹیفکیٹ جاری کر سکتی ہے۔ فیملی کورٹس طلاق کی حقیقت کا تعین کرنے سے انکار نہیں کر سکتیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 7میں ایسی کوئی پابندی نہیں جو بیوی کو یونین کونسل میں طلاق کی اطلاع دینے سے روکتی ہو۔ مذاق میں طلاق دینے کا دعوی محض بیان کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح نوٹس ملنے کے باوجود کونسلنگ کے لیے پیش نہ ہونے والا شوہر بعد میں کارروائی پر اعتراض نہیں کر سکتا۔
قرآنی احکامات اور آئین عورت کی عزتِ نفس اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ فیصلے میں وفاقی وزارتِ قانون و انصاف کو مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 7 میں ترمیم کے معاملے پر غور کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے کی نقل رہنمائی کے لیے صوبے کی تمام فیملی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا۔



