
لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں سرکاری افسروں کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے لگژری رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔ پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) نے منصوبے کی مجموعی لاگت 4 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد تجویز کی ہے، جسے رواں مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق منصوبہ لاہور کینٹ کی برکی روڈ پر 60 کنال ایک مرلہ سرکاری اراضی پر تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت سرکاری افسروں کے لیے 24 دو بیڈ روم اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
مجوزہ اپارٹمنٹ بلڈنگ بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور چھ منزلوں پر مشتمل ہوگی، جبکہ صرف اپارٹمنٹ عمارت کی تعمیر پر 2 ارب 5 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق اپارٹمنٹس میں وی آئی پی جم، لائبریری، انڈور گیمز، سیمینار روم، وی آئی پی ایگزیکٹو لاؤنج اور کیفے سمیت مختلف سہولیات فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

منصوبے میں ایک الگ کنونشن ہال بھی تعمیر کرنے کی تجویز ہے، جس کی لاگت 54 کروڑ 72 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ کنونشن ہال کا مجوزہ رقبہ تقریباً 40 ہزار 246 مربع فٹ ہوگا۔
رہائشی منصوبے میں 164 گاڑیوں اور 47 موٹر سائیکلوں کے لیے سرفیس پارکنگ کی سہولت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹرز کے لیے 14 کروڑ 51 لاکھ روپے جبکہ سولر سسٹم کے لیے 5 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق بیرونی تعمیراتی کاموں پر 33 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد، فرنیچر پر 15 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد جبکہ جم کے آلات کے لیے ایک کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D) کی ٹیکنیکل ونگ نے منصوبے کی مجموعی لاگت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ٹیکنیکل ونگ نے لفٹوں، عمارت کو ٹھنڈا اور گرم رکھنے کے نظام، بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز، سولر سسٹم، متبادل بجلی کے انتظامات اور دیگر مہنگی سہولیات کی لاگت کا دوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔
پی ڈی ڈبلیو پی فورم نے بھی منصوبے کی 4 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد مجموعی لاگت کو زیادہ قرار دیا ہے۔ دستاویز کے مطابق منصوبے کو 24 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔



