پاکستانتازہ ترینکاروبار

پاکستان، ڈنمارک کا تجارت، آئی ٹی اور توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ڈنمارک کی سفیر ماجا ڈیروس مورٹینسن کی مشیر سرمایہ کاری بورڈ سید فیروز عالم شاہ سے ملاقات، گرین انرجی، آئی ٹی، تجارت اور پائیدار ترقی پر تبادلہ خیال

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان اور ڈنمارک نے تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، گرین انرجی، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان میں تعینات ڈنمارک کی سفیر ماجا ڈیروس مورٹینسن نے حکومت پاکستان کے مشیر سرمایہ کاری بورڈ سید فیروز عالم شاہ سے ملاقات کی۔ خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات کے دوران پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

ملاقات میں گرین انرجی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی سمیت افرادی قوت کی ترقی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔

ڈنمارک کی سفیر ماجا ڈیروس مورٹینسن نے کہا کہ ڈنمارک پاکستان کے ساتھ جاری تین سالہ شراکت داری پروگرام کے تحت گرڈ پلاننگ، ڈیٹا سسٹمز اور توانائی کی کارکردگی سے متعلق اصلاحات میں تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک کی کمپنیاں پاکستان کے زرعی اور آئی ٹی شعبوں میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان پائیدار بندرگاہوں اور مارسک کے ٹرانس شپمنٹ پورٹ کے حوالے سے بھی اہم شراکت داری کے معاہدے موجود ہیں۔ ان شراکت داریوں کا مقصد ماحول دوست سمندری ٹیکنالوجیز کے ذریعے پاکستان کے سمندری ڈھانچے کو جدید بنانا، بندرگاہی آپریشنز کو بہتر کرنا اور توانائی کی بچت پر مبنی شپنگ کو فروغ دینا ہے۔

مشیر سرمایہ کاری بورڈ سید فیروز عالم شاہ نے پاکستان کے ساتھ ڈنمارک کی دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ڈنمارک کی سفیر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی اور نئی مارکیٹوں تک رسائی کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے ساتھ پاکستان اور ڈنمارک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

سید فیروز عالم شاہ نے کہا کہ پاکستان ماحول دوست سمندری طریقہ کار اپنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے۔ پائیدار سمندری ٹیکنالوجیز کے استعمال سے پاکستانی بندرگاہوں کی ماحولیاتی کارکردگی بہتر ہوگی، جبکہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع کو بندرگاہی آپریشنز میں شامل کرنے سے فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔

ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے کر دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button