پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور مذاکرات ساتھ ساتھ جاری رکھنے کا فیصلہ، بات چیت ہوئی تو صوابی میں پڑاؤ ہوگا
سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں مذاکرات اور لانگ مارچ جاری رکھنے پر اتفاق، بیرسٹر گوہر کا عمران خان سے ملاقاتوں کی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ، پی ٹی آئی کا گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کا اعلان
پشاور، اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر قیادت کے اجلاس میں لانگ مارچ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات بیک وقت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو لانگ مارچ کے شرکا صوابی کے مقام پر پڑاؤ کریں گے۔
سی ایم ہاؤس پشاور میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، لانگ مارچ، مذاکرات اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس مؤقف پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ مسائل کا حل نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے ساتھ لانگ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر لانگ مارچ جاری رہے گا: بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سنجیدگی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ جاری رہے گا، لیکن مذاکرات کے لیے دروازے بند نہیں کیے گئے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ وفاقی مداخلت کے باعث خیبر پختونخوا حکومت کی عمل داری کمزور ہوئی ہے۔ ان کے بقول صوبے میں عملاً گورنر راج جیسی صورتحال ہے، تاہم اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں، بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر مؤثر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے تین وزرا سمیت نو ارکان صوبائی اسمبلی اور آٹھ ارکان قومی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنیں اور ایک کزن بھی جیل میں ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیاسی مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے موجودہ سیاسی اور سکیورٹی بحران کا حل تلاش کرے۔
عمران خان سے ملاقات اور علاج ہمارا مطالبہ ہے: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے نو ماہ انتظار کیا ہے اور اس کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کی سہولت یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں۔ سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ عدالتوں اور ججوں کے احکامات پر عمل نہیں کیا جا رہا، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتوں کے ذریعے پی ٹی آئی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں ردعمل سامنے آیا تو وہ ان کے بقول صرف ان کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی جانب سے بھی آسکتا ہے۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور سے متعلق اختلافات کی خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صفوں میں اتحاد موجود ہے۔
سہیل آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ ان کی لڑائی گورنر سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جن کے ذریعے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر فوجی آپریشن کی تجویز دی گئی تو ان کا مؤقف اس کی مخالفت میں ہوگا۔
صوابی میں بڑے اجتماع کی تیاری، پرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مردان کے منگا بازار میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوابی میں ہونے والے اجتماع کے لیے بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے۔
انہوں نے ملک بھر سے پی ٹی آئی کارکنوں اور عمران خان کے حامیوں کو اپنے منتخب نمائندوں کی قیادت میں صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں شرکا کا استقبال کیا جائے گا اور ان کی دیکھ بھال کا انتظام ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکن ہر دستیاب ذریعے سے صوابی پہنچنے کی کوشش کریں اور پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان کے مطابق گرفتاریاں اور دباؤ پی ٹی آئی کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ پشاور سے ڈی چوک اسلام آباد کی جانب بڑھے گا، تاہم کارکنوں کو پرامن رہنے اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمرجنسی کا نفاذ مسئلے کا حل نہیں: شوکت یوسفزئی
ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے صوبے میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا اقدام ایک غلط فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ موجودہ بحران ختم نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور کرے اور عمران خان سے ملاقات کا انتظام کرکے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔
شوکت یوسفزئی نے حکومت کو مولانا فضل الرحمان کی ثالثی سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی باتیں پی ٹی آئی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہیں، لیکن پارٹی اپنے مطالبات کی منظوری تک لانگ مارچ جاری رکھے گی۔
واضح رہے: گورنر راج، ایمرجنسی، گرفتاریوں اور حکومتی اقدامات سے متعلق بیانات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے الزامات اور دعوے شامل ہیں۔ ان معاملات پر وفاقی حکومت کا مؤقف اور متعلقہ سرکاری تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔



