پشاور (ویب ڈیسک) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی ترجیح دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ 22 سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، تاہم وفاقی حکومت کی دہشتگردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہدا نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور ہمدردی بھی کیا۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں: سہیل آفریدی
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبہ طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسی پیش کر رہی ہے، لیکن اس پر توجہ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقات
دریں اثنا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران 27 ستمبر کی کال کو آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم سیاسی جدوجہد کے طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔



