
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) لاہور کی بہترین اور جدید ترین ٹرانسپورٹ سہولت ‘اورنج لائن میٹرو ٹرین’ کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈز کی زندگیاں اجیرن ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق اورنج لائن میں سیکیورٹی کا ٹھیکہ رکھنے والی نجی کمپنی "سیکیورٹی 2000” (Security 2000) کی جانب سے ملازمین کا شدید ذہنی ،معاشی و جسمانی استحصال کیا جا رہا ہے،حکومت پنجاب کے وضع کردہ لیبر قوانین اور کم از کم اجرت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔

سرکاری اجرت میں ڈکیتی: 40 ہزار کے بجائے صرف 37 ہزار کی ادائیگی کی جارہی ہے۔حکومتِ پنجاب کی جانب سے طے شدہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں عام مزدور اپنا پیٹ پال سکے۔ لیکن اورنج لائن پر ڈیوٹی دینے والے سیکیورٹی گارڈز کے مطابق کمپنی انہیں مقررہ رقم دینے کے بجائے صرف 37 ہزار روپے ماہانہ ادا کر رہی ہے۔ ہر گارڈ کی تنخواہ سے ماہانہ 3 ہزار روپے کی کٹوتی کر کے لاکھوں روپے کی دیہاڑی کمپنی کی جیبوں میں جا رہی ہے۔

جبر ی اوورٹائم بغیر پیسے دیے 8، 8 گھنٹے اضافی ڈیوٹی لی جارہی ہے،مظلوم ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی انتظامیہ ان سے زبردستی اوور ٹائم کرواتی ہے۔ مہینے میں 6 سے 8 بار گارڈز سے 8، 8 گھنٹے کا اضافی اوور ٹائم تو لیا جاتا ہے لیکن اس مشقت کا ایک روپیہ بھی گارڈز کو ادا نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی گارڈ اوور ٹائم کرنے سے انکار کرے تو اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

مہینے میں صرف ایک چھٹی، دوسری چھٹی پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ کیا جارہا ہے،لیبر قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کمپنی نے ملازمین کو مہینے میں صرف ایک چھٹی کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر کوئی ملازم شدید مجبوری یا بیماری کے باعث مہینے میں دوسری چھٹی کر لے، تو اس پر ظلم کا پہاڑ توڑتے ہوئے تنخواہ سے 5,000 روپے کی زبردستی کٹوتی کر لی جاتی ہے۔
حکومتِ پنجاب کی طرف سے عیدین، عاشورہ یا دیگر قومی تعطیلات کے موقع پر جہاں عام سرکاری و نجی ملازمین کو چھٹیاں دی جاتی ہیں، وہاں اورنج لائن کے سیکیورٹی گارڈز کے لیے کوئی تعطیل نہیں ہوتی۔ ان تہواروں پر اضافی کام کا معاوضہ دینا تو دور کی بات، معمولی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

متاثرہ سیکیورٹی گارڈز نے وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اورنج لائن پر تعینات سیکیورٹی 2000 کمپنی کے اس کھلے ظلم اور قانون شکنی کا فوری نوٹس لیں، غریب گارڈز کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہ حکومتِ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق 40 ہزار روپے یقینی بنائی جائے،ماضی میں کاٹی گئی تمام رقم اور واجب الادا اوور ٹائم کے پیسے فوراً ادا کیے جائیں۔
غیر قانونی کٹوتیوں اور ایک سے زائد چھٹی پر 5 ہزار روپے کے بلاجواز جرمانے کا خاتمہ کیا جائے،کمپنی کے خلاف لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
قبل ازیں رواں سال پنجاب حکومت نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا،نوٹیفکیشن کےمطابق مزدوروں کو 26 ورکنگ ڈیز کی کم ازکم اجرت 40 ہزار روپے دی جایا کرے گی۔
وزارت لیبر و افرادی قوت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ 8 گھنٹے کام کرنے پر 1538.46 روپے اجرت دی جایا کرےگی۔
وزارت کے مطابق پنجاب حکومت مزدوروں کی فلاح و بہبودکے لیے کام کر رہی ہے۔
وزیر لیبر و افرادی قوت پنجاب نے کہاکہ محکمہ لیبر ویلفیئر کم ازکم اجرت کے حکم نامے پر عمل درآمد کرائے اورکم ازکم اجرت پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔



