لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر مذاکرات کا چوتھا دور بھی حتمی اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگیا۔ مذاکرات اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہوئے، جن میں جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ حکومتی وفد کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم میں رانا ثناء اللہ، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل تھے۔ مذاکرات کے بعد لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے عوام کو ریلیف دینے سے متعلق اپنی تجاویز دلائل کے ساتھ پیش کردی ہیں، تاہم حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق حکومت نے مزید وقت مانگا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔
انہوں نے پالیسی ریٹ میں کمی، ریفائنریوں سے متعلق معاملات اور وفاقی سطح پر بعض وزارتوں کے اخراجات سمیت مختلف امور کو بھی مذاکرات میں اٹھانے کا ذکر کیا۔
پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ریلیف کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل قرار دینے سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کو بتایا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کرنے کیلئے متبادل مالی وسائل کہاں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق پٹرولیم لیوی کے باعث عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے اور اس کے اثرات دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے طریقہ کار کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مذاکرات ختم کیے جاسکتے ہیں اور اس صورت میں احتجاجی لائحہ عمل جاری رکھا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر نے ڈیزل کی قیمتوں اور اس پر انحصار کرنے والے شعبوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور دیگر شعبے ڈیزل پر چلتے ہیں، اس لیے ڈیزل کی قیمت میں کمی سے متعلق بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
حکومتی اخراجات کم کرنے کا مطالبہ
حافظ نعیم الرحمن نے سرکاری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزرا اور سرکاری افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کے حوالے سے بھی کفایت شعاری کے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے دکانداروں اور تاجروں کو مبینہ دباؤ میں لانے کے اقدامات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پولیس کو دکانیں بند کرانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کا اعلان برقرار
امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والے مارچ کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل مرتب کرلیا ہے۔ ان کے مطابق اس لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان حافظ نعیم الرحمن 17 ستمبر کو لاہور میں ہونے والے جلسہ عام میں کریں گے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی پر مذاکرات کا آغاز 7 ستمبر کو ہوا تھا، جبکہ جماعت اسلامی نے لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔



