تحریکِ ختمِ نبوت: اتحادِ امت اور آئینی پیش رفت
شاہد اجوید ڈسکوی / دستک

ماہِ ستمبر چوکیدارانِ ختمِ نبوت اور عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے فتح و نصرت، ایمانی مسرت اور روح پرور سرشار کا وہ مبارک موسم ہے جس کی معطر ہواؤں سے ایمان کی شمعیں مجلا و مصفا ہو جاتی ہیں۔ یہ وہی مقدس و محترم مہینہ ہے جب نصف صدی پر محیط صبر آزما جدوجہد، اکابرین کے بے مثال علمی معرکوں اور شہداء کے خونِ جگر کو بارگاہِ الٰہی میں قبولیتِ عامہ کا شرف حاصل ہوا اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر منکرینِ ختمِ نبوت کے ارتداد پر آئینی مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ستمبر کی آمد کے ساتھ ہی ہر پاسبانِ ختمِ نبوت کا دل تشکر اور وجدانی طمأنینت سے لبریز ہو جاتا ہے کہ اسلاف کی شبانہ روز محنتیں بارآور ہوئیں۔ اس بافتوح مہینے میں جب فضاؤں میں "تاجدارِ ختمِ نبوت… زندہ باد” کے نعرے گونجتے ہیں تو قلوب کو وہ بے نام سرور اور باطنی سکون میسر آتا ہے جو کائنات کی کسی اور نعمت میں پنہاں نہیں،یہ سرور محض ایک تاریخی فتح کا جشن نہیں بلکہ تاجدارِ مدینہ ﷺ کی چوکیداری کا حق ادا کرنے اور آقا کی بارگاہ میں اپنی لافانی وفاداری کی تجدید کا انمول ذریعہ ہے۔7 ستمبر کا تاریخ ساز دن تاریخِ عالم اور اسلام کے درخشندہ آسمان کا وہ شکوہ ناک اور لازوال شاہکار ہے جس کا ہر نقش ایمانی غیرت، حریتِ فکر اور عشقِ رسول ﷺ کی جولانیوں سے مرصع ہے۔ یہ محض تقویم کا ایک عام ہندسہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے بیدار ضمائر کی وہ پکار ہے جس نے عظمتِ مصطفیٰ ؐ کی رفعتوں کی پاسبانی کرتے ہوئے باطل کے ایوانوں کو لرزہ براندام کر دیا اور دہر پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی کہ سرورِ کون و مکان، فخرِ موجودات، احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ ہی سلسلۂ نبوت و رسالت کی آخری اور ابدی تتویج ہیں۔ 1974ء کا وہ تاریخی و آئینی معرکہ درحقیقت حق و باطل کے درمیان ایک ابدی اور فتح مند خطِ امتیاز کا قیام تھا جس کی یاد میں ہر سال ملک کے طول و عرض میں "یومِ دفاعِ ختمِ نبوت” ایمانی شکوہ اور بے مثال عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت، انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ، جمعیت علماءِ اسلام ، پاکستان علماء کونسل، مجلس احرار اسلام سمیت تمام دینی و مذہبی جماعتیں، اربابِ بصیرت اور مشائخِ عظام ملک گیر سطح پر پرجوش کانفرنسز، بیداریِ مغز کے سیمینارز اور عظمتِ مصطفیٰ ؐ کے جلسہ ہائے عام کا انعقاد کرتے ہیں جن سے فضا "حرمتِ رسول پہ جان بھی قربان ہے” کی ایمانی صداؤں سے معطر ہو جاتی ہے۔ اس تاریخی اور ہمہ گیر جدوجہد کے خمیر اور ارتقاء کو دیکھا جائے تو اکابرینِ دیوبند کا کردار، ان کا خونِ جگر، علمی تدبر اور بے باک مجاہدانہ قیادت شمس الضحیٰ کی طرح روشن نظر آتی ہے۔
اکابرین نے فتنۂ قادیانیت کے بپا ہوتے ہی اس کی ہلاکت خیز روحانی اور سیاسی جڑوں کو پہچانا اور اس کے قلع قمع کے لیے اپنے تن، من اور دھن کی بازی لگا دی۔ اس مقدس معرکے کے سرخیل امام العصر علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ تھے جن کی آہِ نیم شبی، آخری عمر کا تڑپتا ہوا دل اور علمی و تحقیقی شاہکار "خاتم النبیین” اور "عقیدۃ الاسلام” نے اس فتنے کے علمی بچھونے اکھاڑ پھینکے۔ ان کی مسندِ حدیث سے اٹھی ہوئی فکر نے ایسے بطلِ جلیل پیدا کیے جنہوں نے باطل کی ہر سازش کو خاک میں ملا دیا۔ امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے مجلسِ احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی سحر انگیز خطابت کے صور سے مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونک دی اور قادیان کے گلی کوچوں سے لے کر پورے برصغیر میں نعرۂ تکبیر کی ایسی گونج پیدا کی جس سے باطل کے ایوان لرز اٹھے۔قیامِ پاکستان کے بعد اس جدوجہد نے مزید مربوط اور آئینی شکل اختیار کر لی۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مفتی اعظم مولانا محمد شفیع عثمانیؒ، اور محدثِ عصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ جیسے اکابرین نے علمی، فکری اور آئینی محاذ سنبھالا۔ مولانا محمد یوسف بنوریؒمولانا غلام غوث ہزاروی ،اور مفتی محمود رحمہ اللہ ایسے اکابرین کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کا ایک ہی نقطۂ اتحاد پر جمع ہو جانا اس تحریک کا وہ شاندار موڑ تھا جس نے حکومتِ وقت کو گھٹنے ٹیکنے اور پارلیمنٹ میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی قانونی پاسداری پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور فاتحِ قادیانیت حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ جیسے جلیل القدر اکابرین نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختمِ نبوت کی چوکیداری اور بیداریِ مغز کے لیے وقف کر دی اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر اس نظریاتی سرحد کی ایسی پاسبانی کی جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔یہ تحریک محض علمی مناظروں یا سیاسی قراردادوں کا نام نہیں بلکہ ان ہزاروں شہداء، غازیوں، علماء، مشائخ اور عام عاشقانِ مصطفیٰ ؐ کے مقدس خون سے لکھی گئی داستان ہے جنہوں نے انگریز سامراج اور اس کے خود کاشتہ فتنوں کے سامنے کلمۂ حق کہا۔ 1953ء کی تحریک ہو یا 1974ء کا محاذِ عمل، شمعِ رسالت کے ان پروانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائیں، لاہور اور ملتان کی سڑکوں کو اپنے خون سے لالہ زار کیا، جیل کی تیرہ و تاریک سلاخیں کاٹیں، کوڑوں کی سخت ترین ضربیں سہیں اور کوئے جاناں میں ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے سروں کے نذرانے پیش کر دیے۔ ان مجاہدین کی لازوال قربانیوں نے ثابت کیا کہ ایک مسلمان کے لیے تاجدارِ مدینہ ﷺ کی ختمِ نبوت، ناموس اور مقامِ مصطفیٰ ؐ سے بڑھ کر کائنات کی کوئی نعمت یا متاعِ حیات نہیں ہو سکتی۔
موجودہ عصر میں جب اسلام مخالف قوتیں بالخصوص قادیانیت، سائنسی انداز، جدید ڈیجیٹل ذرائع، سوشل میڈیا کی گمراہ کن فکری یلغار اور انسانی حقوق و آزاد خیالی کے پرکشش نعروں کا لبادہ اوڑھ کر ہماری نسلِ نو کے عقائد پر شب خون مارنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہیں، یومِ دفاعِ ختمِ نبوت کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ حساس، اہم اور حیات آفرین ہو جاتا ہے۔ آج کا معرکہ صرف میدانِ جنگ یا سیاسی فورمز تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ فکر، دانش، اور میڈیا کا معرکہ ہے۔ ایسے تلاطم خیز حالات میں اکابرین کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ، ان کی تصانیف اور مجاہدانہ روش نوجوان نسل کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر نظریاتی و ایمانی ڈھال ہے۔ 7 ستمبر کا یہ عظیم الشان دن امتِ مسلمہ کے ہر فرد، بالخصوص نوجوانوں کو اس عزمِ مصمم کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ناموسِ رسالتؐ اور تحفظِ ختمِ نبوت کی چوکیداری ہمارا ایمان، ہماری تاریخ اور ہماری آئندہ نسلوں کی بقا کی ضامن ہے اور جب تک اس امت کے پاسبان زندہ ہیں، آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے تاجِ ختمِ نبوت پر کسی باطل، گمراہ نظریے کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا جائے گا۔



