انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

کہانی ابھی باقی ہے

بے لگام/ ستارچوہدری

آپ بہت رو چکے ہیں۔۔۔ اب ذرا آنسو صاف کر لیجیے۔۔۔یہ جملہ شاید عجیب لگے، مگر آج میں آپ سے مہنگائی، غربت، بجلی کے بل، پٹرول کی قیمت اور خالی جیب کی بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ سب آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں بتانا چاہتا کہ زندگی کتنی مشکل ہوگئی ہے، کیونکہ آپ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو مشکل آپ کے ساتھ چلتی ہے اور رات کو واپس آتے ہیں تو دروازے پر آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ آپ کو یہ بتانے کے لیے کسی کالم نگار کی ضرورت نہیں کہ بازار مہنگا ہے، علاج مہنگا ہے، بچوں کی تعلیم مہنگی ہے اور عام آدمی کی زندگی ہر روز ایک نیا امتحان بن چکی ہے۔آج میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے آپ کو شکست خوردہ مت سمجھیں۔ہاں، حالات خراب ہیں۔ بہت خراب ہیں۔ مگر حالات کبھی مستقل نہیں رہتے۔ رات کتنی ہی لمبی ہو، صبح کو روک نہیں سکتی۔ خزاں کتنی ہی ضد کرے، بہار کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں کرسکتی۔ اور قومیں جب مشکل وقت سے گزرتی ہیں تو ان کے پاس سب سے قیمتی چیز ان کی جیب میں نہیں، ان کے دل میں موجود ’’ امید ‘‘ہوتی ہے۔میں جانتا ہوں، آپ میں سے بہت سے لوگ تھک چکے ہیں۔ کسی کو بیٹے کی فیس کی فکر ہے، کسی کو بیٹی کی شادی کی، کسی کو بیمار ماں کی دوا کی، کسی کو گھر کا کرایہ دینا ہے اور کسی کو یہ سوچنا ہے کہ آج گھر میں چولہا کیسے جلے گا۔ مگر ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔۔۔ اس سب کے باوجود زندگی رکی نہیں۔ ماں اب بھی بچے کو صبح جگاتی ہے، باپ اب بھی کام کی تلاش میں نکلتا ہے، کسان اب بھی زمین میں بیج ڈالتا ہے، دکاندار اب بھی اپنی دکان کھولتا ہے اور نوجوان اب بھی ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی دروازے پر دستک دیتا ہے۔یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟ یہ امید ہے۔۔۔ اور شاید ہم نے اسی امید کو سب سے زیادہ نظرانداز کیا ہے۔ ہم روز اپنے زخم گنتے رہے، مگر یہ بھول گئے کہ زخموں کے باوجود ہم زندہ ہیں۔ ہم نے ہر دن کی تلخی دیکھی، مگر یہ نہیں دیکھا کہ ہر صبح ہمارے دروازے پر ایک نیا دن بھی رکھ جاتی ہے۔ ہم نے اندھیرا دیکھا، مگر چراغ جلانے والے ہاتھ نہیں دیکھے۔ اس لیے آج میں آپ کو رلانے نہیں آیا۔ آج میں آپ کے آنسو صاف کرنے آیا ہوں۔۔۔ اور صرف اتنا کہنے آیا ہوں کہ ،کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔


ہم نے شاید ایک غلطی کی ہے۔ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ بتانا شروع کردیا کہ پاکستان میں کچھ اچھا نہیں ہوسکتا۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں مستقبل کے خواب دکھانے کے بجائے خوف دکھاتے ہیں۔ نوجوان نوکری ڈھونڈنے نکلتا ہے تو ہم اسے پہلے ہی بتا دیتے ہیں کہ یہاں کچھ نہیں رکھا۔ کاروبار شروع کرنے والا پہلے ہی سوچ لیتا ہے کہ حالات اجازت نہیں دیں گے۔ یوں آہستہ آہستہ ایک قوم کے ہاتھ سے سب سے قیمتی چیز نکل جاتی ہے۔۔۔ ’’ یقین ‘‘ ۔۔۔۔ اور قوم جب اپنے مستقبل پر یقین کھو دے تو پھر بڑے سے بڑا خزانہ بھی اسے خوشحال نہیں کرسکتا۔مگر میں آج اس سوچ سے اختلاف کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان صرف وہ نہیں جو ہمیں ٹی وی کی سکرین پر نظر آتا ہے۔ پاکستان وہ نوجوان بھی ہے جو رات گئے تک پڑھ رہا ہے۔ وہ لڑکی بھی ہے جو اپنے والدین کا سہارا بننے کے لیے ہنر سیکھ رہی ہے۔ وہ کسان بھی ہے جو خراب موسم کے باوجود اگلی فصل کی امید میں زمین تیار کر رہا ہے۔ وہ استاد بھی ہے جو محدود وسائل کے باوجود بچوں کو پڑھا رہا ہے۔ وہ ڈاکٹر بھی ہے جو تھکاوٹ کے باوجود مریض کے پاس کھڑا ہے۔ وہ مزدور بھی ہے جو صبح سورج سے پہلے اٹھ کر اپنے بچوں کے لیے روزی کمانے نکل جاتا ہے۔ یہ لوگ پاکستان کی اصل دولت ہیں۔۔۔ اور مجھے یقین ہے کہ یہی لوگ ایک دن اس ملک کی کہانی بدلیں گے۔ ہمیں شاید کسی معجزے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف اپنے اندر موجود اس چھوٹی سی روشنی کو بجھنے نہیں دینا۔ ایک آدمی اپنے گھر کو سنبھالے، دوسرا اپنے کاروبار کو دیانت سے چلائے، تیسرا اپنے بچے کو اچھی تعلیم دے، چوتھا کسی ضرورت مند کا ہاتھ پکڑ لے۔۔۔ تو معاشرے بدلنے لگتے ہیں۔ اچھے دن ہمیشہ کسی حکمران کے اعلان سے نہیں آتے۔ کبھی کبھی اچھے دن خاموشی سے لوگوں کی محنت میں جنم لیتے ہیں۔۔۔ اور شاید ہم اسی لمحے کو دیکھ نہیں پا رہے۔ ممکن ہے ہماری اگلی صبح آج سے بہتر ہو۔ ممکن ہے ہمارے بچوں کو وہ پاکستان مل جائے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا۔ ممکن ہے وہ دن آئے جب کسی باپ کو بچے کی فیس کے لیے اپنی دوا نہ بیچنی پڑے، کسی ماں کو گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنی خواہشیں نہ مارنی پڑیں اور کسی نوجوان کو ڈگری ہاتھ میں لیے مایوسی کے ساتھ گھر واپس نہ آنا پڑے۔ ممکن ہے۔۔۔ اور جب تک ’’ممکن ہے‘‘ کا لفظ ہماری زبان میں زندہ ہے، تب تک امید بھی زندہ ہے۔۔۔ اس لیے اپنے بچوں سے یہ مت کہیں کہ پاکستان میں کچھ نہیں رکھا،انہیں کہیں۔۔۔ یہ ملک ابھی بننا باقی ہے۔۔۔ اور شاید اسے بنانے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔۔۔
شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی گفتگو کا انداز بدل دیں۔ ہر صبح اپنے بچوں کو یہ بتانے کے بجائے کہ حالات خراب ہیں، انہیں یہ بھی بتائیں کہ حالات بدلے جا سکتے ہیں۔ ہر رات اپنے آپ کو یہ یاد دلانے کے بجائے کہ آج کیا کھویا، کبھی یہ بھی سوچیں کہ کل کیا بنایا جاسکتا ہے۔ہمیں اس ملک سے محبت کے لیے اس کے مسائل سے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں سچ بولنا ہے، سوال بھی پوچھنے ہیں، غلطیوں کی نشاندہی بھی کرنی ہے، مگر اپنے دل میں پاکستان کے لیے امید کا چراغ بھی جلائے رکھنا ہے۔کیونکہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور خزانے سے نہیں بنتیں۔۔۔’’ قومیں یقین سے بنتی ہیں‘‘۔۔۔اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے اچھے دن ابھی گزرے نہیں ہیں۔شاید آنے والا وقت ہمارے لیے آسان ہو۔ شاید ہمارے بچوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں۔ شاید ہمارے شہروں میں پھر سے رونقیں لوٹیں، بازاروں میں خوشحالی آئے، گھروں میں سکون اترے اور چہروں پر وہ مسکراہٹ واپس آجائے جسے ہم نے مہنگائی اور پریشانی کے شور میں کہیں کھو دیا ہے۔بس ہمیں ایک کام کرنا ہے۔۔۔ امید نہیں چھوڑنی۔کیونکہ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، ایک چھوٹا سا چراغ اسے چیلنج کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔۔۔اور اگر وہ چراغ ایک گھر میں جل جائے، پھر دوسرے گھر میں، پھر تیسرے میں۔۔۔ تو ایک دن پورا شہر روشن ہوسکتا ہے۔سو میرے عزیز قارئین۔۔۔ آج نہ روئیے۔اپنے آنسو صاف کیجیے۔اپنے بچوں کو سینے سے لگائیے۔۔۔۔اور انہیں بتائیے کہ ان کا مستقبل ابھی باقی ہے۔پاکستان کی کہانی بھی ابھی باقی ہے۔۔۔اور شاید اس کہانی کا سب سے خوبصورت باب ابھی لکھا جانا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button