لاہور (ویب ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق علیمہ خان کو 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو لاہور میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جم خانہ جا رہی تھیں۔ گرفتاری کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ ان کی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی ہے۔
علیمہ خان کی گرفتاری پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور خاندان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ نورین خان نیازی نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کی گرفتاری 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر ایک اہم دن ہوگا اور عمران خان کی رہائی کی تحریک جاری رہے گی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کی گرفتاری کو کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مارچ پرامن اور سیاسی ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے علیمہ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی علیمہ خان کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف کا مقابلہ سیاسی نظریے اور سیاست کے ذریعے ہونا چاہیے اور خواتین کو گرفتار کرکے سیاسی اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان نے بھی علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ترجمان کے مطابق سیاسی اختلاف کا جواب گرفتاریوں کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاری کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا سے قافلہ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ مختلف بڑے شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے کارکن اہم شاہراہوں پر احتجاج کریں گے اور خیبرپختونخوا کے قافلے کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سے متعلق تفصیلی منصوبہ مارچ سے چند روز قبل بتایا جائے گا۔
ادھر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے مردان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اسلام آباد کی جانب مختلف راستوں سے جائے گی اور ماضی کی طرح احتجاج ختم کرکے واپس نہیں آئے گی۔ جنید اکبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ہم اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے۔”
پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظر ارکان اسمبلی کو خیبرپختونخوا سے باہر نہ جانے کی ہدایت بھی کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب سے بھی بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کے خیبرپختونخوا پہنچنے کا امکان ہے



