سیالکوٹ (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ دورہ پنجاب کے دوران انہیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی اور ایک مسلح شخص کو مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، جسے ان کی ذاتی سکیورٹی نے موقع پر پکڑ کر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کے حوالے کیا۔
اپنے ویڈیو بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ داڑھی والے ایک شخص کو انہیں قتل کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ ان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے اسے بروقت پکڑ لیا اور اس کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد ہوا، جس کے بعد اسے متعلقہ ایس ایچ او کے حوالے کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید دعویٰ کیا کہ جب ان کا قافلہ وزیرآباد پہنچا تو وہاں بھی قافلے کے پیچھے مبینہ طور پر قتل کی نیت سے سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کو بھیجا گیا۔ سہیل آفریدی کے مطابق ان کی سکیورٹی نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کو بھی پکڑ لیا اور اس سے پستول برآمد کرکے پولیس کے حوالے کردیا۔
سہیل آفریدی نے پنجاب انتظامیہ اور پولیس کے رویے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں آمد کے بعد ان کیلئے سکیورٹی کے حوالے سے متعدد خدشات پیدا ہوئے، جبکہ ان کا کھانا بھی پولیس نے چھین لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس گھر میں وہ قیام پذیر تھے، وہاں کی بجلی بھی مبینہ طور پر پیچھے سے منقطع کردی گئی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے ویڈیو بیان میں پنجاب انتظامیہ اور پولیس کے اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے۔



