کراچی، لاہور (ویب ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کا ’’سپر ٹرین مارچ‘‘ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا۔
مارچ کے شرکا حیدرآباد، روہڑی، سکھر سمیت مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں جماعت اسلامی نے احتجاجی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔
سپر ٹرین مارچ کی روانگی سے قبل کراچی پریس کلب چوک پر جماعت اسلامی کا 35 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا گیا۔ دھرنے کے شرکا، جن میں خواتین اور نوجوان بھی شامل تھے، ریلی کی صورت میں کراچی کینٹ اسٹیشن پہنچے، جہاں مارچ کی روانگی کے موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
کراچی کینٹ اسٹیشن پر مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ ان کے مطابق سفید پوش اور متوسط طبقہ معاشی مشکلات کا شکار ہے، اس لیے حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کی جائے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے حکومتی اخراجات، اشرافیہ کی مراعات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے۔
انہوں نے بڑی گاڑیوں کے استعمال سمیت دیگر غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئی پی پیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز سمیت مختلف شعبوں میں حکومتی نمائندگی کے باوجود عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل رہا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں مافیاز کے اثر و رسوخ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کے باعث عام آدمی مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام ہر بوجھ خاموشی سے برداشت کرتے رہے تو مسائل مزید بڑھیں گے، اسی لیے جماعت اسلامی نے عوامی حقوق کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہے اور عوامی مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور یہ احتجاج حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔



