بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

شہلا رضاجمہوری جدوجہد سے پارلیمانی کردار تک

تحریر:حافظ محمد صالح

پاکستان کی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان محض کسی ایک عہدے یا ایک انتخابی کامیابی تک محدود نہیں رہتی۔ وہ اپنی سیاسی جدوجہد، نظریاتی وابستگی اور پارلیمانی سفر کے باعث ایک مستقل حوالہ بن جاتی ہیں۔ شہلا رضا بھی ایسی ہی سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے طالب علمی کی سیاست سے سفر شروع کیا اورسندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکرپھر صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں کے منصب سے ہوتی ہوئیں قومی اسمبلی تک جا پہنچیں ۔

شہلا رضا نے سیاست میں قدم ایسے وقت میں رکھا جب سیاسی جماعتوں میں خواتین کی فعال شرکت آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل سمجھی جاتی تھی۔ طالب علمی کے زمانے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی نے ان کے سیاسی مزاج اور عملی سیاست کی سمت متعین کی۔ وقت کے ساتھ یہ وابستگی تنظیمی سرگرمیوں، خواتین کی سیاسی تنظیم سازی اور پھر پارلیمانی سیاست تک پہنچی۔

شہلا رضا کا سیاسی سفر 1986ءمیں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستگی کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ دستیاب سوانحی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے طالب علمی کے زمانے ہی میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بعد ازاں طلبہ تنظیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔وہ 2005 میں پیپلز پارٹی کراچی کی خواتین ونگ کی جنرل سیکر ٹری بنیں۔

ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم مرحلہ 2008 میں آیا، جب وہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئیں۔ 2013 میں انہیں دوبارہ اسی منصب کے لیے منتخب کیا گیا۔ یوں وہ سندھ اسمبلی کی تاریخ میں اس منصب پر دو مسلسل ادوار گزارنے والی نمایاں خواتین سیاست دان بنیں۔ڈپٹی اسپیکر کا منصب بظاہر ایوان میں اسپیکر کے بعد دوسرا پارلیمانی عہدہ ہے، مگر عملی طور پر یہ منصب ایوان کی کارروائی، ارکان کے درمیان توازن اور پارلیمانی نظم و ضبط کے حوالے سے خاص ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

شہلا رضا نے بطور ڈپٹی اسپیکراحسن طریقے سے اپنے فرائض ادا کیے۔ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ان کا کردار اس اعتبار سے بھی اہم رہا کہ پارلیمانی عہدہ محض سیاسی شناخت نہیں بلکہ ایوان کی کارروائی، ارکان کے حقوق اور جمہوری طریقہ کار کی پاسداری سے جڑا ہوتا ہے، اسی پارلیمانی تجربے نے ان کی سیاسی شناخت کو ایک کارکن سے قانون ساز اور پارلیمانی عہدیدار کے سفر میں تبدیل کیا۔

شہلا رضا کی سیاسی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو خواتین کے حقوق اور ان کے سماجی و قانونی مسائل سے متعلق سرگرمیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قوانین کے بارے میں عوامی آگاہی اور ان پر مو¿ثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ سندھ کی وزیر برائے ترقی نسواں کی حیثیت سے بھی ان کا تعلق خواتین کے تحفظ، مساوی مواقع اور صنفی مساوات سے متعلق حکومتی پالیسیوں سے رہا۔انہوں نے خواتین کے خلاف امتیاز اور تشدد کے خاتمے، تعلیم، روزگار، مالی خودمختاری، تحفظ اور مساوی مواقع کے لیے پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خواتین کی فلاح کے حوالے سے سندھ کے ادارہ جاتی اقدامات میں خواتین کے لیے بحران مراکز، دارالامان اور محفوظ پناہ گاہوں کے نظام میں بھی شہلا رضا کا مرکزی کردار ہے۔

2024ءمیں شہلا رضا نے قومی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایاجبکہ وہ قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹیوں میں بین الصوبائی رابطہ، موسمیاتی تبدیلی، انسدادِ منشیات، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اور اقتصادی امور سے متعلق کمیٹیاں شامل ہیں۔ یہ سفر اس لحاظ سے قابلِ توجہ ہے کہ ایک سیاسی کارکن نے طلبہ سیاست سے پارلیمانی سیاست تک کئی مراحل طے کیے۔ اس دوران ان کی شناخت سندھ کی سیاست، خواتین کی نمائندگی اور پارلیمانی اداروں سے جڑی رہی۔

ان کے سیاسی سفر کو دیکھیں تو ایک طرف جمہوری سیاست میں طویل وابستگی دکھائی دیتی ہے اور دوسری طرف خواتین سے متعلق قانون سازی، آگاہی اور ادارہ جاتی اقدامات ان کے سیاسی کردار کا اہم حصہ نظر آتے ہیں۔پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی صرف انتخابات کے انعقاد سے نہیں بلکہ پارلیمان کے مو¿ثر کردار، سیاسی اختلاف کے آئینی اظہار، قانون سازی اور عوامی مسائل کو ایوان تک پہنچانے سے بھی وابستہ ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ ریکارڈ میں شہلا رضا کی مختلف قائمہ کمیٹیوں میں شمولیت اس پارلیمانی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے۔

شہلا رضا کے سیاسی سفر کا ایک نمایاں پہلو استقامت ہے۔ طالب علمی کی سیاست سے شروع ہونے والا سفر صوبائی اسمبلی کے ایوان تک پہنچا، وہاں ڈپٹی اسپیکر کے منصب تک گیا اور پھر قومی اسمبلی تک جا پہنچا۔ اس پورے عرصے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی برقرار رہی۔

یہ تسلسل پاکستانی سیاست میں اپنی جگہ ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔مگر سیاست میں کسی شخصیت کی اصل اہمیت صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ اس نے کتنے عہدے حاصل کیے۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے ان عہدوں کو کس طرح استعمال کیا، پارلیمانی اداروں میں اس کا طرزِ عمل کیا رہا، قانون سازی میں اس کی شرکت کتنی رہی اور عوامی مسائل کو ایوان تک پہنچانے میں اس کا کردار کیا تھا۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب وقت، پارلیمانی ریکارڈ اور سیاسی تاریخ سے ملتے ہیں۔

شہلا رضا کے سفر کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے سیاسی دور کی نمائندہ ہیں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کی سیاست میں ایک مستقل سیاسی قوت کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھااور جس میں خواتین نے بھی بتدریج پارلیمانی سیاست میں اپنی جگہ مستحکم کی۔شہلا رضا کی سیاسی زندگی اور جمہوریت کے لیے کی جانے والی جدو جہد پاکستانی خواتین کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button