انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسپورٹسکالم

کرکٹ کے شاہین،کسی جذبے کے بغیر کھیلے!

چودھری خادم حسین

انگلستان میں لارڈز کے میدان میں شاہینوں کی دوسری شکست اور سیریز انگلینڈ ٹیم کی جھولی میں چلے جانے کے بعد بہت واویلا شروع ہو گیا ہے اور اب تو ”چور ای کہندے چور او چور“ یوں یہ شکست ایک ایسی صورتحال پیدا کر چکی ہے جس سے ظاہر ہو گیا کہ ملکی کرکٹ کے حوالے سے سینئر کھلاڑیوں کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔

کوئی رائے دینے یا کسی اظہار سے قبل انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین کی گفتگو کو زیر غور لانا ہو گا کہ انہوں نے دوسرے برطانوی کھلاڑیوں کے برعکس ایک ایسی بات کہی جو بالکل واضح تھی لیکن اِس حوالے سے بات نہیں کی جا رہی تھی۔ان کا یہ تاثر سو فیصد درست ہے کہ گراؤنڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں کوئی جذبہ نہیں تھا اور نہ ہی ایسا جوش، جس سے اندازہ ہوتا کہ کھلاڑی کھیل کے لئے پُرعزم ہیں۔ ناصر حسین کا یہ تجزیہ درست ہے خود میں نے بھی میچ دیکھتے ہوئے یہی محسوس کیا کہ کھلاڑی قطعی طور پر کھیل سے لاتعلق ہیں اور سلمان علی آغا جب پہلے میچ کی کپتانی کر رہے تھے تو ہ چیونگم چباتے ہوئے میدان میں سود و زیاں سے لاپرواہ نظر آتے تھے اور ایسا ہی کچھ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی تھا،شان اور سعود شکیل بھی کس کسی لمحے گیند پکڑ لیتے تھے ورنہ تو فیلڈنگ بھی ناقص تھی۔

کرکٹ میرا شوق بلکہ ایک حد تک جنون بھی ہے،میں وقت ملے تو یہ کھیل باقاعدہ دیکھتا ہوں، میں نے بنگلہ دیش اور شاہینوں کا مقابلہ دیکھا تو بنگلہ دیش والوں نے آسٹریلیا کی سرزمین پر جب آسٹریلین ٹیم کو شکست دی تو وہ میچ بھی دیکھا، بنگلہ دیش والوں کا جذبہ عروج پر تھا اور فتح نے اُن کے قدم چومے۔ اگلے ٹیسٹ میں وہ ہار گئے تو ان کا جذبہ نہیں ہارا، وکٹ نے ایسی صورت اختیار کی کہ وہ آسٹریلین باؤلرز کے سامنے جم نہ سکے۔ بہرحال پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچز میں بنگلہ دیش کی کارکردگی دیکھی تو ظاہر  ہوتا تھا کہ ان کا شمار بڑی ٹیموں میں ہو گا اور ادھر بڑی ٹیموں میں مقام بنا لینے والی ٹیم اب منفی ہو گئی ہے۔

کھیل کو دیکھتے ہوئے مجھے واضح محسوس ہوا کہ دو تین حضرات پرفارم نہیں کرپا رہے تو تین چار وہ بھی ہیں جو جان بوجھ کر سیریز ہارنے پر تلے ہوئے تھے،صاف نظر آیا کہ سلمان علی آغا اور شان مسعود دُکھی ہیں اور ان کا کھیلنے کا موڈ نہیں ہے۔ خود ان کی کارکردگی پر نظر ڈال لیں۔ سلمان آغا ابھی تک وائٹ بال کے کپتان ہیں اور ان کو دورہ کرنے والی ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا تھا۔ وہ کافی عرصہ سے آؤٹ آف فارم ہیں اور ان کی کارکردگی مایوس کن تھی، پھر بھی ان کو نائب کپتان بنا کر بھیجا گیا تو قارئین! یہ بھی حقیقت ہے کہ بابر کو دوبارہ کپتان بنا دینا ان کو ناگوار گذرا تھا، میرا اندازہ ہے کہ بابر کی بطور کپتان سلیکشن عاقب جاوید کے لئے بھی تکلیف دہ تھی یہ تو چیئرمین محسن نقوی کی پسند کا معاملہ تھا، کہا جاتا ہے کہ بابر کو کپتان بنا کر ان کے دِل کا بوجھ ہلکا کیا گیا تھا لیکن ان حضرات کو یہ پسند نہیں آیا تھا۔میں نے اپنی سطور میں بابر کے لئے تجویز کیا تھا کہ ان کو قیادت نہ دی جائے بلکہ وہ خود اجتناب کریں اور کھیل پر توجہ دیں کہ اِس وقت وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو ملک کو مزید اعزاز دِلا سکتے ہیں کہ ابھی ان کی کرکٹ باقی  ہے لیکن قیادت کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے اس لئے وہ کھلاڑی رہنے کا فیصلہ نہ کر پائے اور اب سازش کے گرداب میں ہیں جو بابر کو کسی قیمت پر نہ صرف قیادت پر نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اس کی کرکٹ ختم کرانا چاہتے اور عاقب جاوید نے تو شکست کا الزام بابر پر لگا بھی دیا ہے۔

دونوں ٹیسٹ میچوں کے حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کی ناتجربہ کاری کا یہ عالم تھا کہ وہ پہلے ٹیسٹ کی وکٹ کو ہی نہیں پڑھ سکے اور نہ ہی انہوں نے انگلینڈ ٹیم پر نظر دالی جس میں سپنسر کوئی نہیں تھا اور چار فاسٹ باؤلر تھے۔ ہمارے تین باؤلروں کی حالت یہ تھی کہ کوئی135-36 کلو میٹر  کی رفتار سے زیادہ رفتار پر گیند نہیں کر سکا ایک آدھ گیند 138 یا 139 تک چلی جانا کوئی بات نہیں۔ عباس تجربہ کار تھا اور کاؤنٹی کھیلتا ہے اُسے رکھنا سمجھ میں آتا تھا۔ محمد علی اس حد تک گوارا ہے کہ اس کی رفتار بہتر ہے اور وہ دلجمعی سے باؤلنگ بھی کر لیتا ہے پھر اس سے زیادہ حیرت اِس امر پر ہے کہ پہلے میچ میں بری طرح ہار جانے کے بعد بھی دوسرے میچ میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی، حالانکہ عثمان کی جگہ عبید کو ٹیم میں شامل کرنا لازم تھا اور رضوان کی جگہ نوجوان وکٹ کیپر کو موقع دینا لازم تھا، غوری بیٹنگ بھی بہتر کر لیتا  ہے اگر یہ فیصلہ ہو جاتا تو رضوان کے حصے میں یہ رسوائی نہ آتی جو اب نکمے حضرات کے ساتھ شامل ہو کر واپس بھجوانے میں ہوئی ہے۔

اب اس شکست کے بعد عاقب جاوید اینڈ کو نے جو کیا ہے اس پر پورے ملک کے سینئر کھلاڑی اور سپورٹس رائٹرز اور صحافی حیران ہیں شاہد آفریدی نے درست کہا کہ ٹی 20 ٹیم کے کھلاڑی بھیج دیئے ہیں، اوپننگ کے لئے امام الحق کا متبادل صائم کو بنایا گیا، کیا بورڈ حضرات نے صائم ایوب کو اٹھتے بال کو ہُک کرتے دیکھا ہے جس پر کبھی کبھار چھکا لگا تو عام طور پر ڈیپ لیگ پوزیشن پر کیچ ہوا،انگلینڈ کے باؤلر تو بال ہی ایسی کرتے ہیں کہ صائم کو یہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہونا ہو گا۔

بہرحال بہت کچھ کہا جا رہا ہے، بات بڑھی سیدھی ہے کہ بورڈ سے پیر تسمہ پاء فارغ نہیں ہوں گے تو کچھ نہیں ہو گا، سب سے پہلے عاقب جاوید سے نجات لازم ہے کہ ہر سازش کے پیچھے وہی نظر آتے ہیں۔ یوں بھی ملک بھر میں ہر کوئی ان کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے،ان کے پاس کیا اور کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ چپک کر رہ گئے ہیں۔

ٹیم کی بہتری کے لئے نظر انداز کھلاڑیوں پر توجہ دینا ہو گی آخر کامران غلام کا کیا قصور کہ وہ اب بھی نظر میں نہیں آیا۔ سینئر کھلاڑی تو یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ شاہین آفریدی اور نسیم شاہد کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button