لاہور(بیوروچیف) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر پٹرولیم لیوی کا خاتمہ وزیراعظم سے ملاقات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا تو ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو مشاورت کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا اور عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے 42 روز تک دھرنا دے چکی ہے، جبکہ ملک گیر جلسوں اور دستخطی مہم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق اتوار کو اوکاڑہ میں جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیراعظم کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر لیوی ختم کرنے پر بات نہیں ہوتی تو انہیں ملاقات کا کوئی شوق نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جماعت اسلامی کی امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں کی مراعات اور اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کا حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن حکمرانوں کی مراعات اور شاہانہ اخراجات کے وقت یہ دباؤ کہاں چلا جاتا ہے؟ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مبینہ طور پر 11 ارب روپے کا طیارہ خریدنے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور کراچی میں اس کی سیاسی پوزیشن پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی میں بلدیاتی سیاست کے دوران اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے میئر کی نشست حاصل کی۔ یہ مؤقف حافظ نعیم الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران اختیار کیا۔
پنجاب میں تعلیم اور زراعت کی صورتحال پر تنقید
امیر جماعت اسلامی نے پنجاب میں گزشتہ چار دہائیوں سے شریف خاندان کی حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تعلیم کا معیار متاثر ہوا ہے اور نویں جماعت کے امتحانات میں 50 فیصد سے زائد بچوں کی ناکامی تشویش ناک ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مریم نواز کی حکومت نے 11 ہزار اسکول فروخت کر دیے ہیں، جبکہ مزید 25 ہزار اسکول فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے زرعی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈی اے پی کھاد کی فی بوری قیمت میں 3 ہزار روپے اضافہ ہوا، جبکہ کسانوں سے گندم تقریباً 3 ہزار روپے فی من خریدی گئی اور اب پنجاب میں آٹے کی قیمت 6 ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے مطابق گندم کی قیمت بھی 5 ہزار روپے فی من سے بڑھ گئی ہے، جس سے عوام اور کسان دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے غربت کے حوالے سے عالمی بینک کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ تشویش ناک ہے اور گزشتہ پانچ برس کے دوران پنجاب میں غربت زیادہ بڑھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اشتہارات کے ذریعے کارکردگی کے دعوے کرنے کے بجائے عوامی مسائل حل کرے۔
بی آئی ایس پی اور معاشی پالیسیوں پر اعتراضات
حافظ نعیم الرحمان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ غریبوں کی امداد کے لیے مختص رقم میں شفافیت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پروگرام کو وسعت دینے کے مؤقف پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرکے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔ ان کے مطابق شرح سود میں بتدریج کمی، ملکی ریفائنریوں کی استعداد کار میں اضافہ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھا کر عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں کی مراعات میں اضافہ اور عوام کی مشکلات میں مسلسل بڑھوتری قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی احتجاجی تحریک آگے بڑھائے گی۔
دفاعی معاہدے اور دہشتگردی کے خاتمے پر مؤقف
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے اور اس معاہدے کو کسی اسلامی ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔
نوٹ: خبر میں سیاسی رہنما کی جانب سے بیان کیے گئے الزامات اور اعدادوشمار کو ان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ ان کی آزادانہ تصدیق الگ سے ضروری ہے۔



