اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ واضح ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کو روکا جائے۔ ان کے مطابق اگر افغان طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغانستان یا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں بلکہ مسئلہ ان عناصر سے ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
افغان طالبان دہشتگردی روکنے میں مثبت کردار ادا کریں: ترجمان پاک فوج
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ وعدے پورے نہیں کیے جاتے تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کا راستہ موجود ہے، تاہم اس کے لیے کابل کو سرحد پار دہشتگردی کے مسئلے پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
دہشتگردوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان دہشتگردوں سے بات چیت نہیں کرتا اور ان کے خلاف کارروائی ریاستی پالیسی کے مطابق جاری رہے گی۔
بلوچستان میں دہشتگردی کی بھارتی سرپرستی کا الزام
بلوچستان میں دہشتگردی کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور وہ طاقت کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مہم بیرون ملک سے چلائی جا رہی ہے۔ یہ مؤقف پاکستانی عسکری حکام کی جانب سے بیان کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم
عرب نیوز کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ پاکستان سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور پاکستان خطے میں امن کے لیے اس پر عمل درآمد کی کوشش جاری رکھے گا۔



