
پاکستان میں ہر کام ‘سیزنل’ ہوتا ہے اور سیزن ختم ہونے کے بعد پھر وہی پرانی روٹین لوٹ آتی ہے۔ اسی لیے لوگ ان سیزنل کارروائیوں کو زیادہ سیریس نہیں لیتے اور نہ ہی انہیں کوئی اہمیت دیتے ہیں۔مثال کے طور پر ٹریفک پولیس اکثر مختلف ‘ہفتے’ مناتی رہتی ہے؛ کبھی خوش اخلاقی کا ہفتہ، کبھی سیٹ بیلٹ باندھنے کا، تو کبھی لائن فالو کرنے کا ہفتہ۔
‘ہفتہ خوش اخلاقی’ کے دوران افسران اور ماتحت عملہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر شہریوں میں پھول تقسیم کر رہے ہوتے ہیں، لیڈیز وارڈنز بھی ماحول کو خوشگوار بنانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ چند دنوں تک تصاویر بنوائی جاتی ہیں، میڈیا میں خوب کوریج حاصل کی جاتی ہے اور پھر وہی پولیس گردی دوبارہ لوٹ آتی ہے۔
اسی طرح کبھی ڈرائیورز کے لیے سیٹ بیلٹ کی مہم چلتی ہے، کبھی لائن کی پابندی اور گاڑیوں کی فٹنس کے نام پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی شامت آ جاتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ایک مہم شروع ہوتی ہے تو باقی تمام قواعد و ضوابط یکسر بھلا دیے جاتے ہیں۔ یہی حال تجاوزات کے خلاف مہم کا ہے؛ جن دنوں مہم جاری ہو، سخت سے سخت کارروائی ہوتی ہے لیکن مہم کے ختم ہوتے ہی تجاوزات دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں۔
ہمارے ہاں مسائل کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمارا مزاج مستقل ہے اور نہ ہی ہمارا نظام۔ ہم پچھلے 79 سالوں سے ملک کو ‘ڈنگ ٹپاؤ’ اور دکھاوے کی پالیسیوں پر چلا رہے ہیں۔آج کل پنجاب میں رشوت خوروں کی شامت آئی ہوئی ہے اور انسدادِ رشوت ستانی کی ایک زوردار مہم جاری ہے۔ روزانہ درجنوں کی تعداد میں رشوت خور پکڑے جا رہے ہیں۔ چونکہ رشوت ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے، اس لیے نہ تو رشوت دینے والا اسے معیوب سمجھتا ہے اور نہ ہی لینے والا۔ بلکہ لینے والا تو اسے اپنا بنیادی حق تصور کرتا ہے اور اس کے بغیر کام کرنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ وہ اپنی ماہانہ تنخواہ کو محض جیب خرچ اور رشوت کو اپنی اصل کمائی مانتا ہے۔ جس دن اوپر کی آمدن نہ ہو، کہا جاتا ہے: "اج تے دیہاڑی نئیں لگی!”
جائز کاموں میں بھی جان بوجھ کر روڑے اٹکائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو رشوت دینے پر مجبور کیا جا سکے، اور اب تو ہر کوئی سرعام کہتا ہے کہ "لاؤ بھائی، فیس نکالیں!” سرکاری اہلکاروں کو اچھی طرح علم ہے کہ پنجاب حکومت نے رشوت خوروں کے خلاف سخت مہم شروع کر رکھی ہے اور سوچنا چاہیے کہ چند دن صبر کر لیا جائے، لیکن سرکاری ملازم کا موقف یہ ہے کہ رشوت کے بغیر ان کا گزارا ہی نہیں۔
پھر اس رشوت خوری کو جائز قرار دینے کے لیے کم تنخواہوں اور کام کی زیادتی جیسے بیسیوں تاویلیں اور رو نے روئے جاتے ہیں۔
انسدادِ رشوت ستانی مہم کے تحت روزانہ درجنوں اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود رشوت خوری میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک پکڑے جانے والے تمام افراد چھوٹے رینک کے ملازمین ہیں۔ ان کارروائیوں سے تاثر یہی ملتا ہے کہ گویا تمام نچلا طبقہ فاسد اور رشوت خور ہے، جبکہ تمام ‘افسرانِ بالا’ دودھ کے دھلے اور پاکباز ہیں جنہوں نے کبھی رشوت کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔ موجودہ مہم نے تمام بڑے افسران کو نیکی اور پاکبازی کا سنہری سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔
حالانکہ نچلے درجے کا رشوت خور اگر ساری زندگی کی رشوت بھی اکٹھی کر لے، تو وہ ایک ‘پراجیکٹ ڈائریکٹر’ کے ایک ہی منصوبے میں مارے جانے والے ‘لمبے ہاتھ’ کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو ایک ہی جھٹکے میں اربوں روپے سمیٹ لیتا ہے۔ لیکن جو افسران کروڑوں اور اربوں کی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں، وہ اس رشوت خوری کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ عام ملازمین کی طرح ‘چولیں’ نہیں مارتے؛ ان کا طریقہ واردات انتہائی فول پروف، خاموش اور ‘عزت دارانہ’ ہوتا ہے۔ چھوٹے ملازم کم رشوت لیتے ہیں اور بدنام زیادہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس مہم میں اب تک ایک بھی بڑا افسر رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا گیا۔
یہی صورتحال ہمارے نظامِ انصاف کی ہے جہاں صرف چھوٹا طبقہ ہی تمام برائیوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس نے فوری انصاف کے نام پر ‘نیفہ جسٹس’ متعارف کروایا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر خواتین نچلے طبقے کی بدمعاشیوں سے محفوظ ہو گئیں۔ پنجاب بھر میں سیکڑوں کی تعداد میں خواتین کو تنگ کرنے والوں کے نیفوں میں پستول چل چکے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اگر امیر زادے یا بااثر طبقے کے بگڑے رئیس خواتین کو اغوا کریں، ان کے ساتھ گینگ ریپ کریں، زبردستی اٹھا کر لے جائیں، کسی کے گھر میں گھس جائیں یا معمولی تکرار پر فائرنگ کر کے جان لے لیں تو ان کے ‘نیفے’ ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔
نہ وہ پکڑے جاتے ہیں، نہ ان کے ساتھی انہیں چھڑوانے آتے ہیں اور نہ ہی وہ پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوا کہ خرافات کی اصل جڑ صرف عام آدمی ہے جس نے خواص کو بدنام کر رکھا ہے! موجودہ کارروائیوں نے تمام صاحبِ حیثیت لوگوں کو شرافت کی سند دے دی ہے، جبکہ عام آدمی کو اپنا کردار کا سرٹیفکیٹ (Character Certificate) بنوانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔
سفارش، میرٹ کی خلاف ورزی، اقربا پروری، بے جا پروٹوکول اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی رشوت ہی کے ہم پلہ جرائم ہیں، لیکن ایلیٹ کلاس اسے اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے۔ ابھی گریڈ 19 کے افسران کی ترقی کے لیے ‘سٹاف کورس’ جاری ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق کورس پر جانے والے افسر کو اپنا چارج چھوڑنا ہوتا ہے، لیکن متعدد بااثر افسران کورس کے ساتھ ساتھ اپنی پوسٹ کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان خواص کے لیے کوئی قانون اور ضابطہ نہیں ہے، تو کیا باقی افسران محض نمائش کے لیے ہیں؟
جہاں آپ قواعد و ضوابط پر سمجھوتہ کریں گے، وہیں سے تباہی اور خرافات کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک اصول اور ضوابط امیر و غریب، اور افسر و ماتحت کے لیے ایک جیسے نہیں ہوں گے، تب تک معاشرے میں کوئی بہتری نہیں آسکتی—ورنہ یہی ‘چل چلاؤ’ کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔



